اتوار 27 ستمبر 2026 - 07:07
انقلاب اسلامی نے معاشرے کو بے راہ روی کی ثقافت سے نکال کر نور، معنویت اور انسانی کرامت سے بدل دیا

آیت اللہ دری نجف آبادی:

انقلاب اسلامی نے معاشرے کو بے راہ روی کی ثقافت سے نکال کر نور، معنویت اور انسانی کرامت سے بدل دیا

خواتین کے حوزاتِ علمیہ علم و معرفت، عفاف، خاندان اور مؤمن نسل کی تربیت کی علمبردار بنیں

حوزہ / آیت اللہ دری نجف آبادی نے اراک شہر کے حوزہ علمیہ خواہران کے نئے تعلیمی سال کے آغاز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایمان، معرفت، عفاف اور اسلامی اقدار کے فروغ میں حوزہ علمیہ کے کردار پر زور دیا اور آئندہ نسل کو بڑی ذمہ داریوں کے لیے تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے سید حسن نصر اللہ کی شہادت کی برسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شہداء مقاومت سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت پر بھی تاکید کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے صوبہ مرکزی میں نمائندہ ولی فقیہ آیت اللہ قربان علی دری نجف آبادی نے اراک شہر کے حوزہ علمیہ خواہران کے نئے تعلیمی سال کے آغاز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انقلاب اسلامی کے بعد علمی، حوزوی اور قرآنی مراکز کی ترقی کی جانب اشارہ کیا اور کہا: آج حوزہ علمیہ اور تربیتی مراکز کو ایمان، معرفت، عفاف، اخلاق، خاندان اور اسلامی اقدار کے فروغ کی راہ پر گامزن ہونا چاہیے اور آئندہ نسل کو بڑی ذمہ داریوں کے لیے تیار کرنا چاہیے۔

انہوں نے انقلاب اسلامی کی نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر اور شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا: ہمیں شکر گزار ہونا چاہیے کہ انقلاب اسلامی اور شہداء کرام کے خون کی برکت سے ملک میں علمی، قرآنی اور دینی مراکز کے فروغ کی راہ ہموار ہوئی اور آج ہم ایسے اداروں کا مشاہدہ کر رہے ہیں جو اسلامی تعلیم و تربیت کے میدان میں سرگرم عمل ہیں۔

صوبہ مرکزی میں نمائندہ ولی فقیہ نے انقلاب سے قبل تعلیمی اور ثقافتی مراکز کی صورتِ حال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا: اگر ہم آج کے ملک کے حالات کا ماضی سے موازنہ کریں تو ایک عظیم تبدیلی دکھائی دیتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا: آج قرآن، اسلامی معارف، تعلیم و تربیت اور حوزہ علمیہ کے میدان میں سرگرم ادارے انقلاب اسلامی کی برکت اور علما، روحانی شخصیات، شہداء اور مؤمن و انقلابی عوام کی کوششوں کا نتیجہ ہیں۔

آیت اللہ دری نجف آبادی نے کہا: انقلاب اسلامی نے معاشرے کو بے راہ روی کی ثقافت سے نکال کر نور، معنویت اور انسانی کرامت سے بدل دیا ہے۔ اسلامی ثقافت نور، عدل، انسانی کرامت، حسنِ اخلاق، ایمان، حیا، عفت، تقویٰ، ازدواج، عہد و ذمہ داری، معنویت اور فضیلت کی ثقافت ہے اور اسلامی معاشرے کو چاہیے کہ ان اقدار کو فردی اور اجتماعی زندگی کے مختلف شعبوں میں پہلے سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ رائج کرے۔

انہوں نے مزید کہا: خاندانی اقدار، خاندان کی اصالت، معارفِ اہل بیت علیہم السلام، امام خمینی قدس سرہ، رہبر معظم انقلاب اسلامی، علما، بزرگ شخصیات اور ان دانشوروں کے افکار و نظریات کو نئی نسل تک منتقل کیا جانا چاہیے جنہوں نے برسوں تک اسلام اور ایران کی سربلندی کے لیے جدوجہد کی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha