حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے 15 ستمبر، عالمی یوم جمہوریت (International Day of Democracy) کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں کہا: دنیا بھر میں آج عالمی یوم جمہوریت منایا جا رہا ہے مگر اقوام متحدہ سمیت پوری عالمِ انسانیت کے سامنے مشرق وسطیٰ میں غزہ کو روندا جا رہا ہے، مغربی کنارے میں مظالم کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا جبکہ جنوبی ایشیا میں بھی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے صرفِ نظر کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا: عالمی یوم جمہوریت منانے کا مقصد بین الاقوامی سطح پر جمہوریت کی حمایت اور مختلف ممالک میں جمہوری نظام کے فروغ کے لیے اقدامات کرنا ہے، جس کا آغاز 2008ءء میں ہوا۔ تاہم یہ دیکھنا ہوگا کہ اس حوالے سے عملی طور پر کس حد تک اقدامات کیے گئے ہیں۔
علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا: مشاہدہ یہ ہے کہ عالمی سطح پر مفادات کے حصول کے لیے جمہوریت کی بجائے آمریتوں کی پشت پناہی کی جاتی رہی ہے۔ رائج جمہوری نظام میں آئین کی بالادستی، قانون کی عملداری، پارلیمنٹ کی اولیت اور عوامی رائے کا احترام کئی مقامات پر مفقود دکھائی دیتا ہے۔ جمہوریت کے نام پر مفادات کا تحفظ تو کیا گیا، مگر بنیادی انسانی حقوق، آزادیِ اظہارِ رائے سمیت متعدد مسائل آج بھی حل طلب ہیں۔
انہوں نے کہا: دنیا کے مختلف خطوں میں خوف و ہراس کا ماحول، عوام کے بنیادی حقوق کی پامالی اور میڈیا پر پابندیاں عائد کرنا جمہوری رویہ نہیں۔ اسرائیل کا غزہ میں سفاکانہ رویہ عالمی یوم جمہوریت منانے والوں کے منہ پر زوردار طمانچہ ہے جبکہ عالمی طاقتوں کی جانب سے ان مظالم پر خاموشی بھی قابلِ تشویش ہے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا: جمہوریت کا بنیادی مفہوم ’’عوام کی حکومت، عوام کے ذریعہ اور عوام کے لیے‘‘ ہے۔ اگر جمہوریت کو اس حقیقی مفہوم کے ساتھ نافذ کیا جائے تو اس کا بنیادی مقصد عوام کی خدمت اور ان کی رائے کا احترام ہے۔ جمہوری نظام میں تمام طبقات کی رائے کو اہمیت دی جاتی ہے جبکہ اسلام بھی باہمی مشاورت اور رائے کی بنیاد پر نظمِ حکومت قائم کرنے کا درس دیتا ہے۔









آپ کا تبصرہ