حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ جامعۃ النجف سکردو میں شہیدِ مقاومت سید حسن نصر الله کی دوسری برسی کی مناسبت سے ایک خصوصی محفل تکریم و تجلیل کا انعقاد کیا گیا، جس میں اساتذہ و طلاب نے شرکت کی۔

اس موقع پر علامہ شیخ سجاد حسین مفتی نے سورۂ احزاب کی آیتِ کریمہ کو محورِ سخن قرار دیا: مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ ۖ فَمِنْهُم مَّن قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ ۖ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا.ترجمہ: مؤمنوں میں ایسے مرد بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچا کر دکھایا؛ پس ان میں سے بعض نے اپنا عہد پورا کر دیا اور بعض منتظر ہیں، اور انہوں نے اپنے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔
علامہ شیخ سجاد حسین مفتی نے مذکورہ آیت سے قبل اور بعد کی آیات کے مفہوم کو بیان کرتے ہوئے واضح کیا کہ سورۂ احزاب کا یہ حصہ اس آزمائش اور استقامت کی تصویر پیش کرتا ہے جس کا سامنا مسلمانوں کو غزوۂ احزاب کے موقع پر کرنا پڑا۔

انہوں نے بتایا کہ جب دشمنوں کے بڑے لشکر نے مدینہ کا محاصرہ کیا تو اہلِ ایمان مختلف کیفیتوں میں آزمائے گئے؛ کچھ لوگ خوف زدہ ہوئے، جبکہ اہلِ ایمان نے اس آزمائش کو اپنے ایمان اور استقامت کے اظہار کا ذریعہ بنایا۔
شیخ سجاد مفتی نے قرآن کریم کی اس کیفیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جب مؤمنین نے احزاب کے لشکروں کو دیکھا تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوا اور انہوں نے کہا کہ یہ وہی وعدہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے کیا تھا اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا۔
علامہ سجاد حسین مفتی نے اس کے بعد آیتِ «مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ...» کی تشریح کرتے ہوئے بیان کیا کہ اس آیت میں ان اہلِ ایمان کا تذکرہ ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد کو محض زبان سے نہیں بلکہ اپنے عمل، استقامت اور قربانی سے سچ کر دکھایا۔
انہوں نے اس مفہوم کو واضح کیا کہ ایمان کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ انسان آزمائش کے وقت اپنے عہد پر قائم رہے اور حالات کی تبدیلی کے ساتھ اپنے اصول تبدیل نہ کرے۔

علامہ شیخ سجاد حسین مفتی نے شہیدِ مقاومت سید حسن نصر اللہ کی زندگی اور جدوجہد کو اسی قرآنی معیارِ استقامت کے تناظر میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح غزوۂ احزاب کے موقع پر اہلِ ایمان نے بڑے دشمن کے مقابلے میں اپنے ایمان اور عہد کو نہیں چھوڑا، اسی طرح عصرِ حاضر میں اسرائیل اور غزہ کے تناظر میں مزاحمت کے محاذ پر کھڑے رہنے والی نمایاں شخصیات میں سید حسن نصر اللہ کا نام بھی آتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سید حسن نصر اللہ نے سید عباس موسوی کی شہادت کے بعد حزب اللہ کی قیادت سنبھالی اور اپنی زندگی کو استقامت، مقاومت اور اپنے عہد کی پاسداری کے ساتھ گزارا۔ قرآن جس استقامت کا تذکرہ کرتا ہے، سید حسن نصر اللہ کی زندگی میں اس کی عملی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔
علامہ نے یہ نکتہ بھی بیان کیا کہ طاغوت کی اطاعت اور خدا کی اطاعت کو ایک ساتھ جمع نہیں کیا جا سکتا؛ انسان کو اپنے راستے کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔
انہوں نے سید حسن نصر اللہ کی جدوجہد کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان کے نزدیک راستہ دو ہی صورتوں میں انجام پذیر ہوتا ہے: فتح یا شہادت، اور دونوں صورتیں کامیابی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سید حسن نصر اللہ کی پوری زندگی اس عہد کی عملی تعبیر تھی کہ جب انسان اللہ کو اپنا معبود اور اپنے مقصد کو رضائے الٰہی قرار دے تو پھر اس کی زندگی کا مرکز بھی اسی عہد کے گرد ہونا چاہیے۔
یاد رہے کہ مجلس تکریم و تجلیل سے پہلے شہید مقاومت کے ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی کی گئی۔
آخر میں رہبر شہید امام امت خامنہ ای رضوان اللہ علیہ، شہید مقاومت سید حسن نصراللہ، شہدائے راہ اسلام کے درجات کی بلندی اور موجودہ رہبر معظم کی صحت وسلامتی، امریکہ و اسرائیل کی نابودی، عالم اسلام کی فتح وظفر اور مملکت خدا داد پاکستان کی استحکام کے لیے دعاکی گئی۔










آپ کا تبصرہ