حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعہ روحانیت بلتستان پاکستان نے بلتستان میں اپنی علمی، تعلیمی، ثقافتی اور تبلیغی سرگرمیوں کو مزید منظم اور مؤثر بنانے کے لیے حجت الاسلام ڈاکٹر شیخ فدا حسین عابدی کو تین سال کے لیے نمائندہ مقرر کردیا ہے۔ اس سلسلے میں جامعہ روحانیت بلتستان اور شیخ فدا حسین عابدی کے درمیان تین سالہ تعاون اور مفاہمت کے معاہدے پر دستخط بھی کیے گئے۔
جامعہ روحانیت بلتستان پاکستان کی نظارت، مجلس اور صدر کی باہمی مشاورت اور اتفاق رائے کے بعد طے پانے والے اس معاہدے کے تحت حجت الاسلام ڈاکٹر شیخ فدا حسین عابدی آئندہ تین سال تک جامعہ روحانیت بلتستان پاکستان کے نمائندے کی حیثیت سے بلتستان میں اپنی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔
معاہدے کے مطابق وہ جامعہ کی نمائندگی سے متعلق امور کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ سکردو میں قائم تعلیمی و ثقافتی کمپلیکس بینات سے استفادہ کرتے ہوئے جامعہ کے اہداف و پالیسیوں کے مطابق علمی، تعلیمی، دینی، ثقافتی اور تبلیغی سرگرمیوں کو فروغ دیں گے۔
اس موقع پر منعقدہ اجلاس میں بینات کمپلیکس میں موجود سہولیات، مستقبل کی سرگرمیوں اور اسے مزید فعال بنانے کے امکانات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ موجودہ سہولیات کو مؤثر منصوبہ بندی کے ذریعے بروئے کار لاتے ہوئے طلبہ، علماء، محققین اور دینی و علمی حلقوں کیلیے ایک فعال تعلیمی و ثقافتی مرکز کے طور پر استعمال کیا جائے۔
جامعہ روحانیت بلتستان پاکستان کے سابق صدر حجت الاسلام ڈاکٹر سید احمد رضوی نے گفتگو کرتے ہوئے بینات کمپلیکس کی اہمیت اور اس میں موجود امکانات کی طرف اشارہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس عمارت اور تعلیمی مرکز کی مناسب منصوبہ بندی اور مؤثر استعمال کے ذریعے طلبہ، علماء اور بلتستان کے دینی و علمی معاشرے کی بہتر خدمت کی جاسکتی ہے۔
جامعہ روحانیت بلتستان پاکستان کے صدر حجت الاسلام شیخ علی نقی جنتی نے بھی بلتستان میں جامعہ کی سرگرمیوں کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے بینات کمپلیکس کو فعال بنانے اور اس سے بھرپور استفادہ کرنے کی اہمیت اجاگر کی۔
انہوں نے کہا کہ بلتستان میں علمی، تعلیمی، ثقافتی اور تبلیغی سرگرمیوں کو منظم انداز میں آگے بڑھانے کیلیے موجودہ وسائل اور امکانات کو بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ استعمال کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اس موقع پر حجت الاسلام ڈاکٹر شیخ فدا حسین عابدی نے معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے جامعہ روحانیت بلتستان پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون اور ہر ممکن معاونت کی یقین دہانی کروائی۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ معاہدے میں طے شدہ ذمہ داریوں اور باہمی اتفاق رائے کے مطابق بلتستان میں جامعہ روحانیت بلتستان پاکستان کی علمی، تعلیمی، ثقافتی اور دینی سرگرمیوں کے فروغ کیلیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔
جامعہ روحانیت بلتستان پاکستان اور ڈاکٹر شیخ فدا حسین عابدی کے درمیان طے پانے والا یہ تین سالہ معاہدہ بلتستان میں جامعہ کی سرگرمیوں کو مزید منظم کرنے، سکردو میں موجود تعلیمی و ثقافتی وسائل کو فعال بنانے اور علماء، طلبہ، محققین اور دینی و علمی معاشرے کیلیے نئی سرگرمیوں کا آغاز کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جارہا ہے۔
اجلاس میں جامعہ روحانیت بلتستان پاکستان کے سابق صدر حجت الاسلام ڈاکٹر سید احمد رضوی، صدر حجت الاسلام شیخ علی نقی جنتی، سیکرٹری نظارت حجت الاسلام ڈاکٹر لطیف مطہری، اسپیکر مجلس حجت الاسلام علی احمد سعیدی، نائب صدر حجت الاسلام غلام مصطفیٰ حلیمی، رکن نظارت حجت الاسلام عارف حافظی، رکن مجلس حجت الاسلام تصدق ہاشمی اور جامعہ روحانیت بلتستان پاکستان کے مقرر کردہ نمائندے حجت الاسلام ڈاکٹر شیخ فدا حسین عابدی شریک تھے۔










آپ کا تبصرہ