تحریر: محمد علم اللہ، لندن
حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، زیرِ نظر تبصرے میں محمد علم اللہ نے اس ضخیم کتاب کو محض واقعات اور اعداد و شمار کا مجموعہ قرار دینے کے بجائے ہندوستان میں ہجومی تشدد، قانون کی حکمرانی، اقلیتوں کے تحفظ، میڈیا اور سوشل میڈیا کے کردار اور انصاف کے عمل سے متعلق ایک اہم دستاویزی کوشش کے طور پر دیکھا ہے۔ تقریباً ساڑھے سات سو صفحات پر مشتمل یہ کتاب مئی ۲۰۱۴ء سے مئی ۲۰۲۴ء تک کے ۱۷۴۳ واقعات کو زمانی اور جغرافیائی ترتیب سے پیش کرتی ہے۔ تبصرہ نگار نے کتاب کے تحقیقی پہلوؤں کے ساتھ اس کی حدود، اعداد و شمار کی پیچیدگی اور مختلف محرکات کو بھی سامنے رکھا ہے، تاکہ ہندوستان میں ہجوم کے تشدد کے مسئلے کو ایک وسیع اور متوازن تناظر میں سمجھا جا سکے۔
ہجوم، انصاف اور ہندوستان،ایک عہد کی دستاویزی روداد
کہتے ہیں کہ کسی بڑے کام کو انجام دینے کے لیے صرف صلاحیت کافی نہیں ہوتی؛ اس کے لیے جنون، استقامت اور ایک ایسی ضد درکار ہوتی ہے جو آدمی کو بار بار گرنے کے باوجود اسی کام کی طرف واپس لے آئے۔ خاص طور پر جب کام تحقیق، دستاویز سازی اور تاریخ کے ایسے حسّاس باب سے متعلق ہو جس کے واقعات صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ انسانی جانوں، خاندانوں کے المیوں، سماجی خوف اور سیاسی کشمکش سے عبارت ہوں، تو اس کی تکمیل ایک فرد کے معمول کے تحقیقی کام سے کہیں بڑھ کر ایک طویل اور صبر آزما مہم بن جاتی ہے۔
ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کی مرتب کردہ انگریزی کتاب ”ہندوستان میں ہجوم کے ہاتھوں قتل: ۲۰۱۴ء تا ۲۰۲۴ء کا ریکارڈ“ اسی نوعیت کی ایک غیرمعمولی دستاویزی کاوش ہے۔ تقریباً ساڑھے سات سو صفحات پر مشتمل یہ ضخیم کام بظاہر ایک رپورٹ ہے، مگر اپنی وسعت، واقعات کی کثرت، زمانی و جغرافیائی ترتیب اور معاون مواد کے اعتبار سے ایک موسوعاتی ریکارڈ کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ مئی۲۰۱۴ء سے مئی ۲۰۲۴ء تک کے عشرے میں ہندوستان میں ہجوم کے تشدد اور ماب لِنچِنگ کے نام سے درج کیے گئے ۱۷۴۳ واقعات کو یکجا کرنا کوئی معمولی کام نہیں، اور اسی لیے اس کے مرتب اور پوری تحقیقی ٹیم کی محنت توجہ اور اعتراف کی مستحق ہے۔
اس کتاب کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے یہ بات پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ انسانی حقوق کی بحث میں جذبات اپنی جگہ، مگر اعداد و شمار کی اپنی ایک طاقت ہوتی ہے۔ کسی معاشرے میں ظلم، تشدد، امتیاز یا اقلیتوں کے خلاف زیادتی کی شکایت اس وقت زیادہ مؤثر شہادت بن جاتی ہے جب اس کے ساتھ تاریخ، مقام، متاثرین، واقعاتی تفصیل، قانونی کارروائی اور دستیاب شواہد کا منظم ریکارڈ بھی موجود ہو۔ ہمارے یہاں اکثر یہ شکایت سننے کو ملتی ہے کہ ظلم و ستم کے واقعات تو بہت ہوتے ہیں، مگر ان کا باقاعدہ ڈیٹا محفوظ نہیں کیا جاتا، نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ چند برس گزرنے کے بعد واقعات حافظے کا ایک دھندلا حصہ تو رہتے ہیں، مگر ان کے قابلِ حوالہ شواہد تلاش کرنا دشوار ہو جاتا ہے، اس لیے معاندین کے لیے بعد میں ان کا انکار آسان ہو جاتا ہے۔ اس اعتبار سے یہ کتاب ایک اہم خلا پُر کرنے کی کوشش ہے، جسے آئندہ محققین، صحافی، انسانی حقوق کے کارکن اور سماجی علوم کے طالب علم مزید تحقیق کے نقطۂ آغاز کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔
