حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایم ڈبلیو ایم گلگت بلتستان کے صدر آغا سید علی رضوی نے میڈیا کو کو جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ گلگت بلتستان جغرافیائی اور دفاعی اعتبار سے انتہائی حساس خطہ ہے، اس لیے یہاں کسی بھی غیر ملکی وفد کی سرگرمیوں کے حوالے سے عوام کو مکمل معلومات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت واضح کرے کہ امریکی وفد کو گلگت بلتستان کے دورے کی اجازت کن وجوہات کی بنیاد پر دی گئی اور اس کی ضرورت کیوں پیش آئی۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کی خطے میں پالیسیوں اور ماضی کے کردار کے باعث عوام کو اس دورے پر تحفظات ہیں۔ گلگت بلتستان میں حساس مقامات اور اہم تنصیبات کے حوالے سے کسی بھی غیر ملکی سرگرمی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
آغا سید علی رضوی نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی نظریں گلگت بلتستان کے اہم جغرافیائی مقامات، خصوصاً دیوسائی اور سکردو ایئرپورٹ سمیت خطے کی اسٹریٹجک اہمیت پر ہیں، جبکہ گلگت بلتستان چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے حوالے سے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
انہوں نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کو عالمی طاقتوں کی کشمکش اور کسی بھی ممکنہ تنازع کا میدان نہیں بننے دیا جائے۔ حکومت قومی سلامتی اور ملکی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے غیر ملکی وفود کی سرگرمیوں کے حوالے سے مکمل شفافیت اختیار کرے۔
انہوں نے گورنر گلگت بلتستان اور وزیر برقیات کی جانب سے امریکی وفد سے ملاقاتوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں کو حساس معاملات میں عوامی جذبات اور قومی مفادات کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام اپنے خطے کو کسی بھی عالمی محاذ آرائی سے محفوظ دیکھنا چاہتے ہیں۔










آپ کا تبصرہ