حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعہ روحانیت سندھ کے زیر اہتمام حوزہ علمیہ قم کے سالانہ امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کے اعزاز میں ایک پروقار تقریب حسینیہ غدیر قم المقدسہ میں منعقد ہوئی؛ جس میں علمائے کرام، فضلاء، حوزہ علمیہ قم کے اساتذہ اور طلاب نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
تقریب سے پاکستان سے تشریف لائے ہوئے مجلسِ وحدت مسلمین صوبۂ سندھ کے صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علمائے کرام اور طلاب کی ذمہ داری ہے کہ جہادِ تبیین کے ذریعے قوم اور بالخصوص نوجوان نسل کی فکری و اعتقادی رہنمائی کریں۔ موجودہ دور میں دشمن فکری، ثقافتی اور ابلاغی ذرائع کے ذریعے نوجوان نسل کے اذہان کو متاثر کرنے کی مسلسل کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حوزہ علمیہ قم سے انقلابِ اسلامی کی صورت میں قرآن و سنت اور اہل بیت علیہم السلام کا نورانی پیغام عالم انسانیت کے لیے نور و ہدایت بن کر چمکا اور اس نے مستضعفین عالم کو عالمی استکبار امریکہ و اسرائیل اور شیاطین عالم کے خلاف بیدار و متحد کر دیا۔ رہبر کبیر حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے نظام ظلم و استکبار کے خلاف قرآن مجید سے رہنمائی لیتے ہوئے قیام للہ کا راستہ اختیار کیا۔ قیام للہ انبیاء کرام علیہم السلام اور آئمہ ہدی علیہم السلام کا راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج علمائے کرام اور طلاب کی ذمہ داری ہے کہ جہادِ تبیین کے ذریعے قوم اور بالخصوص نوجوان نسل کی فکری و اعتقادی رہنمائی کریں۔ ایسے وقت میں خاموشی اختیار کرنا، جبکہ ولیِ خدا اور رہبرِ مسلمین نظامِ کفر و طاغوت کے خلاف میدان میں استقامت کے ساتھ کھڑے ہوں، علماء اور اہلِ علم کے شایانِ شان نہیں۔ موجودہ دور میں دشمن فکری، ثقافتی اور ابلاغی ذرائع کے ذریعے نوجوان نسل کے اذہان کو متاثر کرنے کی مسلسل کوشش کر رہا ہے، لہٰذا حوزہ علمیہ کے علماء اور طلاب کو بصیرت، علمی پختگی اور جرأت کے ساتھ حقائق کو عوام تک پہنچانا ہوگا۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ پاکستان کو ایسے علماء اور مبلغین کی ضرورت ہے جو علم کے ساتھ اخلاق، کردار، بصیرت اور خدمت خلق کے جذبے سے بھی سرشار ہوں۔ آج کے دور میں دشمنان اسلام مختلف ذرائع سے نوجوان نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اس لئے علماء اور طلاب کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ انہیں علمی مضبوطی کے ساتھ قرآن کریم، سیرت رسول اکرمؐ اور تعلیمات اہل بیتؑ کو معاشرے تک پہنچانا ہوگا۔
انہوں نے کامیاب اور نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے تمام طلاب، ان کے اساتذہ اور جامعہ روحانیت سندھ کی انتظامیہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی میدان میں کامیابی محنت، نظم و ضبط اور مسلسل جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ دیگر طلاب بھی ان کامیاب طلبہ کو اپنے لئے نمونہ بناتے ہوئے مزید محنت اور علمی تحقیق کی طرف متوجہ ہوں۔
تقریب سے حجۃ الاسلام وسیم رضا سبحانی، حجۃ الاسلام راشد علی چانڈیو نے بھی خطاب کیا۔ تقریب کے آغاز پر نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب میں انعامات اور اعزازی اسناد تقسیم کی گئیں۔









آپ کا تبصرہ