کتاب کے مطابق اس منصوبے میں محمدضیاء الحق، شاہین نظر، طلحہ چودھری، سلمان نقوی، غفران اسدی اور ظِلُّ الرحمٰن حیدر بطور محققین، ندیم احمد بطور دستاویزی معاون اور محبوب خان بطور ٹائپوگرافر وابستہ رہے۔ اس کے علاوہ اسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سِوِلرائٹس، اِنڈین مُسْلِمز فار سِوِل رائٹس، کویل فاؤنڈیشن، فورم فار ایڈووکیسی اینڈ ریسرچ اور ساؤتھ ایشین مائنارٹیز لائرز ایسوسی ایشن کی معاونت بھی اس کام کے پس منظر میں موجود ہے، جبکہ اسے نئی دہلی کے معروف ناشر فاروس میڈیا نے شائع کیا ہے۔ یوں دیکھا جائے تو یہ دراصل ایک فرد کی محنت سے کہیں بڑھ کر ایک اجتماعی تحقیقی منصوبہ ہے، جسے ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نےاپنی محنت سے مرتب ومدون کرکے ایک مربوط اور قابلِ حوالہ دستاویز کی شکل دے دی ہے۔
ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کے تحقیقی مزاج سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ وہ محض کسی موضوع کو چھو کر گزر جانے کے قائل نہیں۔ ان کے یہاں مواد جمع کرنے، اسے ترتیب دینے اور حتی الامکان تفصیلات کو درست طریقے سے محفوظ کرنے کا رجحان نمایاں ہے۔ اسی لیے ماب لِنچِنگ جیسے بکھرے ہوئے اور مسلسل بدلتے ہوئے موضوع پر ایک عشرے کا ریکارڈ مرتب کرنا خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ایسے کام میں اصل دشواری صرف واقعات کی تعداد نہیں ہوتی، بلکہ یہ طے کرنا بھی ہوتا ہے کہ کس واقعے کو شامل کیا جائے، مختلف خبروں میں موجود تضادات کو کس طرح دیکھا جائے، واقعے کے بعد پولیس اور عدالت کا رویّہ کیا رہا، متأثرہ خاندان کا موقف کیا تھا اور بعد کی پیشرفت کو اصل واقعے سے کس طرح مربوط کیا جائے۔ اس نوعیت کے کام میں ایک واقعہ خود ایک مکمل فائل بن جاتا ہے، اور جب ایسے واقعات کی تعداد ہزاروں میں پہنچ جائے تو انہیں جمع کرنا، جانچنا، درجہ بند کرنا اور ایک مربوط دستاویز میں ڈھالنا اپنی جگہ ایک بڑا تحقیقی کام ہے۔
کتاب کا بنیادی موضوع مئی ۲۰۱۴ء سے مئی ۲۰۲۴ء تک ہندوستان میں ہجوم کے ہاتھوں ہونے والے تشدد کا ریکارڈ ہے۔ ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کے مطابق یہ اس عرصے میں سامنے آنے والے ۱۷۴۳ واقعات کا دستاویزی مجموعہ ہے۔ کتاب میں واقعات کے ساتھ ان کے سیاسی، سماجی اور قانونی پس منظر کو بھی زیرِ بحث لایا گیا ہے۔کتاب کے شروع میں ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کا تقریباً سو صفحات پر مشتمل مقدمہ خاصا اہم ہے، جس میں ماب لِنچِنگ کے تاریخی پس منظر، ہندوستانی صورتِ حال، قانون، شہری معاشرے اور اس رجحان کے ممکنہ اسباب پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔ اس کے بعد کتاب واقعات کے وسیع ریکارڈ، قانونی و انتظامی پہلوؤں، چارٹس اور دیگر معاون مواد کی طرف بڑھتی ہے۔ دادری میں محمد اخلاق کے واقعے پر حقائق کی جانچ پر مبنی رپورٹ، بعض اخبارات کے اداریے، اختصارات وفرہنگ اور مزید مطالعے کے لیے فراہم کیا گیا مواد بھی کتاب کی مجموعی ساخت کا حصہ ہے۔ یوں اس کے تقریباً پورے حجم پر محیط ”۲۰۱۴ء تا ۲۰۲۴ء ماب لِنچِنگ کے واقعات“ کا حصہ اس منصوبے کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ اسی میں وہ واقعاتی مواد محفوظ کیا گیا ہے جس پر کتاب کا وسیع تر تجزیہ قائم ہوتا ہے۔
کتاب کی ایک اہم خوبی اس کی زمانی اور جغرافیائی ترتیب ہے۔ واقعات کو تاریخی لحاظ سے ترتیب دیا گیا ہے۔ اس سے ایک محقق کے لیے یہ دیکھنا آسان ہو جاتا ہے کہ مختلف ادوار میں ہجوم کے تشدد کی نوعیت کیا رہی۔ واقعات کے بعد ایف آئی آر، عدالتی کارروائی اور سزا یا بریّت کی صورتِ حال کی بعد کی پیش رفت بھی اس دستاویزی منصوبے کو محض اخباری تراشوں کے مجموعے سے آگے لے جاتی ہے۔ حتیالامکان، انسانی حقوق کی تنظیموں کی حقائق یابی رپورٹس، مقامی ذرائع، متأثرہ خاندانوں اور عینی شاہدین کی رودادوں کو بھی تحقیق کے دائرے میں لانے کی کوشش کی گئی ہے اور کچھ غیرمعمولی واقعات جیسے محمداخلاق، ناصر و جنید، پہلوخان، رکبر اور مظلوم انصاری وغیرہ کی لنچنگ کو کافی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
کتاب کی تیاری میں موقر اخبارات، ڈیجیٹل ذرائعِ ابلاغ، انسانی حقوق کی حقائق یابی رپورٹس، مقامی ذرائع، متأثرہ خاندانوں اور عینی شاہدین کے بیانات اور قانونی کارروائی کی بعد کی پیش رفت سے استفادہ کیا گیا ہے اور دہلی کے اخبارات، بعض خبری ذرائع اور سوشل میڈیا کی پوسٹوں کو کھنگال کر واقعات جمع کیے گئے۔ وسائل کی کمی کے باعث ملک کے ہر تھانے، ہر مقامی اخبار اور مختلف علاقائی زبانوں کے ذرائع تک رسائی ممکن نہ ہونے کا اعتراف بھی کیا گیا ہے۔ یہ اعتراف کتاب کی تحقیقی دیانت داری کی علامت ہے۔ اسی طرح پولیس یا جیل میں ہونے والی ہلاکتوں اور اِنکاؤنٹرز کو اس مطالعے سے الگ رکھنے کا ذکر بھی اہم ہے۔ انہیں کسی الگ تحقیق کا موضوع بنانے کی بات کی گئی ہے۔ یہ حد بندی واضح کرتی ہے کہ کتاب میں ”ہجوم کے تشدد“ سے مراد ایک مخصوص دائرۂ کار میں آنے والے واقعات ہیں، نہ کہ ہندوستان میں ہونے والی ہر غیرقانونی یا مشتبہ ہلاکت۔
کتاب کے بیانیے میں ۲۰۱۴ء ایک فیصلہ کن موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ محقق کے مطابق مئی ۲۰۱۴ء میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد ماب لِنچِنگ میں نمایاں اضافہ ہوا، بالخصوص مسلمانوں کے خلاف تشدد میں، اور اس رجحان کو ہندوتوا کی سیاست، گئورکشا کے نام پر سرگرم گروہوں، پولیس کی بےعملی اور بعض حالات میں مجرموں کو حاصل ہونے والے سیاسی و سماجی تحفظ سے جوڑا گیا ہے۔ کتاب کے تعارف اور مقدمے میں ہجوم کے تشدد کو ایک ”نئی قسم کی دہشت گردی“ قرار دیا گیا ہے اور ”لِنچستان“ جیسی اصطلاح بھی استعمال کی گئی ہے۔ ڈاکٹرظفرالاسلام کے مطابق ماب لِنچِنگ محض کچھ افراد کے بےقابو ہو جانے کا نام نہیں، بلکہ بعض واقعات ایک ایسے ماحول کی علامت ہیں جس میں خوف کو اجتماعی سطح پر سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
۲۰۱۴ء کو ہندوستان میں ہجوم کے تشدد یا اجتماعی قتل کے وسیع تر تاریخی پس منظر میں دیکھیں تو تقسیمِ ہند کے دوران بڑے پیمانے پر ہونے والے فسادات، ۱۹۸۴ء کا سکھ مخالف تشدد، ۲۰۰۲ء کا گجرات تشدد اور اس سے پہلے اور بعد کے متعدد فرقہ وارانہ واقعات اس بات کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ ہجوم، فرقہ واریت اور اجتماعی تشدد ہندوستانی تاریخ میں ۲۰۱۴ء سے پہلے بھی موجود رہے ہیں۔ اس لیے ۲۰۱۴ء کو ایک سیاسی، سماجی یا ابلاغی موڑ کے طور پر دیکھنا زیادہ محتاط تعبیر ہے، نہ کہ ہجوم کے تشدد کی پیدائش کے سال کے طور پر۔
اسی ضمن میں امریکہ میں افریقی نژاد امریکیوں کے خلاف تاریخی لِنچِنگ سے تقابل کیا گیا ہے اور ایڈا بی ویلز بارنیٹ کی اس تشریح کو پیش کیا گیا ہے کہ ایسے قتل کا مقصد صرف ایک شخص کو ختم کرنا نہیں بلکہ پوری برادری میں خوف پیدا کرنا اور اس کی آزادی کی حدود متعین کرنا بھی ہوتا ہے۔ ہندوستانی تناظر میں کتاب اسی تصور کو مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف ہونے والے ہجومی تشدد پر منطبق کرتی ہے۔ یہ تقابلی زاویہ اس اعتبار سے اہم ہے کہ وہ ماب لِنچِنگ کو صرف قتل کے ایک واقعے کے بجائے اجتماعی خوف، سماجی دباؤ اور طاقت کے اظہار کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کرتا ہے۔
کتاب کے چارٹس اس پیچیدہ صورت حال کو مزید نمایاں کرتے ہیں۔ مئی ۲۰۲۴ء تک کے چارٹ کے مطابق دستاویزی واقعات میں ہندو متاثرین کی ہلاکتیں ۷۸۷ ہیں، جبکہ مسلمان متاثرین کی ہلاکتیں ۳۷۲ درج کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ دلتوں کی ۸۵، قبائلی یا آدیواسی افراد کی ۳۱، سکھوں کی ۱۷، عیسائیوں کی ۱۴، پولیس، فوجی یا سرکاری اہلکاروں کی ۱۴ اور نامعلوم شناخت کے ۱۰۲ افراد کی ہلاکتیں درج ہیں؛ دیگر متفرق زمروں کو ملا کران دس سالوں میں ہجومی تشدد میں ہونے والی انسانی ہلاکتوں کا مجموعہ تقریباً ۱۴۴۶ بنتا ہے۔ جانوروں کی تین ہلاکتیں الگ درج کی گئی ہیں۔ کتاب خود واضح کرتی ہے کہ یہ اس کے مطالعے میں دستاویزی ہونے والے واقعات اور ہلاکتوں کا ریکارڈ ہے جس کی رپورٹنگ ایک خاص علاقے میں ہوئی، اس لیے اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
کتاب کی وضاحت کے مطابق ہندو متأثرین کی ایک بڑی تعداد چوری کے الزام، جھگڑوں، جائیداد کے تنازعات، جادو ٹونے، ذاتی دشمنی اور سڑک پر اشتعال انگیزی جیسے معاملات میں ماری گئی، جبکہ مسلمان متأثرین کے واقعات میں مذہبی شناخت، حلیے، گائے یا بیف سے متعلق الزامات نمایاں رہے۔ یہ تفصیل کتاب کے اعداد و شمار اور واقعات کے محرکات کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے: ایک طرف یہ دستاویز مسلمانوں کے خلاف شناختی اور فرقہ وارانہ تشدد کو ایک خاص سیاسی رجحان کے طور پر سامنے لاتی ہے، دوسری طرف اس کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہندوستان میں ہجوم کا تشدد بحیثیتِ مجموعی صرف ایک مذہبی گروہ تک محدود نہیں اور اس کے محرکات بھی متعدد ہیں۔
وجوہات کے چارٹ سے یہ بات مزید واضح ہوتی ہے۔ ۵۷۱ واقعات لڑائی، سڑک پر اشتعال انگیزی یا عام جھگڑوں سے متعلق درج ہیں؛ چوری کے الزام سے متعلق واقعات ۲۸۴ ہیں؛ پرانی دشمنی یا سیاسی رقابت کے ۱۶۹؛ بین المذاہب شادیوں یا محبت کے معاملات ۱۴۱؛ مذہبی شناخت، بالخصوص مسلمان ہونے کی بنیاد پر ۸۹؛ بچہ اٹھانے کے الزام کے ۵۳؛ گائے یا بھینس کی اسمگلنگ کے ۵۷؛ بیف یا گائے ذبح کرنے کے الزام کے ۵۳؛ اور جادو ٹونے کے الزام کے ۵۰ واقعات درج کیے گئے ہیں۔ اس طرح خود کتاب کے فراہم کردہ اعداد یہ بتاتے ہیں کہ گائے، بیف یا مذہب سے متعلق واقعات اگرچہ نہایت سنگین اور بعض اوقات واضح طور پر فرقہ وارانہ نوعیت کے حامل ہیں۔ یہ اعداد اس امر کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں کہ ہندوستان میں ہجوم کے تشدد کے محرکات مذہبی تعصب کے ساتھ ساتھ سماجی، شخصی اور سیاسی نوعیت کے بھی ہیں۔
ریاستی تقسیم بھی دلچسپ ہے۔ اتر پردیش ۴۲۲ واقعات کے ساتھ سب سے اوپر ہے، اس کے بعد دہلی ۲۹۶، بہار ۱۷۳، ہریانہ ۱۰۰، راجستھان ۹۷، مہاراشٹر ۹۴، مدھیہ پردیش ۹۲ اور جھارکھنڈ ۷۱ واقعات کے ساتھ آتے ہیں۔ دہلی کے ۲۹۶ واقعات خصوصاً قابلِ توجہ ہیں، کیونکہ قومی دارالحکومت اور ایک نسبتاً محدود جغرافیائی خطے میں درج یہ تعداد کئی بڑی ریاستوں سے زیادہ ہے۔ ایسے اعداد کی تشریح کرتے وقت آبادی، شہری کثافت، ذرائعِ ابلاغ کی موجودگی، رپورٹنگ کی سہولت، پولیس تک رسائی اور واقعات کے دستاویزی ہونے کے امکانات جیسے عوامل بھی پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے۔
اعداد و شمار کی یہی پیچیدگی ہندوستانی معاشرے میں ہجوم کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی طرف لے جانے والے عمومی سماجی اسباب پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ اگر ۵۷۱ واقعات عام لڑائی، سڑک پر اشتعال انگیزی یا جھگڑوں سے اور ۲۸۴ چوری کے الزامات سے متعلق ہیں تو یہ سوال بھی اہم ہے کہ ہندوستانی معاشرے میں ہجوم کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی طرف لے جانے والے عمومی سماجی اسباب کیا ہیں؟ اگر مذہبی شناخت کی بنیاد پر مسلمانوں کے خلاف ۸۹ واقعات درج ہیں، گائے یا بھینس کی اسمگلنگ سے متعلق ۵۷ اور بیف یا گائے ذبح کرنے کے الزامات سے متعلق ۵۳ واقعات ہیں، تو ان مخصوص واقعات کی نوعیت کیا ہے؟ ان میں مذہبی تعصب کس حد تک بنیادی محرک تھا اور دوسرے تنازعات کے ساتھ کس طرح جڑا ہوا تھا؟ اسی طرح مختلف طبقات کے خلاف ہجوم کے تشدد کے محرکات الگ الگ ہیں یا نہیں، یہ بھی مزید تحقیق کا ایک اہم موضوع ہو سکتا ہے۔
اسی طرح ہندو متأثرین کی تعداد مسلمانوں سے زیادہ ہونے کا سوال بھی محض ایک عددی حیرت نہیں بلکہ ایک تحقیقی پہلو ہے۔ یہ عدد اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ کتاب کے مرتب کردہ مجموعے میں ہجوم کا تشدد صرف مسلمانوں تک محدود نہیں، لیکن اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مسلمانوں کے خلاف شناختی تشدد کی نوعیت یا سنگینی معمولی ہے۔ دونوں باتیں بیک وقت درست ہو سکتی ہیں: ہندوستان میں ہجوم کا تشدد مجموعی طور پر مذہب سے ماورا بھی ہے، اور اس کے اندر مسلمانوں یا دیگر اقلیتوں کو شناختی بنیادوں پر نشانہ بنانے کا ایک مخصوص اور سنجیدہ رجحان موجود ہے۔ ایک متوازن مطالعہ اسی دوہری حقیقت کو سامنے رکھے گا۔
کتاب کے بعض گوشے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ محقق نے ہر واقعے کو صرف مذہبی زاویے سے درجہ بند کرنے کے بجائے متعدد محرکات کو الگ الگ دکھانے کی کوشش کی ہے۔ تین جانوروں کی ہلاکتوں کو انسانی ہلاکتوں سے الگ درج کرنا، ”مسلمتشدد“، ”نَکْسَل تشدد“، ”جہیز“ اور ”سیاسی تشدد“ جیسے الگ زمرے بنانا اسی رجحان کی مثال ہے۔ خود اس درجہ بندی میں ایک ایسے وسیع تر مسئلے کی طرف اشارہ ملتا ہے جس میں مذہبی تعصب، سماجی تنازعات، افواہیں، ذاتی دشمنی، سیاسی رقابت اور قانون شکنی کے دوسرے محرکات ایک دوسرے سے الگ بھی ہیں اور بعض صورتوں میں ایک دوسرے سے جڑ بھی جاتے ہیں۔
کتاب کے مقدمے میں پونا میں محسن شیخ کی ۲۰۱۴ء ہلاکت، دادری میں محمد اخلاق کی ۲۰۱۵ء کی ہلاکت، پہلو خان، رکبر عرف اکبر خان اور علیم الدین انصاری جیسے واقعات خاص طور پر نمایاں ہیں۔ گائے، بیف یا گئو رکشا کے نام پر ہونے والے یہ واقعات کتاب کے مرکزی استدلال کا اہم حصہ ہیں۔ دادری کا واقعہ اس قدر اہم سمجھا گیا ہے کہ اسے الگ حقائق یابی رپورٹ کی صورت میں ضمیمے کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ اسی طرح کتاب میں بعض مقدمات کی بعد کی عدالتی پیش رفت، ضمانت، گواہوں کے مسائل، مقدمات کی سست روی اور بعض مواقع پر مقدمات واپس لینے کی کوششوں کا ذکر بھی موجود ہے۔ محمد اخلاق کے مقدمے کی بعض تازہ پیش رفتیں ۲۰۲۶ء تک پہنچتی دکھائی دیتی ہیں، حالاں کہ کتاب کا عنوان ۲۰۱۴ء تا ۲۰۲۴ء کا ریکارڈ ہے۔ اس لحاظ سے کتاب میں بعض مقدمات کی بعد ازاں ہونے والی قانونی پیش رفت کا ریکارڈ بھی شامل ہے۔
کتاب میں ریاستی اداروں، خصوصاً پولیس اور انتظامیہ، کے کردار پر بھی گفتگو کی گئی ہے۔ بعض واقعات میں یہ الزام سامنے آتا ہے کہ پولیس نے زخمی متاثرین کی فوری مدد کے بجائے مویشیوں کو ترجیح دی، کہیں مقتول کے خاندان کو قانونی دستاویزات کے حصول میں دشواری ہوئی، کہیں گواہوں پر دباؤ اور دھمکی کی شکایت سامنے آئی، اور کہیں ملزمان کی جلد ضمانت یا ان کے ساتھ سیاسی ہمدردی نے انصاف کے عمل پر سوال اٹھائے۔ علیم الدین انصاری کے مقدمے کے حوالے سے مرکزی وزیر جے سنہا کی جانب سے ضمانت پر رہا ہونے والے افراد کے استقبال اور ان کی مالی اعانت کا ذکر بھی کتاب میں موجود ہے، جسے وہ اپنے اس استدلال کے ضمن میں پیش کرتی ہے کہ جب سیاسی یا سماجی اثر و رسوخ قانون کے عمل پر غالب آ جائے تو ہجوم کے تشدد کے خلاف قانونی کارروائی کمزور پڑ سکتی ہے۔
اسی قانونی پس منظر میں سپریم کورٹ کی ۲۰۱۸ء کی ہدایات بھی کتاب کے اہم مباحث میں شامل ہیں۔ شہری معاشرے کی جانب سے ”ماسکا“، یعنی ”مانَو سُرکشا قانون“، جیسے مجوزہ قوانین کا ذکر بھی آتا ہے، جبکہ مغربی بنگال سمیت بعض ریاستوں میں انسدادِ لِنچِنگ قانون سازی کی کوششوں کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ کتاب کا مطالبہ ایک ایسے مضبوط خصوصی قانون کا ہے جو ہجوم کے ذریعے قتل و تشدد کو واضح طور پر متعین کرے، پولیس اور انتظامیہ کی ذمہ داری مقرر کرے، متأثرین اور گواہوں کو تحفظ دے اور سیاسی مداخلت کے امکانات کو ختم کرے۔ نئے فوجداری قانونی ڈھانچے، بالخصوص بھارتیہ نیائے سنہتا، کے بارے میں بھی کتاب کا موقف یہ ہے کہ ہجوم کے تشدد سے نمٹنے کے لیے مخصوص اور مؤثر قانون اب بھی درکار ہے۔
کتاب میں کئی اہم سوالات قائم کیے گئے ہیں: اگر کسی شخص پر چوری، قتل، گائے کی اسمگلنگ، مذہبی جرم یا کسی اور جرم کا الزام ہو تو بھی اسے سزا دینے کا حق ہجوم کو نہیں۔ جرم کا تعین عدالت کرے گی، سزا عدالت دے گی اور قانون سب کے لیے یکساں ہوگا۔ الزام جرم نہیں ہوتا اور شبہ سزا نہیں ہوتا۔ ایک مہذب معاشرے میں کسی شخص کو سڑک پر کھڑا ہجوم نہ مجرم قرار دے سکتا ہے اور نہ سزا دے سکتا ہے۔ اس اعتبار سے یہ کتاب قانون کی حکمرانی کے ایک بنیادی اصول کی یاد دہانی بھی کراتی ہے۔ اگر اس اصول کو واقعی عالم گیر بنا دیا جائے تو ماب لِنچِنگ کے خلاف جدوجہد محض مسلمانوں، ہندوؤں، دلتوں، عیسائیوں یا کسی ایک گروہ کی جدوجہد نہیں رہتی بلکہ انسانی وقار اور قانون کی حکمرانی کی مشترکہ جدوجہد بن جاتی ہے۔
کتاب میں سوشل میڈیا کے کردار پر بھی خاص توجہ دی گئی ہے۔ آج کسی واقعے کی ویڈیو بنانا، اسے فوری طور پر پھیلانا اور تشدد کو ایک طرح کے تماشے یا فخریہ مظاہرے میں بدل دینا ماضی کے ہجوم کے تشدد سے ایک اہم فرق پیدا کرتا ہے۔ کتاب کے مطابق بعض قاتل یا حملہ آور اپنے اعمال کی ویڈیوز بناتے اور انہیں سوشل میڈیا پر نشر کرتے ہیں۔ افواہیں، جھوٹی خبریں، نفرت انگیز تقاریر اور اشتعال انگیز مواد چند لمحوں میں وسیع حلقے تک پہنچ جاتے ہیں اور کسی معمولی شبہے کو اجتماعی تشدد میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ یہ مسئلہ صرف مذہبی تشدد تک محدود نہیں۔ بچہ ومویشی چوری، ڈکیتی، جادو ٹونے اور دیگر افواہوں سے بھی ہجوم اس اطلاعاتی ماحول میں طاقت حاصل کر سکتا ہے۔ اس لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کی ذمہ داری، میڈیا خواندگی اور افواہوں کی بروقت تردید، انسدادِ لِنچِنگ کی کسی بھی جامع پالیسی کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔
میڈیا کے کردار پر کتاب کا باب بھی اس سلسلے میں خاصا اہم ہے۔ اس میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ بعض میڈیا ادارے اپنے انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات میں ایک ہی واقعے کو مختلف انداز اور مختلف زبان کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ بعض حساس اور فرقہ وارانہ معاملات میں پولیس پریس ریلیز یا غیرمصدقہ اطلاعات کو مناسب تحقیق کے بغیر شائع کرنے، قارئین کے جذبات کو ابھارنے، سنسنی خیزی پیدا کرنے اور مخصوص ہدفی قارئین کو مطمئن کرنے کے لیے صحافتی اصولوں کو پسِ پشت ڈالنے کی شکایات بھی درج ہیں۔ زبان کے انتخاب، الفاظ کی ساخت اور خبر کی ترتیب کے ذریعے کسی مخصوص مذہبی یا سماجی گروہ کے بارے میں ایک خاص تاثر پیدا کرنے کا مسئلہ بھی زیرِ بحث آتا ہے۔ اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں، کے مسائل کو کبھی نظرانداز کرنے اور کبھی منفی یا تعصب زدہ زاویے سے پیش کرنے کا ذکر بھی کتاب کے مواد میں موجود ہے۔
اسی طرح نوجوانوں، بے روزگاری اور سیاسی و نظریاتی تنظیم سازی کے باہمی تعلق پر بھی کتاب میں گفتگو ملتی ہے۔ اس میں ”گئورکشک“، بجرنگ دل اور دوسرے انتہا پسند گروہوں کے حوالے سے یہ مؤقف سامنے آتا ہے کہ معاشی محرومی، بےروزگاری اور سیاسی و نظریاتی تنظیم سازی بعض نوجوانوں کو تشدد کے لیے دستیاب افرادی قوت میں تبدیل کر سکتی ہے۔ ہتھیاروں کی نمائش اور شَسْتْرپوجا جیسے مظاہر کو بھی کتاب ایک ایسے وسیع تر ثقافتی ماحول کے ساتھ جوڑتی ہے جس میں تشدد کو معمول یا قابلِ فخر عمل بنانے کا رجحان پیدا ہو سکتا ہے۔ یہ سوال بہرحال اہم ہے کہ بےروزگاری، نوجوانوں کی سیاسی تنظیم سازی، سوشل میڈیا اور نفرت انگیز بیانیے باہم مل کر اجتماعی تشدد کو کس طرح جنم دیتے ہیں۔ کتاب میں یہ بھی تفصیل سے واضح کیا گیا ہے کہ نام نہاد گئورکشکوں نے گئورکشا کے نام پر کھربوں کے جانور اور مویشی تاجروں اور ٹرک ڈرائیوروں کے بےشمار پیسے لوٹ لیے۔
کتاب کی انسانی جہت اس کے خشک اعداد و شمار کو ایک الگ معنویت عطا کرتی ہے۔ آسنول، مغربی بنگال کے مولانا امداد اللہ رشیدی کا واقعہ اس سلسلے میں نہایت اثر انگیز مثال ہے۔ ایک ہندو انتہا پسند ہجوم کے ہاتھوں ان کے سولہ سالہ بیٹے محمد صِبْغَۃُ اللہ کے قتل اور لاش جلائے جانے کے باوجود انہوں نے انتقام کے بجائے امن اور ضبط کی اپیل کی اور کہا کہ اسلام بدلے کے بجائے صبر و معافی کی تعلیم دیتا ہے۔ انھوں نے اعلان کیا کہ اگر مسلمان تشدد کریں گے تو وہ شہر چھوڑ دیں گے۔ اسی طرح ۲۲؍مئی۲۰۱۸ء کو دہرادون میں ایک سکھ پولیس افسر نے جان پر کھیل کر ایک مسلم نوجوان کو ہندو بھیڑ سے بچایا۔ اس طرح کے واقعات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اجتماعی نفرت کے مقابلے میں انسانی اخلاق کی اصل آزمائش اسی وقت ہوتی ہے جب انسان کو صحیح اور غلط کے درمیان ایک کو فوری طور پر چننا ہوتا ہے۔
کتاب کی اشاعت کا سال بھی ایک قابلِ توجہ پہلو ہے۔ کتاب ۲۰۲۶ء میں چھپی ہے جب کہ عنوان کے مطابق کتاب ۲۰۱۴ء تا ۲۰۲۴ء کا ریکارڈ پیش کرتی ہے۔ اس میں بعض اہم مقدمات کی بعد کی پیش رفت بھی شامل ہے، خصوصاً محمداخلاق کے مقدمے سے متعلق ۲۰۲۶ء تک کی معلومات درج ہیں۔ اس طرح کتاب کا بنیادی تاریخی خاکہ ایک عشرے کا ہے، لیکن اس کی بعض قانونی و واقعاتی معلومات اس دائرے سے آگے جاتی ہیں۔
کتاب کو مرتب کرنے کے دوران ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو درپیش ذاتی مشکلات کے بارے میں کتاب میں کوئی تفصیلی بیان موجود نہیں۔ لیکن چونکہ میں خود اس کا شاہد رہا ہوں، اس لیے یہ بات جانتا ہوں کہ ڈاکٹر صاحب نے اس کتاب کو کس عرق ریزی اور صبرآزما دور سے گزر کر مرتب کیا ہے۔
اس موقع پر مجھے مولانا ابو الکلام آزاد رحمۃ اللہ علیہ کی تفسیر ”ترجمان القرآن“ کی یاد آتی ہے۔ مولانا نے ۱۹۱۵-۱۹۱۶ء کے قریب اس کام کا آغاز کیا تھا۔ انگریز حکومت نے ان کے گھر اور پریس پر متعدد بار چھاپے مارے، مسوّدات ضبط کیے، اور سر چارلس کلیولینڈ نے، جو محکمۂ سراغ رسانی سے وابستہ تھے، ذاتی دلچسپی لے کر ترجمہ و تفسیر کے مسوّدات دوبارہ قبضے میں لے لیے۔ کچھ دستاویزات خراب حالت میں واپس ملیں یا بالکل نہیں ملیں۔ اس کے باوجود مولانا نے ہمت نہیں ہاری، کام نئے سرے سے شروع کیا، اور پندرہ سال کی جدوجہد کے بعد ۱۹۳۰ء میں پہلی جلد اور ۱۹۳۶ء میں دوسری جلد شائع کی۔










آپ کا تبصرہ