حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قم المقدسہ میں مجلسِ وحدت مسلمین پاکستان سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے مدرسہ امام المتقین کا دورہ اور اساتذہ اور طلباء سے ملاقات کی۔ اس موقع پر مدرسہ کے مدیر مولانا مختار حسین میرجت نے مدرسہ امام المتقین علیہ السلام کی تعلیمی خدمات پر روشنی ڈالی۔


علامہ مقصود علی ڈومکی نے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پوری امتِ مسلمہ کے مقدس ترین مراکز ہیں، حرمین شریفین کی حرمت ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور ان کے تقدس پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا، لیکن حرمین کی حرمت کو ڈھال بنا کر آل سعود کے جرائم پر پردہ ڈالنا بھی قابلِ قبول نہیں۔
انہوں نے کہا کہ حرمین شریفین مقدس ہیں، آل سعود کی حکومت مقدس نہیں۔ کسی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کو حرمین شریفین کی توہین قرار دینا درست نہیں۔ علماء کا منصب یہ ہے کہ وہ حکمرانوں کی خوشنودی یا مالی مفادات کے بجائے حق و انصاف کا ساتھ دیں۔ درباری علماء دین کے لیے خطرہ ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ سعودی عرب میں جوا، شراب نوشی اور بدکاری کے اڈے کھولے گئے۔ سرزمین وحی پر عیاشی، موسیقی اور رقص و سرود کی محفلیں سجا کر حرمین شریفین کے تقدس کو پامال کیا گیا۔ مگر ریال خور درباری مفتی ملا خاموش تماشائی بنے رہے۔ حرمین شریفین اور قبلہ اول کو آل سعود اور ریال خور درباری ملاؤں سے خطرہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سوال یہ ہے کہ جو ریال خور مفتی دوسرے ممالک میں معمولی معاملات پر فتوے جاری کرتے ہیں، وہ سرزمینِ وحی میں ہونے والی ان سنگین جرائم پر خاموش کیوں ہیں؟
انہوں نے کہا کہ یمن کے خلاف سعودی جارحیت کے دوران ہزاروں یمنی مسلمان شہید، زخمی اور بے گھر ہوئے، جبکہ عالمی اداروں نے بھی یمن کے انسانی بحران پر شدید تشویش ظاہر کی۔ اس وقت مظلوم یمنی مسلمانوں کے حق میں آواز اٹھانا بھی علماء کی دینی ذمہ داری تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ فلسطین اور غزہ میں جاری انسانی المیے نے پوری دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ فلسطینی شہریوں کے قتل عام، جبری بے دخلی اور ناکہ بندی پر کیوں امام کعبہ خاموش رہتے ہیں؟

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ ہم حرمین شریفین کے محافظ ہیں، لیکن کسی حکومت کے محافظ نہیں۔ ہم کعبۃ اللہ اور روضۂ رسولؐ کی حرمت پر جان قربان کرنے کو تیار ہیں، مگر حرمین کے نام پر ظلم، ناانصافی یا جھوٹے پروپیگنڈے کو تحفظ نہیں دیا جا سکتا۔
انہوں نے شیعہ سنی مسلمانوں اور تمام اہلِ ایمان سے اپیل کی کہ وہ فرقہ وارانہ تعصبات سے بالاتر ہوکر مظلوم کا ساتھ، ظالم کی مخالفت اور سچ کی حمایت کریں۔
انہوں نے کہا کہ حق اگر یمن میں ہو تو یمن کے مظلوم کا ساتھ دیا جائے، حق اگر فلسطین میں ہو تو فلسطین کے مظلوم کا ساتھ دیا جائے اور جہاں ظلم ہو وہاں ظالم سے سوال کیا جائے۔ یہی اسلام کا تقاضا اور یہی حرمین شریفین کی حقیقی حرمت کا احترام ہے۔










آپ کا تبصرہ