بدھ 19 اگست 2026 - 12:15
شهید سید حسن نصراللہ؛ ایمان، ولایت مداری اور مکتبِ مقاومت کا عملی نمونہ

حوزہ/ قم میں «شہید سید حسن نصراللہ کی شخصیت، فکر اور مکتب کا جائزہ» کے عنوان سے ایک خصوصی نشست منعقد ہوئی، جس میں مقررین نے حزب اللہ لبنان کے شہید سربراہ کی علمی، فکری، اخلاقی، روحانی اور جہادی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے انہیں آج کی نوجوان نسل اور حوزات علمیہ کے لیے ایک مؤثر عملی نمونہ قرار دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قم میں «شہید سید حسن نصراللہ کی شخصیت، فکر اور مکتب کا جائزہ» کے عنوان سے ایک خصوصی نشست منعقد ہوئی، جس میں مقررین نے حزب اللہ لبنان کے شہید سربراہ کی علمی، فکری، اخلاقی، روحانی اور جہادی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے انہیں آج کی نوجوان نسل اور حوزات علمیہ کے لیے ایک مؤثر عملی نمونہ قرار دیا۔

یہ نشست بین الاقوامی کانفرنس «امناء الرسل» کی جانب سے حوزہ علمیہ قم کی علمی انجمنوں کے دفتر میں منعقد ہوئی، جس میں حجت الاسلام والمسلمین علی مصباح یزدی، حجت الاسلام والمسلمین مجتبیٰ مصباح یزدی اور کانفرنس کے دیگر ذمہ داران نے شرکت کی۔

حجت الاسلام والمسلمین محمدتقی ربانی نے کہا کہ شہید سید حسن نصراللہ کے مکتب اور شخصیت پر علمی و تحقیقی کام کے لیے تقریباً 10 سے 12 منصوبے زیرِ غور ہیں۔ ان میں اتحاد و تقریب کا تصور، روحانی و اخلاقی سلوک، ذرائع ابلاغ کے استعمال کا طریقہ، مؤثر ابلاغ، قیادت کا انداز اور ادبیاتِ مقاومت جیسے موضوعات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہید نصراللہ کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں سے متعلق مستند مواد ابھی محدود ہے، اس لیے علمی اور تحقیقی سطح پر مزید سنجیدہ کام کی ضرورت ہے۔

حجت الاسلام والمسلمین رضا اسکندری نے کہا کہ آج بالخصوص نوجوانوں اور حوزہ علمیہ کے طلبہ کو ایسے کامیاب اور عملی نمونوں کی ضرورت ہے جن سے وہ قیادت، روحانیت، بحرانوں کے انتظام اور دینی سیاست کے میدان میں رہنمائی حاصل کرسکیں۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک شہید نصراللہ کے موضوع پر 300 سے زائد علمی مقالات کانفرنس کو موصول ہوچکے ہیں، جنہیں موضوعاتی اور عملی علمی مجموعوں کی شکل میں مرتب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

حجت الاسلام والمسلمین علی مصباح یزدی نے شہید سید حسن نصراللہ کو «ایمانِ عینی» کا بے مثال نمونہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی بنیادی خصوصیت یہ تھی کہ وہ دینی حقائق پر صرف یقین نہیں رکھتے تھے بلکہ ان حقائق کو اپنے کردار، فیصلوں اور روزمرہ زندگی میں عملی طور پر مجسم کرتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ آیت اللہ مصباح یزدی کے نزدیک شہید نصراللہ کی ولایت مداری محض ظاہری اطاعت تک محدود نہیں تھی، بلکہ وہ رہبر معظم انقلاب کی منویات کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کرتے تھے، حتیٰ کہ جہاں براہِ راست کوئی ہدایت موجود نہ ہو وہاں بھی اپنی بصیرت کے ذریعے مطلوبہ راستے کو پہچان لیتے تھے۔ اسی بنا پر آیت اللہ مصباح انہیں حضرت ولی عصر(عج) کے خاص اصحاب میں شمار کرتے تھے۔

حجت الاسلام والمسلمین مجتبیٰ مصباح یزدی نے بھی آیت اللہ مصباح یزدی اور شہید سید حسن نصراللہ کے گہرے فکری و روحانی تعلق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تعلق محض ذاتی دوستی نہیں بلکہ ایک مکتبی رشتہ تھا، جس کا محور اخلاق، ولایت فقیہ اور معرفتِ الٰہی کی بنیاد پر مجاہدین کی تربیت تھا۔ انہوں نے بتایا کہ شہید نصراللہ گہرے مطالعے کے شوقین تھے اور امام خمینیؒ، رہبر معظم انقلاب، شہید مطہری اور آیت اللہ مصباح یزدی کی فکری و علمی کتابوں کا مسلسل مطالعہ کرتے اور بعض مباحث اپنے قریبی ساتھیوں کو بھی پڑھاتے تھے۔

نشست کے اختتام پر ڈاکٹر عبدی پور نے آیت اللہ مصباح یزدی کے شہید نصراللہ سے متعلق افکار و نظریات کو ایک مشترکہ تحقیقی منصوبے کے تحت مرتب کرکے شائع کرنے کی تجویز پیش کی، تاکہ یہ کام مقاومت کے رہنماؤں اور اسلامی فکر کی اہم شخصیات کے باہمی فکری و روحانی تعلق کے حوالے سے ایک معتبر علمی ماخذ بن سکے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha