اتوار 27 ستمبر 2026 - 13:13
شہید سید حسن نصراللہ حوزۂ علمیہ کے طالب علم کیسے بنے؟

حوزہ/ آیت اللہ سید محمد غروی نے شہید سید حسن نصراللہ سے اپنی نوجوانی کے زمانے میں ہونے والی ملاقاتوں کو یاد کرتے ہوئے بیان کیا کہ مالی مشکلات کے باوجود سید حسن نصراللہ دینی علوم حاصل کرنے کا بے حد شوق رکھتے تھے۔ ان کی دینی تعلیم کا آغاز آیت اللہ سید محمد باقر صدر سے تعارف اور ایک خط کے ذریعے حوزۂ علمیہ نجف میں ہوا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شہید سید حسن نصراللہ کی برسی کے موقع پر آیت اللہ سید محمد غروی نے حوزہ نیوز ایجنسی سے گفتگو میں ان دنوں کو یاد کیا جب سید حسن نصراللہ ابھی نوعمر تھے اور لبنان کے شہر صور میں مجالس اور نماز جماعت میں شرکت کیا کرتے تھے۔

آیت اللہ غروی نے کہا: ہم لبنان کے شہر صور میں تھے اور امام موسیٰ صدر کی خدمت میں رہتے تھے۔ سید حسن نصراللہ صور سے تقریباً دس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع گاؤں ’’بازوریہ‘‘ سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ اس زمانے میں 13، 14 سال کے نوجوان تھے اور صور آکر نماز جماعت میں شرکت کرتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ انقلاب اسلامی ایران سے پہلے لبنان میں ایسے نوجوان بہت کم تھے جو دین سے وابستہ ہوں۔ سید حسن نصراللہ دینی سوالات کرتے تھے اور مجھے اس نوجوان سے بہت خوشی ہوتی تھی۔

شہید سید حسن نصراللہ حوزۂ علمیہ کے طالب علم کیسے بنے؟

آیت اللہ غروی نے بتایا کہ ایک دن انہوں نے سید حسن نصراللہ سے کہا: ’’آپ دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے نجف جائیں اور عالمِ دین بنیں، اس بارے میں کیا خیال ہے؟‘‘

سید حسن نصراللہ نے جواب دیا: ’’مجھے بہت شوق ہے، لیکن میرے پاس مالی وسائل نہیں ہیں۔‘‘ ان کا گھرانہ بھی مالی مشکلات کا شکار تھا۔

آیت اللہ غروی نے کہا کہ میں نے ان سے پوچھا: ’’اگر کوئی آپ کے اخراجات کا انتظام کردے تو کیا آپ نجف جانے کے لیے تیار ہیں؟‘‘ انہوں نے جواب دیا: ’’جی ہاں، میں تیار ہوں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا: میں نے انہیں کچھ رقم دی اور کہا کہ اس سے عراق پہنچ جائیں، اس کے بعد اللہ تعالیٰ راستہ بنا دے گا۔ ساتھ ہی اپنے استاد آیت اللہ محمد باقر صدر کے نام ایک خط لکھا جس میں ان کی دینی صلاحیت اور شوق کا ذکر کرتے ہوئے درخواست کی کہ ان کی سرپرستی فرمائیں اور تعلیم، استاد اور رہائش کا انتظام کریں۔

سید حسن نصراللہ کچھ عرصے بعد واپس آئے اور بتایا کہ انہوں نے نجف پہنچ کر آیت اللہ باقر صدر کو خط دیا۔ اس موقع پر سید عباس موسوی بھی موجود تھے۔ آیت اللہ باقر الصدر نے خط پڑھنے کے بعد سید عباس موسوی سے فرمایا: ’’میں اس نوجوان کی سرپرستی تمہارے سپرد کرتا ہوں، اس کا خیال رکھنا۔‘‘

آیت اللہ غروی نے کہا کہ سید حسن نصراللہ نے اس موقع پر کہا: ’’خدا سید پر رحمت نازل کرے، انہوں نے ہمارے لیے راستہ کھولا۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ سید حسن نصراللہ کی والدہ بھی ان کے لیے دعا کرتی تھیں اور کہتی تھیں کہ اسی خط کی وجہ سے میرے بیٹے سید حسن کو نجف جانے کا موقع ملا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha