اتوار 27 ستمبر 2026 - 20:52
شہید حسن نصراللہ (ره) نے تمام عمر بیت المقدس کی آزادی اور مظلوم فلسطینیوں کے لیے وقف کی

قائدِ ملت جعفریہ پاکستان:

شہید حسن نصراللہ (ره) نے تمام عمر بیت المقدس کی آزادی اور مظلوم فلسطینیوں کے لیے وقف کی

ظلم کے خلاف مزاحمت و مقاومت محض ایک عملی اقدام نہیں بلکہ ایک نظریہ، فکر اور عقیدہ ہے جو حالات کے بدلنے سے تبدیل نہیں ہوتا

حوزہ / علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا: بیت المقدس و حرمین شریفین کی حرمت عالمِ انسانیت بالخصوص عالمِ اسلام پر لازم ہے، شعائرِ اسلام جغرافیائی، سیاسی، مذہبی و مسلکی تفریق سے بالاتر ہیں، کامیابی کا راستہ اتحاد و وحدت کے آفاقی پیغام میں پنہاں ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قائدِ ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے شہید سید حسن نصراللہ (ره) کی دوسری برسی کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں کہا: شہید سید حسن نصراللہ (ره) ’’شہیدِ قدس‘‘ ہیں، جنہوں نے اپنی تمام زندگی بیت المقدس کی آزادی اور مظلوم فلسطینیوں کی حمایت کے لیے وقف کردی۔ ظالم کے مقابل کھڑا ہونا اور مظلوم کا ساتھ دینا ہی مقاومت و مزاحمت ہے، جس کے سرخیل شہید سید حسن نصراللہ (ره) تھے۔

انہوں نے مجاہدِ اسلام سید حسن نصراللہ (ره) کو ’’شہیدِ قدس‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا: بلاشبہ ان کی شہادت ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے، تاہم شہید کا لہو مقاومت و مزاحمت کو زندہ رکھے گا۔

علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا: شہید سید حسن نصراللہ (ره) نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ اسلام کی سربلندی، مظلوموں کے دفاع اور ظلم و استکبار کے خلاف جدوجہد کے لیے وقف کردیا۔ حضرت علیؑ کے فرمان ’’کُونَا لِلظَّالِمِ خَصْمًا وَلِلْمَظْلُومِ عَوْنًا‘‘ میں ہمارے لیے واضح رہنمائی موجود ہے کہ ظالم کے مقابل کھڑا ہونا اور مظلوم کا ساتھ دینا ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔

قائدِ ملت جعفریہ پاکستان نے کہا: ظلم کے خلاف مزاحمت و مقاومت محض ایک عملی اقدام نہیں بلکہ ایک نظریہ، فکر اور عقیدہ ہے، جو حالات کے بدلنے سے تبدیل نہیں ہوتا۔ اس کے طریقۂ کار میں حالات کے مطابق تبدیلی ممکن ہے، تاہم اس کی بنیادی فکر اور مقصد مستقل رہتے ہیں۔ مقاومت و مزاحمت میں حالات کے تقاضوں کے مطابق حکمتِ عملی اختیار کی جاتی ہے، مگر مقصد اور اصولی موقف پر ثابت قدمی برقرار رکھی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا: شہیدِ مقاومت سید حسن نصراللہ (ره) کا راستہ غیرتِ اسلامی، غیرتِ ایمانی اور مضبوط نظریے کا راستہ تھا؛ ایسا راستہ جس میں انسان جان جانِ آفریں کے سپرد تو کردیتا ہے لیکن وقت کے استکبار، سامراج اور صہیونیت کے سامنے سرنگوں نہیں ہوتا۔ آج عالمِ اسلام سمیت پوری انسانیت کو استکبار، سامراج اور صہیونیت کی جارحیت اور نسل کشی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔

علامہ سید ساجد علی نقوی نے مزید کہا: بیت المقدس ہو یا حرمین شریفین، ان کی حرمت تمام انسانیت بالخصوص عالمِ اسلام پر لازم ہے۔ شعائرِ اسلام کسی بھی قسم کی جغرافیائی، سیاسی، مذہبی یا مسلکی تفریق سے بالاتر ہیں۔

انہوں نے امتِ مسلمہ پر زور دیا کہ وہ اتحاد و وحدت کی اس رسی کو مضبوطی سے تھامیں جس کی جانب قرآنِ کریم کے آفاقی پیغام نے رہنمائی فرمائی ہے کیونکہ باہمی اتحاد و وحدت ہی کامیابی اور سربلندی کا راستہ ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha