حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، گلگت/ مرکزی جامع امامیہ مسجد شہید سید ضیاء الدین رضویؒ گلگت کے امام جمعہ و جماعت حجۃ الاسلام و المسلمین آغا سید راحت حسین الحسینی نے جمعہ کے خطبے میں امتِ مسلمہ کے درمیان وحدت و اتحاد، معرفتِ اہلِ بیتؑ، اسلامی تعلیمات، انسانی جان و مال کے احترام اور معاشرے میں امن و انصاف کے قیام پر زور دیا۔
آغا سید راحت حسین الحسینی نے کہا کہ اسلام انسان کی جان، عزت اور مال کے تحفظ کو بنیادی اہمیت دیتا ہے، جبکہ سیرت و تعلیماتِ اہلِ بیتؑ انسان کو عدل، حق، صبر، استقامت، خدمتِ خلق اور ظلم کے مقابلے میں ذمہ دارانہ کردار کا درس دیتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں امتِ مسلمہ کو اپنے بنیادی دینی اصولوں، وحدت اور باہمی اخوت کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اختلافات کو باہمی دشمنی اور تصادم کا ذریعہ بنانے کے بجائے قرآن، سیرتِ رسول اکرم (ص) اور تعلیماتِ اہلِ بیتؑ کی روشنی میں اتحاد، برداشت اور ذمہ داری کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

عالمی کشیدگی کے تناظر میں امن اور انسانی جان کے تحفظ پر زور
آغا سید راحت حسین الحسینی نے موجودہ عالمی حالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا اس وقت جنگوں، مسلح تنازعات، سیاسی کشیدگی اور انسانی بحرانوں سے گزر رہی ہے اور ان حالات میں سب سے زیادہ متاثر عام انسان ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال سامنے رکھا ہے کہ جنگوں کا اصل بوجھ کس پر پڑتا ہے۔ ان کے مطابق مسلح تنازعات کے اثرات صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتے بلکہ عام شہریوں، خاندانوں، معیشت، تجارت اور پوری انسانی زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں مسلم دنیا کو جذباتی تقسیم کے بجائے وحدت، بصیرت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور انسانی جان کے احترام کو بنیادی اصول کے طور پر سامنے رکھنا چاہیے۔
آغا سید راحت حسین الحسینی نے کہا کہ دنیا کے مختلف خطوں میں جاری بحرانوں کے حل کے لیے طاقت کے استعمال کے بجائے انصاف، باہمی احترام، مذاکرات اور ایسے اقدامات کو ترجیح دی جانی چاہیے جن سے انسانی جانوں کا تحفظ اور پائیدار امن ممکن ہو۔

معرفتِ اہلِ بیتؑ اور اسلامی تعلیمات کو عملی زندگی میں اپنانے کی تاکید
امام جمعہ گلگت نے کہا کہ معرفتِ اہلِ بیتؑ صرف عقیدت اور نسبت تک محدود نہیں بلکہ اس کے ساتھ ان کی تعلیمات، کردار اور اصولوں کو عملی زندگی میں اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اہلِ بیتؑ کی تعلیمات میں عدل، مظلوم کی حمایت، حق گوئی، انسانی حرمت، صبر، شجاعت اور معاشرے کی اصلاح بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق مسلمانوں کو ان اصولوں کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں جب معاشروں کو مذہبی، سیاسی، نسلی اور مسلکی تقسیم کے مختلف چیلنجز درپیش ہیں، اسلامی تعلیمات اور سیرتِ اہلِ بیتؑ انسانوں کو باہمی احترام، عدل اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کی طرف رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔
گلگت بلتستان میں امن و شہری تحفظ کے حوالے سے مطالبات
آغا سید راحت حسین الحسینی نے چلاس کے علاقے بشیداس میں گلگت بلتستان سکیورٹی کی پٹرولنگ گاڑی پر فائرنگ کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے والے عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ شاہراہِ قراقرم پر مسافروں، سیاحوں، شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کا تحفظ یقینی بنانا ریاست اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حالیہ واقعے کے ذمہ دار افراد اور ان کے سہولت کاروں کا سراغ لگا کر انہیں قانون کے مطابق کارروائی کا سامنا کرایا جائے۔
انہوں نے چلاس اور دیامر کی حدود میں ماضی میں پیش آنے والے بعض پرتشدد اور جرائم کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر انتظامی اور قانونی اقدامات کیے جانے چاہییں۔

سڑکوں اور بجلی کے مسائل پر متعلقہ اداروں سے فوری اقدامات کا مطالبہ
آغا سید راحت حسین الحسینی نے گلگت کے مختلف علاقوں میں سیوریج کے کام کے بعد سڑکوں کی بحالی کے عمل کا حوالہ دیتے ہوئے متعلقہ محکموں سے مطالبہ کیا کہ میٹلنگ کا کام مقررہ معیار کے مطابق مکمل کیا جائے اور عوامی مشکلات کو مزید طول نہ دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی تعمیر و مرمت میں معیاری مواد، مناسب موٹائی اور پائیداری کو یقینی بنایا جائے اور تعمیراتی کام کے دوران جمع ہونے والے ملبے اور دیگر مواد کو بھی بروقت صاف کیا جائے۔
انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ سڑکوں کی بحالی کا کام سردیوں کی شدت بڑھنے سے قبل مکمل کرنے کی کوشش کی جائے۔
آغا سید راحت حسین الحسینی نے گلگت بلتستان میں بجلی کی لوڈشیڈنگ پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سردیوں میں بجلی کی طلب بڑھنے کے باعث عوام کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے حکومت اور متعلقہ محکمہ بجلی سے مطالبہ کیا کہ جاری بجلی منصوبوں پر کام تیز کیا جائے، بالخصوص 16 میگاواٹ نلتر بجلی منصوبے سمیت زیرِ تکمیل منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ سردیوں میں بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر بجلی کا استعمال ذمہ داری سے کریں اور غیر ضروری طور پر زیادہ بجلی استعمال کرنے والے آلات چلانے سے گریز کریں۔
خطبۂ جمعہ میں وحدت اور ذمہ داری کا جامع پیغام
آغا سید راحت حسین الحسینی نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ عالمی اور مقامی حالات میں مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے دینی اصولوں، وحدت اور باہمی اخوت کو مضبوط کریں اور معاشرے میں امن، عدل اور انسانی احترام کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی جنگ، دہشت گردی، ظلم اور انسانی جانوں کے ضیاع کے واقعات پیش آ رہے ہیں، وہاں امن اور انصاف کے قیام کے لیے اجتماعی کوشش کی ضرورت ہے، جبکہ معاشرے کے اندر شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ریاستی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام امن کے خواہاں ہیں اور علاقے میں پائیدار امن، شہری تحفظ، بنیادی سہولیات اور قانون کی بالادستی کے لیے حکومت، ریاستی اداروں اور عوام کو اپنی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی۔










آپ کا تبصرہ