حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، پاراچنار/ مجلس علمائے اہلِ بیتؑ پاراچنار کے صدر اور خطیبِ جمعہ علامہ زاہد حسین انقلابی نے مسجد بی بی زینب سلام اللہ علیہا، مہورہ میں مرکزی اجتماع کے دوران اپنے خطبۂ جمعہ میں حالاتِ حاضرہ، یمن کی صورتِ حال، ایران کے خلاف جاری دباؤ اور خطے کی کشیدہ صورتِ حال کے تناظر میں دینی بصیرت، معرفتِ اہلِ بیتؑ، اتحادِ امت اور اخلاقی ذمہ داری کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ضروری ہے کہ ملتِ تشیع اپنی دینی شناخت، فکری بصیرت اور باہمی اتحاد کو مضبوط بنائے اور سیرتِ اہلِ بیتؑ کی روشنی میں اپنے کردار اور طرزِ عمل کا جائزہ لے۔
علامہ زاہد حسین انقلابی نے یمن کی صورتِ حال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہاں جاری جنگ کو محض ایک سیاسی تنازع کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، بلکہ اس کے انسانی، اخلاقی اور دینی پہلوؤں کو بھی پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے یمنی عوام کے حقِ دفاع کی حمایت کرتے ہوئے سعودی عرب کی جانب سے یمن میں فوجی کارروائیوں اور مداخلت پر تنقید کی اور اسے یمنی عوام کے حقوق اور خودمختاری سے متعلق ایک اہم مسئلہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں جاری تنازعات کے حوالے سے مسلمانوں کو حقائق کا شعور حاصل کرنا چاہیے اور ایسے حالات میں جذباتی ردِعمل کے بجائے دینی بصیرت، انصاف اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق، علاقائی مسائل پر موقف اختیار کرتے ہوئے مسلمانوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی کو نقصان پہنچانے والے رویّوں سے اجتناب ضروری ہے۔

ایران اور خطے کی صورتِ حال؛ دینی بصیرت اور اتحاد کی ضرورت
خطیبِ جمعہ نے خطے کی موجودہ کشیدہ صورتِ حال کے تناظر میں اس امر پر زور دیا کہ ایران اور دیگر مسلم معاشروں سے متعلق حالات کو سمجھنے کے لیے مستند معلومات، سیاسی شعور اور دینی بصیرت ضروری ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں اس بات کی اہمیت اجاگر کی کہ موجودہ حالات میں ملتِ تشیع کو اپنے دینی و فکری تشخص کے ساتھ ساتھ باہمی اتحاد اور اجتماعی ذمہ داری کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اختلافات کو ہوا دینے، ایک دوسرے کی تضحیک کرنے اور غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرنے کے بجائے امت کے مشترکہ مسائل اور دینی اقدار پر توجہ دی جانی چاہیے۔ بالخصوص ایسے وقت میں جب خطے کے مختلف ممالک سیاسی اور عسکری کشیدگی سے دوچار ہیں، ضروری ہے کہ مسلمان اپنے موقف کے اظہار میں سنجیدگی، تحمل اور فکری پختگی کا مظاہرہ کریں۔
علامہ زاہد حسین انقلابی یہ بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حالاتِ حاضرہ سے آگاہی محض خبروں سے واقف ہونے کا نام نہیں، بلکہ ان کے پس منظر، اثرات اور دینی و اخلاقی تقاضوں کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے دینی تعلیمات، سیرتِ اہلِ بیتؑ اور باہمی اتحاد کو رہنما اصول کے طور پر اختیار کیا جانا چاہیے۔
یمن کا مسئلہ اور امتِ مسلمہ کی اخلاقی ذمہ داری
یمن کی صورتِ حال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے علامہ زاہد حسین انقلابی نے سعودی عرب کی جانب سے یمنی سرزمین پر فوجی کارروائیوں اور مداخلت کو جارحیت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یمن کی موجودہ جنگ صرف سیاسی تنازع نہیں بلکہ اسلامی، اخلاقی اور انسانی حقوق کی ایک سنگین جنگ ہے، جہاں یمنی عوام اپنی سرزمین کے دفاع میں کھڑے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یمنی عوام کے حقوق، خودمختاری اور دفاع کے مسئلے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور خطے کے تنازعات کے حوالے سے کسی بھی موقف کی بنیاد انصاف اور انسانی اقدار پر ہونی چاہیے۔ آلِ سعود کی طرف سے یمنی سرزمین پر کارروائیاں اور مداخلت جارحیت کے زمرے میں آتی ہیں، کیونکہ یمن کی جانب سے کسی سعودی علاقے پر کوئی قبضہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جو بھی طاقتیں یا ممالک اس ظالمانہ یلغار یا غاصبانہ پالیسیوں کا ساتھ دے رہے ہیں، وہ اخلاقی اور تاریخی طور پر اس ظلم میں برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ان کے نزدیک یمن کے خلاف جاری کارروائیوں اور ظالمانہ پالیسیوں کی حمایت کرنے والی قوتیں بھی اخلاقی ذمہ داری سے بری نہیں ہو سکتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کو خطے کے مسائل کا جائزہ لیتے ہوئے مظلوم عوام کے حقوق، انسانی جانوں کے تحفظ اور امن کے قیام کو بنیادی اہمیت دینی چاہیے۔
انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ یمن اور دیگر علاقائی تنازعات کو فرقہ وارانہ عینک سے دیکھنے کے بجائے ان کے حقیقی سیاسی، انسانی اور اخلاقی پہلوؤں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق، دینی بصیرت کا تقاضا ہے کہ مسلمان اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے انصاف، اصول پسندی اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کو مقدم رکھیں۔
معرفتِ اہلِ بیتؑ اور ملتِ تشیع کی فکری و اخلاقی ذمہ داریاں
خطبۂ جمعہ کے اخلاقی پہلوؤں میں سیرتِ اہلِ بیتؑ سے رہنمائی حاصل کرنے کی اہمیت بھی نمایاں رہی۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اہلِ بیتؑ سے محبت اور ان کی معرفت کا تقاضا صرف زبانی وابستگی تک محدود نہیں، بلکہ ان کے اخلاق، کردار، طرزِ گفتگو اور تعلیمات کو عملی زندگی میں اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔
اسلامی تعلیمات میں زبان کی پاکیزگی، دوسروں کی عزت و حرمت کا تحفظ، اختلاف کے باوجود شائستگی اور باہمی احترام کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اسی تناظر میں سوشل میڈیا پر گالی گلوچ، طعنہ زنی، توہین آمیز تبصروں اور مخالفین کی تضحیک جیسے رویّوں سے اجتناب ضروری ہے۔
دینی اور مذہبی اختلافات کے دوران غیر مہذب زبان استعمال کرنے سے نہ صرف باہمی تعلقات متاثر ہوتے ہیں، بلکہ مذہبی کشیدگی اور معاشرتی انتشار میں اضافے کا خطرہ بھی پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ملتِ تشیع کے افراد اپنے مذہبی تشخص کا اظہار اخلاقی اقدار، علمی استدلال اور سیرتِ اہلِ بیتؑ کے مطابق کریں۔
اس ضمن میں قرآن کریم نے بھی اہلِ ایمان کو ایک دوسرے کا مذاق اڑانے، عیب جوئی کرنے اور برے القاب سے پکارنے سے منع کیا ہے۔ سورۂ حجرات کی آیت ۱۱ میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ ایک دوسرے کو برے القاب سے نہ پکارو، کیونکہ ایمان کے بعد فسق کا نام اختیار کرنا بہت برا ہے۔ یہ قرآنی تعلیم واضح کرتی ہے کہ مذہبی وابستگی کے ساتھ اخلاقی ذمہ داری بھی لازم ہے۔

سوشل میڈیا پر اخلاقی انحطاط اور بدزبانی سے اجتناب کی تاکید
