تحریر: مولانا سید مشاہد عالم رضوی
ماننسخ من أية أو ننسها نٱت بخير منها او مثلها ۔۔۔ بقرہ /آیت ١٠٦
ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ اے رسول ہم جب بھی کسی آیت کو منسوخ کرتے ہیں یا دلوں سے محو کردیتے ہیں تو اس سے بہتر یا اس کی جیسی آیت ضرور لے آتے ہیں۔
کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ ہر شی پر قادر ہے؟
یہ خدا کا کام ہے کہ وہ ہر زمانے میں اپنی نشانیاں دکھاتااور پیش کرتا رہتا ہے اور کوئی زمانہ اسکی نشانی سے خالی نہیں ہوتا ۔
یہ ہمارے علماء اور شہداء، اللہ کی آیتیں اور نشانیاں ہیں جو ہمیں خداکی طرف متوجہ کرتے ہیں اور ہمیں خدا سے ملاتے ہیں اور اسکی معرفت عطا کرتے ہیں۔ علماء وفقہاء کو آیت اللہ یعنی اللہ کی نشانی کہا جاتا ہے۔
کیوں ؟
اس لئے کہ وہ اپنے قلم و بیان علم و عمل اور اپنے تقوا وطہارت سے لوگوں کو خدا کا عرفان دیتے ہیں۔
یہی حال شہداء راہ خدا کا بھی ہے کہ جو امت کو اپنے خون کے ذریعے بیدار کرتے ہیں اور انہیں خواب غفلت سے چونکاتے ہیں !!
ولا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ اموات بل احیاء ولکن لا تشعرون۔ سورہ بقرہ
دوسری برسی
سید مقاومت حجت الاسلام والمسلمین شہید سیدحسن نصراللہ اور حجت الاسلام شہید سید ہاشم صفی الدین رضوان اللہ علیہما کی یہ دوسری برسی ہے ۔
اور ہم انہیں خراج عقیدت پیش کرنے اور ان سے تجدید عہد کرنے کے لئے یہاں جمع ہوئے ہیں کہ انہیں نے قوم کے تحفظ اور انسانیت کی خدمت کے لئے جو راہ خدا میں شہادت دی ہے اسے ہم ضائع و برباد نہیں ہونے دیں گے اور تادم مرگ اسی راستہ پر چلتے رہیں گے ۔
انا علی العہد ۔۔۔
سردست میرا موضوع سید مقاومت ہیں
بچپن اور نوجوانی
آپ لبنان کی راجدھانی بیروت کے مشرقی علاقے کے چھوٹے سے ایک قریہ میں غریب ماں باپ کے گھرانے میں پیدا ہوئے جہاں مختلف مذاہب کے ماننے والےآباد ہیں۔
اہل سنت ،عیسائی، شیعہ ،اور دیگر قبائل کے لوگ اس طرح آپ نے عام لوگوں کے ساتھ بچپن ہی سے میل ومحبت سے رہنا سیکھا اور ان کے دکھ درد میں شریک رہے اور اسرائیلی ظلم وتشدد کاشکارہوتےرہے۔
امام موسیٰ صدر سے والھیّت
یوں تو آپ آٹھ بھائی بہن تھے تین بھائی اور پانچ بہنیں اورآپکے والد ایک پھل فروش تھے چنانچہ جب آپ کچھ
بڑے ہوئے تو والد کی دوکان پر بیٹھتے تھے وہاں امام موسیٰ صدر رحمت اللہ علیہ ـ جو لبنان کے مظلوموں کی آواز تھے اور بانیان لبنان میں سے تھے ـ کی تصویر دیوار پر آویزاں تھی جسے دیکھا کرتے تھے اور اپنے والد سے کہتے تھے میں انہیں کی طرح بنوں گااس طرح سے امام موسیٰ صدر بچپنے ہی سے آپ کے اسوہ حسنہ قرار پائے۔
دین کے سلسلے میں متانت
دین کے معاملے میں جوانی ہی سے آپ بڑے سنجیدہ اور متین تھے چنانچہ اگر کوئی دین کے بارہ میں شوخی یا مذاق کرتا تو اسے آپ پسند نہیں کرتے تھے؛ یعنی جوانی ہی سے دین کے بارہ میں غیرت مند تھے۔
اعلی تعلیم کے لئے سفر
پھر آپ سترہ سال کی عمر میں اعلی تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے عراق کے شہر نجف اشرف گئے اور شہید محمد باقر الصدر جیسے فقیہ وبصیر نابغہ روزگار شخصیت کے زیر سایہ پروان چڑھے شہید نے آپ کو اپنے شاگرد خاص سید عباس موسوی ـ سابق جنرل سیکرٹری حزب اللہ ـ کے حوالہ کردیا اور اس طرح آپ دھیرے دھیرے عباس موسوی مرحوم کے شاگرد اورپھر دوست بن گئے ۔
یہاں تکہ صدام کے ظلم وزیادتی کی وجہ سے واپس لبنان آگیےاورامام موسیٰ صدر کی ـ الامل تحریک ـ کے ممبر ہوگئے ۔ اور جی جان سے قوم وملت کی خدمت میں سرگرم عمل ہوگئے ۔
قم مقدسہ میں تعلیم
پھرکچھ دنوں کے بعدمزیدتحصیل علم کے لئےقم مقدسہ ایران تشریف لے گئےلکن یہاں زیادہ دنوں تک قیام پذیر نہ رہ سکے اور لبنان کے مسائل کی وجہ سے جلد ہی وطن لوٹنا پڑا یہاں تک کہ
سن ١٩٨٢ ء میں حزب اللہ کی داغ بیل ڈالی اور اس میں فعالیت کرنے لگے۔
شہید عباس موسوی کی قدردانی
سید عباس موسوی ـ سابق جنرل سیکرٹری حزب اللہ ـ آپ کے بڑے قدر داں تھے اور اکثر اوقات اپنی جگہ تقریر کے لئے آپ کو بھیج دیا کرتے جبکہ ابھی آپ نوعمر ہی تھے سید کہتے ہیں کہ ایک دن میں نے جناب عباس موسوی سے کہا کہ آپ اور لوگوں کو کیوں نہیں بھیجتے؟ توسید موسوی نے جواب دیا تمہارے اندر شائستگی ہے ۔۔۔
کتاب سے شغف
سید مقاومت کے بیٹے کہتے ہیں کہ میرے بابا کو کتابیں پڑھنے کا بہت زیادہ شوق تھا ان کو جو کتاب ملتی ختم کئے بغیر نہیں رہتے دینی کتابوں کے علاوہ بڑے بڑے سیاست دانوں کے بارے میں پڑھنا اسرائیل کے بارہ میں باریک سے باریک معلومات فراہم کرنا اور اس کے داخلی امور کی رصد کرنا ان کا معمول تھا چنانچہ آپ اسرائیل کے
بارہ میں مکمل آگاہی رکھتے تھے اور اسے اندر سے پہچانتے تھے۔
کتاب پڑھنے کا عالم یہ تھا کہ پڑھنے کے بعد پوری کتاب پر بڑی آسانی سے تبصرہ کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے ۔
حزب اللہ عوامی تحریک
حزب اللہ کو عوامی تحریک بنانے میں بڑی تدبیر یں کی ہیں اور ٣٢ سال کی عمر میں حزب اللہ کے سکریٹری جنرل کا عہدہ سنبھالا اور اپنی ذہانت سے ایسے ایسے فیصلے لئے کہ آئے دن اسرائیلی آفیسرس اپنی ناکامی کا جائزہ لینے کے لئے میٹنگیں کرتے تاکہ دیکھیں سید حسن سے مقابلہ میں کہاں چوک ہوئی ہے !؟
ومکروا ومکر اللہ واللہ خیر الماکرین ۔۔۔
مدیریت کی توانائی
جنوب لبنان جانے پر اسرائیل جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے حزب اللہ کی گاڑیوں کو اس کے اندر موبائل ہونے کی وجہ سے لوکشن معلوم کرکے انہیں اڑادیتا تھا تو جب سید مقاومت کو صورتحال کا اندازہ ہوا توآپ نے تدبیر یہ کی کہ گاڑیوں میں موبائل فون کا استعمال منع کردیا پھر اسرائیل متوجہ ہوگیا تو اس نے ان گاڑیوں کو جو موبائل سے خالی ہوتیں انہیں ٹارگٹ کرنے لگا
سید نے پھر یہ تدبیر کی کہ راستے کے عیسائیوں سے ان کے موبائل کرایہ پر لیکر ڈگی میں ڈال دیتے تو اسرائیل انہیں نہیں مارپاتا ! یہ تھی سید کی سوجھ بوجھ اور انکی لاجواب مدیریت ۔
شریعت اسلامی کی پابندی
اگر استشھادی کاروائیوں میں کوئی بے بے گناہ ھلاک ہوجاتا تو اس کے ورثہ کو راضی کرتے اور اسے خون بہا دیتے تھے یہاں تک کہ اپنے پیش رو قائدین کے وقت کے بھی مہلوکین کا خون بہا چکایا ہے تاکہ ان کی گردن پر حق الناس نہ رہے ۔
سن ٢٠٠٠ ء میں جنوب لبنان کو غاصب اسرائیلیوں سے آزاد کرا لیا لیکن شبعا کاعلاقہ اسی طرح رہنے دیا جبکہ اسے بھی آزاد کراسکتے تھے کیوں؟
تاکہ اسرائیل پر حملے کا بہانہ رہے اور عرف بین الاقوامی میں اس کی توجیہ ہو سکے۔
شجاعت
ایک مرتبہ اسرائیل نے آپ کو قتل کی دھمکی دی تو آپ نڈر ہوکر اسرائیل کی سرحد پر پہنچ کر تقریر کرتے ہیں اور کہتے ہیں تم میں اتنی جرات نہیں جو مجھے قتل کرو ۔۔۔ اسرائیل کے جاسوسی نیٹ ورک کے بچھے ہوئے جال سے حزب اللہ کی فعالیت کو محفوظ رکھنے کے لئے
٧سے ٨ میٹر زمین کے اندر ٹیلیفون تار کھنچوائے اور حزب اللہ کو اس طرح تحفظ فراہم کرایا چنانچہ وائرلیس یا موبائل فون کے استعمال سے آزادی حاصل کرلی۔
جب اسرائیل نے سن ٢٠٠٦ ء میں بیروت پر حملہ کرکے اسے برباد کر دیا تو آپ نے ایک خطاب میں فرمایا تھا گھبراؤ نہیں پہلے سے بہتر آباد کریں گے اور آپ نے ایسا کرکے دیکھا دیا۔
سچ اور ہمیشہ سچ
صداقت میں شہرت عام رکھتے تھے حتی کہ یہودی صہیونی اپنے وزیر اعظموں سے زیادہ آپ کی باتوں پر یقین و بھروسہ رکھتے تھے اور جانتے تھے کہ سید جھوٹ نہیں بولتے؟
ہمیشہ بین الاقوامی اجتماعات میں مسلمانوں اور فلسطینی عوام کی حمایت کا اعلان کیا اور جو کہا وہ کیا بھی مگر اس اعلان کے ساتھ
کہ ہم علی کے شیعہ ہیں اور مظلوموں اور مسلمانوں کی حمایت ہم شیعہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہونے کی وجہ سے کرتے ہیں اور یہ ہمارا فریضہ دینی بھی ہے۔
بیٹے ہادی کی شہادت
١٨سالہ ھادی کی شہادت پر ثابت قدم رہے اور جب اسرائیلیوں سے جنازہ کے تبادلہ میں اسرائیل نے آپ کے کڑیل جوان بیٹے کی لاش واپس کی تو سید نے بیٹے کی لاش کامشاہدہ کیا تو آنکھوں میں آنسو آگئےچنانچہ ہاتھوں کو آنکھوں پررکھ لیا اور آنسو چھپانے کی کوشش کی پھر اٹھے اور وضو کیا دو رکعت نماز شکرانہ ادا کی بیٹے کو خود کفن دیا اور پھر جنازہ اپنے دوستوں کے حوالے کر دیا ۔
کیا یہ اپنے آقا حسین کی تأسی نہیں تھی؟!
شہادت کی طلب
کام اور آپ کی ذاتی معرفت کاانداز ہی کچھ ایسا تھا کہ موت آئے تو شہادت کی موت ہو اور اپنے شہید احباب کو یاد کرکے تقریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے آروزئے شہادت میں زندگی کے لمحات گزارتے یہاں تک کہ خداوند نے آپ کی دیرینہ آرزو کو قبول کر لیا اور جنایت کار اسرائیل نے اس مرد مومن کو جان سے مارنے کے لئے ٨٥ ٹن بم کا استعمال کیا اور پوری بلڈنگ زمین بوس کردی کہ جہاں ابھی ابھی آپ وضو کرنے کے لئے تشریف لے گئے تھے!!
تعجب کی بات ہے کہ ایک انسان کےقتل کے لئے اتنے کثیر مقدار میں گولا بارود استعمال کیاگیا!!
ہاں کیوں نہ ہو! جب قاتل اسرائیل جیسا خبیث وجنایت کار اور بزدل ہو اور مقتول مرد آھن مرد مجاہد مرد باایمان اور اکیلا ملت کے برابرسید حسن نصراللہ جیسا قائد عظیم الشان ہو تو یہ سب ممکن ہے ملت اسلامیہ خصوصا اھل تشیع کا افتخار ہے یہ شہادت،اس شہادت سے سید حسن نصراللہ نے اپنے اجداد طاہرین کی طرح تاریخ رقم کردی !
این سعادت بزور بازو نیست
تانبخشد خدائے بخشندہ
اس آیت کو ملاحظہ فرمائیں!
ان الله اشتری من المومنین انفسھم وامولھم بان لھم اللجنۃ يقاتلون في سبيل الله... سوره توبه/111
بیشک اللہ نے صاحبان ایمان سے ان کے جان و مال کو جنت کے بدلے خرید لیا ہے کہ یہ لوگ راہ خدا میں جہاد کرتے ہیں اور دشمنوں کوقتل کرتے ہیں اور پھر خود بھی قتل ہوجاتے ہیں یہ وعدہ برحق، توریت،انجیل اور قرآن ہر جگہ ذکر ہوا ہے ۔
اور خدا سے زیادہ اپنے عہد کا پورا کرنے والا کون ہوگا؟
اس طرح خدا وند متعال نے سید مقاومت شہید سیدحسن نصراللہ اور ان کے دیگر احباب کی جانوں کو بہشت بریں کے بدلے خرید لیا اور اس سے بہتر سودا کیا ہوگا؟
جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق آدا نہ ہوا
آج ہم لوگ ان شہیدوں کی یاد میں ان کے بہادرانہ و شجاعت مندانہ کار نامہ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں اور دنیا کے سامنے انکی مظلومیت بھری داستان پیش کرکے امریکہ اور اسرائیل کے منحوس وکریہ چہرے سے نقاب اٹھارہے ہیں تاکہ ان جنایت کاروں کو ٹھیک سے پہچانا جائے اور ان کے حامیوں کے کردار کو سمجھا جاسکے گھبرائے نہیں وہ دن دور نہیں جب ایک ایک کا حساب چکایا جائے گا۔
قریب ہے یارو روز محشر چھپے گا کشتوں کا خون کیوں کر ؟
جو چب رہے گی زبان خنجر لہو پکارے گا آستیں کا !










آپ کا تبصرہ