حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کی کابینہ اور علاقائی نمائندگان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: مدارس کے نظام کو ملکی حالات اور ضروریات کے مطابق مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے آیت اللہ سید علی خامنہ ای شہید (رہ) اور دیگر بزرگ علماء کے حوالے دیتے ہوئے قرآنِ مجید سے تمسک کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے علماء و طلاب کے لیے پاکستانی بزرگ علماء مولانا محمد یار شاہ نجفی، مولانا صفدر حسین نجفی اور مولانا محسن علی نجفی کی تدریس، پابندیِ وقت اور اخلاص کو بطور مثال پیش کیا۔
آیت اللہ حافظ ریاض حسین نجفی نے مدارس کے دورہ جات کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا: نمائندگان مدارس کا مکمل دورہ کریں اور ہر مدرسے میں کم از کم تین سے چار گھنٹے قیام کریں تاکہ طلبہ و اساتذہ سے رابطہ مضبوط ہو اور مدارس کے مسائل و ضروریات کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکے۔
انہوں نے پاکستان میں شیعہ دینی مدارس کے قیام کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: باب العلوم ملتان 1932ء میں قائم ہوا، جس کے بعد جلال پور ننگیانہ، ضلع سرگودھا میں مدرسہ قائم ہوا جہاں مختلف علماء تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں 700 سے زائد شیعہ مدارس قائم ہیں، جہاں تقریباً 24 ہزار طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر نے مجلسِ نظارتِ مدارسِ عربیہ کے قیام اور جنرل ضیاء الحق کے دور میں شروع ہونے والے اہلِ سنت و اہلِ تشیع کے مشترکہ نصاب اور وفاق کے تسلسل کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے سابق جنرل سیکرٹری علامہ محمد افضل حیدری کی طویل خدمات کو بھی سراہا۔
انہوں نے کابینہ پر زور دیا کہ مدرسین اور طلبہ نماز، تدریس، کھانے اور باجماعت نماز کے اوقات میں پابندیِ وقت کا اہتمام کریں۔ ہر طالب علم کو نماز اور قرآنِ مجید کا ترجمہ پڑھایا جائے اور روزانہ کم از کم قرآنِ مجید کے ایک پارے کی تلاوت کی عادت ڈالی جائے۔
قابل ذکر ہے کہ اجلاس میں مولانا مرید حسین نقوی، ڈاکٹر سید محمد نجفی، مولانا ضیاء الحسن نجفی، مولانا محمد شفاء نجفی، مولانا شاہد حسین نقوی، مولانا نذیر حسین مطہری، مولانا محمد اصغر یزدانی، مولانا ممتاز حسین بھڈوال، مولانا محمد تحسین، مولانا سید محمد ظفر نقوی، مولانا حسین رضا نقوی، مولانا اکبر حسین زاہدی، مولانا جابر علی خان، مولانا ملک محمد اشرف، مولانا لعل حسین خان توحیدی، مولانا محمد کاظم نقوی، مولانا مشتاق مشہدی اور مولانا موسیٰ رضا جسکانی سمیت دیگر علماء نے اظہارِ خیال کیا اور مدارس کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں جبکہ مولانا شیخ مرزا علی اور مولانا محمد جواد حافظی کی جانب سے تحریری تجاویز بھی موصول ہوئیں۔









آپ کا تبصرہ