حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، 9 اکتوبر 2026 کو اتر پردیش کے ضلع بجنور کے چھجوپورہ سادات میں خطبۂ جمعہ کے دوران حجۃ الاسلام و المسلمین مولانا سید مہدی عباس زیدی نے کہا کہ فتنوں کی شناخت اور حق و باطل کے درمیان فرق کرنے کے لیے تقویٰ، بصیرت اور صحیح معلومات ضروری ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی خبر، بیان یا دعوے کو قبول کرنے سے پہلے اس کی تحقیق کرنی چاہیے، تاکہ انسان گمراہی اور غلط فہمی سے محفوظ رہ سکے۔
مولانا سید مہدی عباس زیدی نے قرآن مجید کی سورۂ انفال کی آیت 29 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’اے ایمان والو! اگر تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو گے تو وہ تمہیں حق و باطل میں فرق کرنے کی صلاحیت عطا کرے گا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ قرآن کا حکم ’’فَتَبَیَّنُوا‘‘ ہمیں سکھاتا ہے کہ کسی بھی خبر کو تصدیق کے بغیر قبول نہ کیا جائے اور نہ ہی اسے دوسروں تک پہنچایا جائے۔
انہوں نے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے کلام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر باطل حق کی آمیزش سے پاک ہوتا تو حق کے متلاشیوں سے پوشیدہ نہ رہتا، اور اگر حق باطل کی آمیزش سے بالکل الگ ہوتا تو مخالفین کو اس کی مخالفت کا موقع نہ ملتا۔ لیکن جب حق اور باطل کو اس طرح ملا دیا جاتا ہے کہ دونوں ایک دوسرے سے مشابہ نظر آنے لگتے ہیں تو لوگوں کے لیے صحیح راستے کی شناخت مشکل ہو جاتی ہے۔ یہ مضمون نہج البلاغہ کے خطبہ نمبر 50 میں بیان ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فتنوں کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ظلم کو انصاف، جانبداری کو دینی غیرت اور ذاتی مفادات کو اجتماعی بھلائی کا نام دے دیا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں محض معلومات کافی نہیں ہوتیں، بلکہ تقویٰ اور بصیرت بھی ضروری ہوتی ہے۔
مولانا مہدی عباس زیدی نے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے ایک اور فرمان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فتنوں کی ابتدا ان خواہشات سے ہوتی ہے جن کی پیروی کی جاتی ہے اور ان خود ساختہ احکام سے ہوتی ہے جنہیں دین کا حصہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات انسان پہلے اپنی پسند کے مطابق نتیجہ طے کر لیتا ہے اور پھر اسے درست ثابت کرنے کے لیے دلائل تلاش کرتا ہے۔ اس طرح عقل حقیقت کی تلاش کے بجائے ذاتی خواہشات کے دفاع میں مصروف ہو جاتی ہے اور بصیرت کمزور پڑنے لگتی ہے۔
جنگِ جمل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلامی تاریخ کا یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ معروف مذہبی اور سماجی شخصیات کی موجودگی میں بھی صحیح موقف کی شناخت مشکل ہو سکتی ہے۔ اس لیے کسی شخص کی شہرت یا سماجی مقام کو حق و باطل کی پہچان کا معیار نہیں بنانا چاہیے، بلکہ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ حق کس کے ساتھ ہے۔
انہوں نے موجودہ عرب دنیا کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے خبردار کیا کہ مذہبی شناخت اور مقدس مقامات سے وابستہ جذبات کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق، کسی مقدس مقام کا نام لینا بذاتِ خود کسی سیاسی دعوے کی صداقت کی دلیل نہیں ہے۔ اسی طرح مقدس مقامات پر حملوں سے متعلق کسی بھی دعوے کو بھی غیر جانب داری کے ساتھ جانچنا ضروری ہے۔
مولانا سید مہدی عباس زیدی نے مزید کہا کہ درست فیصلہ کرنے کے لیے علم کے ساتھ تقویٰ، بصیرت اور حقیقت کو پہچاننے کی صلاحیت بھی ضروری ہے۔ تاریخ میں ایسے لوگ بھی گزرے ہیں جنہوں نے معروف شخصیات کی شہرت کو ترجیح دی، جبکہ بصیرت رکھنے والوں نے ان کے دعووں اور اعمال کو اصولوں کی کسوٹی پر پرکھا۔
آخر میں انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ علم حاصل کریں، تقویٰ اختیار کریں اور اپنی بصیرت کو مضبوط بنائیں۔ کسی بھی خبر، بیان یا سیاسی دعوے کو قبول کرنے سے پہلے اس کے ماخذ اور شواہد کی تحقیق کریں۔ انہوں نے کہا کہ حق کی شناخت مقبولیت، جذباتی نعروں یا مذہبی اصطلاحات سے نہیں، بلکہ سچائی، دلیل اور انصاف کی بنیاد پر کی جانی چاہیے۔ فتنوں کے دور میں یہی طرزِ فکر انسان کو گمراہی سے بچا کر حق و باطل کے درمیان صحیح فرق کرنے میں مدد دیتا ہے۔










آپ کا تبصرہ