علامہ زاہد حسین انقلابی نے سوشل میڈیا کے استعمال اور زبان کے درست استعمال کی اہمیت کے حوالے سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آج سوشل میڈیا معلومات کے تبادلے اور خیالات کے اظہار کا مؤثر ذریعہ ہے، لیکن اس کا غیر ذمہ دارانہ استعمال نفرت، بدگمانی اور باہمی اختلافات کو بڑھانے کا سبب بن سکتا ہے۔
اسلامی تعلیمات میں فحش گوئی اور بدزبانی کو ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے۔ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول فرمان «سِبَابُ الْمُؤْمِنِ فُسُوقٌ» کا مفہوم ہے کہ مؤمن کو گالی دینا فسق ہے۔ اس تعلیم کی روشنی میں ضروری ہے کہ انسان اختلافِ رائے کے باوجود اپنی زبان اور قلم کو اخلاقی حدود کا پابند رکھے۔
بالخصوص مذہبی اور سیاسی معاملات میں کسی کی توہین، تضحیک یا خاندانی پس منظر کو نشانہ بنانا مسائل کا حل نہیں۔ اس کے بجائے دلیل، شائستگی اور تحمل کے ساتھ اپنا مؤقف پیش کرنا چاہیے۔ سوشل میڈیا پر لکھی گئی تحریر اور کیا گیا تبصرہ بھی انسان کے اخلاق و کردار کی عکاسی کرتا ہے، اس لیے ہر فرد کو اپنی گفتگو کے اثرات کا احساس ہونا چاہیے۔
اتحاد، دینی شعور اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کا پیغام
خطبۂ جمعہ کے مجموعی پیغام کے مطابق، موجودہ علاقائی حالات میں ملتِ تشیع کے لیے ضروری ہے کہ وہ معرفتِ اہلِ بیتؑ، دینی بصیرت، اخلاقی تربیت اور باہمی اتحاد کو اپنی اجتماعی زندگی میں بنیادی اہمیت دے۔ ایران اور یمن سمیت خطے کے مختلف مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے حقائق سے آگاہی، ذمہ دارانہ موقف اور انسانی و اسلامی اقدار کی پاسداری کو ملحوظ رکھا جانا چاہیے۔
اسی طرح مذہبی وابستگی کا تقاضا ہے کہ اختلافات کے باوجود باہمی احترام برقرار رکھا جائے اور ایسے رویّوں سے اجتناب کیا جائے جو معاشرے میں نفرت یا انتشار کا سبب بنیں۔ سیرتِ اہلِ بیتؑ کی پیروی کا عملی مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنے کردار، گفتگو اور معاشرتی تعلقات میں اخلاق، انصاف، تحمل اور احترامِ انسانیت کو نمایاں کرے۔

پاکستانی حکمرانوں اور ذمہ داران کے نام اہم پیغام:
خطبہ میں موجودہ حکومت اور پالیسی سازوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان کی تمام تر توانائی اور تیل کی درآمدات کا انحصار آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسی اہم سمندری گزرگاہوں پر ہے۔ خلیج کی کشیدہ صورتحال پاکستان کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔
موجودہ مہنگائی اور پیٹرول کی بلند قیمتوں کا ذکر کرتے ہوئے انتباہ کیا گیا کہ اگر اس حوالے سے اپنی خارجہ و دفاعی پالیسی پر نظر ثانی نہ کی گئی، تو حالات مزید ابتر ہو جائیں گے۔ خدشہ ظاہر کیا گیا کہ اگر سپلائی لائنز مکمل طور پر متاثر ہوئیں تو پاکستان میں پیٹرول کی قیمتیں چار سو روپے سے بڑھ کر دو ہزار روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتی ہیں، جس کا متحمل پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پسا ہوا غریب پاکستانی عوام کا طبقہ ہرگز نہیں ہو سکتا۔
آخر میں ذمہ دارانِ پاکستان سے پرزور مطالبہ کیا گیا کہ ملک کے غریب و شریف عوام پر رحم کیا جائے اور مشرق وسطیٰ کے تنازعات میں پاکستان کے ملوث ہونے یا غلط فیصلوں کی پالیسی کو فوری طور پر بدلا جائے۔










آپ کا تبصرہ