حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجلسِ وحدت مسلمین پاکستان سندھ کے صوبائی میڈیا انچارج مستنصر مہدی ابڑو اور یوتھ ونگ کے ذمہ داران پر مشتمل وفد نے جامعہ خاتم النبیینؐ جیکب آباد میں صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی سے ملاقات کی۔ وفد نے انہیں مشہد مقدس اور قم المقدسہ سمیت مقاماتِ مقدسہ کی زیارت سے واپسی پر مبارکباد پیش کی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

ملاقات کے دوران تنظیمی امور، شہداء راہ حق کے پاکیزہ کردار، میڈیا کی مؤثر فعالیت اور موجودہ دور میں سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے کردار پر تفصیلی تبادلۂ خیال بھی کیا گیا۔
اس موقع پر علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ ائمہ اہل بیتؑ کے مقدس مزارات کی زیارت محض ایک روحانی سفر نہیں بلکہ انسان کے ایمان، معرفت اور ذمہ داری کے احساس کو تازہ کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ حضرت امام علی رضاؑ اور حضرت فاطمہ معصومہؑ کے روضہ ہائے مقدسہ پر حاضری کے ساتھ ساتھ انقلابِ اسلامی کے شہداء اور رہبرِ شہید کے مزار پر حاضری نے قربانی، جدوجہد اور استقامت کی عظیم روایات کی یاد تازہ کی۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں ایران اور غزہ کے عوام نے جس حوصلے، صبر اور استقامت کا مظاہرہ کیا، اس نے دنیا کے سامنے ایک اہم حقیقت واضح کی ہے کہ کسی قوم کی قوت صرف مادی وسائل میں نہیں بلکہ اس کے ایمان، اجتماعی عزم، وحدت اور اپنے اصولی مؤقف پر ثابت قدم رہنے میں بھی ہوتی ہے۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ فلسطین کے مظلوم عوام کی طویل جدوجہد اور ایرانی قوم کی استقامت نے مسئلۂ فلسطین کو عالمی سطح پر زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ شہداء کی قربانیاں کسی ایک خطے یا ایک نسل تک محدود نہیں رہتیں بلکہ وہ آنے والی نسلوں کے لیے حریت اور عزیمت کا پیغام بن جاتی ہیں۔
انہوں نے شہید سید حسن نصر ا للہ اور دیگر شہدائے مقاومت کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان شخصیات نے مظلوم فلسطین اور عالمِ اسلام کے دفاع کے لیے اپنی زندگیاں وقف کیں۔ ان کی جدوجہد اور قربانیوں کو تاریخ کے تناظر میں سمجھنے کے لیے نوجوان نسل کو مستند دینی، تاریخی اور سیاسی شعور فراہم کرنا ضروری ہے۔
صوبائی صدر ایم ڈبلیو ایم سندھ نے ایران کے خلاف امریکی پابندیوں پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے فضائی شعبے اور ایرانی ایئرلائنز کو نشانہ بنانے والی پابندیاں قابلِ مذمت ہیں۔ اسلامی ممالک کو یک طرفہ دباؤ کی سیاست کے بجائے باہمی احترام، خودمختاری، تعاون اور آزاد خارجہ پالیسی کے اصولوں کو فروغ دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم دنیا کو فلسطین، لبنان، یمن اور دیگر مظلوم اقوام کے مسائل پر مشترکہ آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے۔ اسلامی ممالک کے پاس سیاسی، سفارتی، معاشی اور افرادی وسائل موجود ہیں؛ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان وسائل کو امتِ مسلمہ کے مشترکہ مفادات کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے ایم ڈبلیو ایم کی میڈیا اور یوتھ ٹیم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں میدانِ ابلاغ کو نظرانداز کرکے کسی بھی فکری پیغام کو مؤثر انداز میں نئی نسل تک منتقل نہیں کیا جاسکتا۔ سوشل میڈیا اب صرف معلومات کی ترسیل کا ذریعہ نہیں بلکہ رائے سازی، فکری تربیت اور معاشرتی شعور کی تشکیل کا بھی اہم میدان ہے۔
انہوں نے میڈیا ذمہ داران پر زور دیا کہ وہ تنظیمی سرگرمیوں کو اجاگر کرنے کے ساتھ قرآن کریم، سیرتِ رسول اکرم، تعلیماتِ اہل بیتؑ، شہداء کے افکار اور اتحادِ امت کے پیغام کو جدید ابلاغی تقاضوں کے مطابق نوجوان نسل تک پہنچائیں۔
انہوں نے کہا کہ مثبت، مستند اور ذمہ دارانہ ابلاغ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جھوٹی خبروں، غیر مصدقہ معلومات اور اشتعال انگیز مواد کے بجائے تحقیق، دلیل اور اخلاقی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے میڈیا سرگرمیوں کو آگے بڑھایا جائے۔
ملاقات کے اختتام پر صوبائی میڈیا انچارج مستنصر مہدی ابڑو اور یوتھ ونگ کے ذمہ داران نے علامہ مقصود علی ڈومکی کو زیاراتِ مقدسہ سے واپسی پر ایک مرتبہ پھر مبارکباد پیش کی اور ان کے لیے دینی و تنظیمی خدمات میں مزید توفیقات کی دعا کی۔










آپ کا تبصرہ