حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سکردو بلتستان میں محسنِ ملت (رہ) کی یاد میں منعقد ہونے والی پہلی نہج البلاغہ کانفرنس کے معزز مہمانوں نے مدرسہ حفاظ القرآن سکردو کا دورہ کیا، جہاں ان کے اعزاز میں ایک پُروقار اور یادگار تقریب کا اہتمام کیا گیا۔
دورے میں محسنِ ملت (رہ) کے معتمد اور مرکزِ افکارِ اسلامی کے سربراہ حجۃ الاسلام علامہ مقبول حسین علوی، پاکستان کے نامور خطیب ڈاکٹر پروفیسر عابد حسین، معروف عالمِ دین لیاقت علی اعوان اور دیگر معزز مہمانانِ گرامی شریک تھے۔
تقریب کا آغاز مدرسہ کے طلبہ کی تلاوتِ کلامِ الٰہی اور دلنشیں تواشیح سے ہوا۔ اس کے بعد ادارے کے پرنسپل شیخ محمد الیاس قمی نے مہمانوں کا خیرمقدم کیا اور مدرسے کا تعارف پیش کرتے ہوئے اس کے قرآنی مشن، دینی خدمات اور تعلیم و تربیت کے حوالے سے جاری سرگرمیوں پر روشنی ڈالی۔

ڈاکٹر پروفیسر عابد حسین نے اپنے خطاب میں قرآن مجید، حاملانِ قرآن اور حفاظِ کلامِ الٰہی کی فضیلت و منزلت کو آیاتِ قرآنی اور احادیثِ معصومین (ع) کی روشنی میں بیان کیا۔
انہوں نے قرآن کریم کی تعلیم حاصل کرنے، اسے حفظ کرنے اور اس کی تعلیمات کو عملی زندگی میں اپنانے کی اہمیت اجاگر کی۔

مہمانِ خصوصی حجۃ الاسلام علامہ مقبول حسین علوی نے اپنے پُراثر خطاب میں حفاظِ قرآن اور ان کے والدین کو اس عظیم سعادت پر مبارک باد پیش کی۔
انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی اس عظیم منزلت کو پہچانیں، قرآنی تعلیمات کو حرزِ جاں بنائیں اور حفظِ قرآن کی نعمت کے تقاضوں کو اپنی زندگیوں میں پورا کریں۔
علامہ مقبول حسین علوی نے مدرسہ حفاظ القرآن کو محسنِ ملت (رہ) کی امیدوں کا مرکز قرار دیتے ہوئے اس قرآنی گلشن کی ترقی، کامیابی اور تسلسل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ انہوں نے محسنِ ملت (رہ) کی روح کی شادابی اور بلندیِ درجات کے لیے دعا بھی فرمائی۔

تقریب کے اختتام پر دعائے امامِ زمانہ (عج) کی گئی۔ بعد ازاں معزز مہمانوں نے طلبہ سے انفرادی ملاقاتیں کیں، ان سے گفتگو کی اور محبت و شفقت کے ساتھ ان کی حوصلہ افزائی کی۔










آپ کا تبصرہ