جمعہ 2 اکتوبر 2026 - 15:03
شہادت زندگی کا اختتام نہیں بلکہ فکر اور مشن کے آغاز کا نام ہے: مولانا سید مہدی عباس زیدی

حوزہ/ چھجپورہ سادات، بجنور میں حجۃ الاسلام و المسلمین سید مہدی عباس زیدی نے خطبۂ جمعہ میں شہادت کے مفہوم اور شہداء کی فکری و اخلاقی میراث پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ شہادت کو محض کسی انسان کی زندگی کے اختتام کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، بلکہ یہ ایک فکر، مقصد اور مشن کے آغاز کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، چھجپورہ سادات، بجنور میں حجۃ الاسلام و المسلمین سید مہدی عباس زیدی نے خطبۂ جمعہ میں شہادت کے مفہوم اور شہداء کی فکری و اخلاقی میراث پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ شہادت کو محض کسی انسان کی زندگی کے اختتام کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، بلکہ یہ ایک فکر، مقصد اور مشن کے آغاز کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔

انہوں نے قرآن مجید کی آیت وَلَا تَحۡسَبَنَّ ٱلَّذِينَ قُتِلُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ أَمۡوَٰتَۢاۚ بَلۡ أَحۡيَآءٌ عِندَ رَبِّهِمۡ يُرۡزَقُونَ - ( 169 سوره آل عمران) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے ہیں، انہیں مردہ نہ سمجھو، بلکہ وہ اپنے پروردگار کے نزدیک زندہ ہیں اور انہیں رزق دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہید اپنے خون اور قربانی کے ذریعے معاشرے میں ایسی فکری میراث چھوڑ جاتا ہے جو اس کی ظاہری زندگی کے اختتام کے بعد بھی لوگوں کے دلوں اور ذہنوں میں زندہ رہتی ہے۔

مولانا سید مہدی عباس زیدی نے کہا کہ شہید کا خون کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔ اس کی قربانی معاشرے میں بیداری پیدا کرنے، اصلاحِ معاشرہ کو فروغ دینے اور نئی نسل کی فکری و اخلاقی تربیت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ شہداء کی قربانیاں آنے والی نسلوں کو جدوجہد، مقصد، ایثار اور انسانیت کے راستے پر آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ عظیم مقاصد کے لیے دی جانے والی قربانیاں معاشروں کی سمت تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ جب کوئی انسان اپنے ایمان، اصول اور مقصد کے لیے اپنی زندگی قربان کرتا ہے تو اس کی قربانی صرف اس کے خاندان یا اس کے عہد تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات آنے والی نسلوں تک پہنچتے ہیں۔

شہادت زندگی کا اختتام نہیں بلکہ فکر اور مشن کے آغاز کا نام ہے: مولانا سید مہدی عباس زیدی

حجۃ الاسلام سید مہدی عباس زیدی نے مزید کہا کہ انسان کی حقیقی موت صرف جسم کے ختم ہونے کا نام نہیں، بلکہ حقیقی موت اس وقت ہوتی ہے جب اس کے افکار، مقاصد اور اصول بھی ختم ہوجائیں۔ اگر کسی انسان کے افکار معاشرے کے دلوں اور ذہنوں میں جگہ بنا لیں اور ایک مشن کی شکل اختیار کرلیں تو وہ دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی اپنے افکار کے ذریعے زندہ رہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی عظیم مقصد کے لیے جدوجہد کرنے والے شخص کی شناخت صرف اس کی زندگی تک محدود نہیں ہوتی۔ اس کے افکار، تعلیمات اور نظریات اس کے بعد بھی لوگوں کی رہنمائی کرتے رہتے ہیں۔ اسی لیے شہداء کی یاد صرف ماضی کی یاد نہیں بلکہ حال اور مستقبل کے لیے بھی ایک اہم ذریعۂ الہام ہے۔

مولانا سید مہدی عباس زیدی نے کہا کہ نئی نسل کو شہداء کی زندگی، جدوجہد اور ان کے مقاصد سے روشناس کرانا ضروری ہے، تاکہ نوجوان شہادت کے جذباتی پہلو کے ساتھ ساتھ ان اقدار اور اصولوں کو بھی سمجھیں جن کے لیے شہداء نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

چھجپورہ کے امام جمعہ نے شہید سید حسن نصر اللہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف ایک شخصیت نہیں بلکہ ایک فکر اور نظریے کی علامت تھے۔ ان کے افکار اور مقاصد ایک فرد سے دوسرے فرد تک منتقل ہوکر معاشرے، بالخصوص نوجوان نسل کو متاثر کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کسی شخصیت کے اثرات کا اندازہ صرف اس کے دورِ حیات میں انجام دیے گئے کاموں سے نہیں لگایا جاسکتا، بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ اس کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد اس کے افکار معاشرے میں کس طرح زندہ رہتے ہیں۔ اگر کسی شخصیت کے افکار لوگوں میں بیداری پیدا کریں، انہیں کسی مقصد کے لیے جدوجہد پر آمادہ کریں اور ان کے اندر احساسِ ذمہ داری پیدا کریں تو اس کا مشن اس کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔

خطبۂ نماز جمعہ میں خطیب نے کہا کہ شہید سید حسن نصر اللہ کی یاد اور ان کے افکار آج بھی ان کے پیروکاروں اور ان سے متاثر ہونے والے لوگوں کے درمیان زیرِ بحث ہیں۔ ان کے ماننے والے ان کی زندگی اور جدوجہد کو ایک ایسی فکری میراث سمجھتے ہیں جو نئی نسل تک منتقل ہورہی ہے۔

حجۃ الاسلام و المسلمین سید مہدی عباس زیدی نے کہا کہ آج کی نوجوان نسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہداء کی قربانیوں کو صرف نعروں اور یاد تک محدود نہ رکھے بلکہ ان کی زندگی سے ایمان، استقامت، ایثار، ذمہ داری اور انسانیت جیسے اقدار سیکھے۔

انہوں نے کہا کہ معاشرے کی ترقی صرف مادی وسائل اور ظاہری ترقی سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے مضبوط فکر، اخلاقی اقدار اور سماجی ذمہ داری بھی ضروری ہے۔ اگر نوجوان اپنے مقصد کو پہچانیں اور معاشرے کی بھلائی کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں تو وہ معاشرے کے بہتر مستقبل کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ شہید کی قربانی معاشرے کے لیے ایک پیغام ہوتی ہے؛ ایسا پیغام جو انسان کو اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے، ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے، انسانی وقار کی حفاظت اور معاشرے میں مثبت تبدیلی کے لیے جدوجہد کی ترغیب دیتا ہے۔

آخر میں مولانا سید مہدی عباس زیدی نے کہا کہ شہید دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے، لیکن اس کے افکار، مقاصد اور نظریات معاشرے میں زندہ رہ سکتے ہیں۔ لہٰذا شہداء کو حقیقی خراجِ عقیدت یہی ہے کہ ان کے پیش کردہ اقدار کو سمجھا جائے اور انہیں آنے والی نسلوں تک منتقل کیا جائے۔ جس فکر کو انسان اپنے مقصدِ زندگی کا حصہ بنا لیتا ہے، وہ وقت گزرنے کے ساتھ ختم نہیں ہوتی بلکہ نئی نسلوں کے ذریعے آگے بڑھتی رہتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha