حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ادبی تنظیم بزمِ علم و فن کے زیرِ اہتمام ایوانِ اقبال سکردو میں منعقدہ تقریب کی صدارت معروف مؤرخ و مصنف یوسف حسین آبادی نے کی، جبکہ معروف ادیب و مصنف محمد حسن حسرت، ڈگری گرلز کالج سکردو کی پرنسپل ڈاکٹر عظمیٰ سلیم اور سینئر صحافی و مصنف قاسم نسیم مہمانانِ خصوصی تھے۔

تقریب میں ادیبوں، مؤرخین، شعراء، صحافیوں، اساتذہ، ڈگری گرلز کالج کی طالبات، مصنفہ کے والدین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔
نظامت کے فرائض امتیاز صادقی اور میر اسلم سحر نے انجام دیے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یوسف حسین آبادی نے کہا کہ محض 13 سال کی عمر میں فلسطین کے مظلوم عوام کے درد کو محسوس کرنا، اس مسئلے کی بین الاقوامی اہمیت کو سمجھنا اور اس موضوع پر مکمل کتاب تحریر کرنا غیر معمولی صلاحیت اور حساسیت کی علامت ہے۔ سیدہ منساء زہراء کے دل میں مظلوم انسانیت کے لیے موجود درد قابلِ تحسین ہے۔
انہوں نے اسلامی ممالک کے متعدد حکمرانوں کی جانب سے مسئلۂ فلسطین کی سنگینی اور امتِ مسلمہ کی اجتماعی ذمہ داری کا حقیقی احساس نہ کیے جانے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کی توجہ اقتدار اور ذاتی مفادات کے تحفظ پر مرکوز ہے۔

محمد حسن حسرت نے کم عمر مصنفہ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایک تیرہ سالہ طالبہ کا فلسطین جیسے حساس اور پیچیدہ عالمی مسئلے کو اپنے ناول کا موضوع بنانا قابلِ ستائش ہے۔ یہ تخلیق مصنفہ کی فکری پختگی، گھریلو تربیت اور ادبی صلاحیتوں کی عکاس ہے۔ سیدہ منساء نے کہانی کے تسلسل، اسلوب اور موضوع کی سنجیدگی کو جس خوب صورتی سے برقرار رکھا ہے، وہ غیر معمولی ہے۔ یہ کتاب انگریزی ادب میں ایک قابلِ قدر اضافہ ہے اور عالمی سطح پر فلسطین کے مظلوم عوام کی آواز پہنچانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
سینئر صحافی و مصنف قاسم نسیم نے کہا کہ 13 سال کی عمر میں کتاب تحریر کرنا بذاتِ خود ایک غیر معمولی کامیابی ہے، تاہم سیدہ منساء کی تخلیق کا نمایاں پہلو یہ ہے کہ انہوں نے عام موضوعات سے ہٹ کر جنگ زدہ فلسطین کے حالات اور مظلوم انسانوں کی مشکلات کو اپنی تحریر کا موضوع بنایا ہے۔ انگریزی زبان میں کتاب لکھنے کا مقصد بھی غالباً فلسطین کا پیغام عالمی برادری تک وسیع پیمانے پر پہنچانا ہے۔ یہ کتاب مظلوموں کی حمایت اور ظلم کے خلاف ایک مؤثر ادبی و فکری آواز ہے۔

ڈاکٹر عظمیٰ سلیم نے اپنے خطاب میں سیدہ منساء زہراء کی تخلیقی صلاحیتوں اور کتاب کے پیغام کو سراہتے ہوئے کہا کہ انسان کی آواز چھوٹی یا کمزور ہو سکتی ہے، لیکن اگر اس میں سچائی اور احساس موجود ہو تو وہ پوری دنیا تک پہنچ سکتی ہے۔
انہوں نے طالبات کو سیدہ منساء کی مثال سے حوصلہ حاصل کرنے، اپنے خوابوں پر یقین رکھنے اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے معاشرے میں مثبت تبدیلی کے لیے کردار ادا کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے امجد اسلام امجد کے اشعار بھی پیش کیے اور مصنفہ کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

معروف سماجی و ادبی شخصیت آغا زمانی نے کہا کہ یہ ان کے لیے انتہائی مسرت اور فخر کا لمحہ ہے کہ ان کے عزیز دوست ڈاکٹر زوار حسین زیدی کی 13 سالہ صاحبزادی سیدہ منساء زہراء نے اپنی پہلی کتاب کے ذریعے نہ صرف اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کیا ہے بلکہ فلسطین کے مظلوم عوام سے اپنی قلبی وابستگی اور انسانی ہمدردی کا بھی بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ منساء نے اپنی کم عمری میں ثابت کیا ہے کہ قلم کی طاقت عمر کی محتاج نہیں ہوتی۔ کتاب میں فلسطین کی ایک مظلوم بیٹی کے درد، معصوم خوابوں، خاندانی محبت اور آزادی کی آرزو کو الفاظ کی صورت دے کر حساس انسانی جذبات کی ترجمانی کی گئی ہے۔
آغا زمانی نے کہا کہ اس کتاب کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ فلسطین کا درد صرف فلسطینی عوام کا نہیں بلکہ ہر زندہ ضمیر انسان کا درد ہے۔

انہوں نے ڈاکٹر زوار حسین زیدی اور ان کے خاندان کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ والدین کی جانب سے بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی ان کے روشن مستقبل کی بنیاد بنتی ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ سیدہ منساء زہراء کو علم، ادب اور معرفت کے میدان میں مزید کامیابیاں عطا فرمائے۔
مصنفہ کے والد ڈاکٹر زوار حسین زیدی نے بزمِ علم و فن، میر اسلم سحر، تقریب کے منتظمین، مقررین اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سکردو میں ان کی بیٹی کی کتاب کی پذیرائی کے لیے اس قدر شاندار علمی و ادبی تقریب کا انعقاد ان کے لیے باعثِ مسرت و اعزاز ہے۔
انہوں نے بلتستان کی علمی، ادبی اور دینی شخصیات کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین سے وابستگی اور مظلوموں کے درد کا احساس انہیں بچپن ہی سے خاندانی اور دینی ماحول سے ملا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی بیٹی نے قرآن کریم کی تعلیم بھی بلتستان سے تعلق رکھنے والے استاد قاری عسکری سے حاصل کی ہے۔
ڈاکٹر زوار حسین زیدی نے خصوصی طور پر آغا سید مجتبیٰ زمانی کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے کتاب کا مطالعہ کرکے اس پر تفصیلی تبصرہ تحریر کیا۔
انہوں نے بتایا کہ کتاب کے ایک ہزار نسخے فروخت ہو چکے ہیں اور آئندہ مارچ میں مزید ایک ہزار نسخے شائع کرنے کا ارادہ ہے، جن میں سے بلتستان کی علمی، ادبی اور تعلیمی شخصیات کو بھی کتاب کے نسخے پیش کیے جائیں گے۔
تقریب کی مرکزی شخصیت اور مصنفہ سیدہ منساء زہراء زیدی نے انگریزی زبان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین میں جاری مظالم نے ان کے دل پر گہرا اثر ڈالا۔ وہاں معصوم بچوں، نوجوان لڑکیوں اور عام شہریوں کی شہادتوں اور تباہ حال زندگیوں نے انہیں اس موضوع پر لکھنے کی تحریک دی۔

انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ تجسس اور سنسنی سے بھرپور ناول لکھنا چاہتی تھیں، تاہم اکتوبر میں فلسطین کی صورتِ حال نے ان کے خیالات کا رخ بدل دیا۔ اپنے والد کی ترغیب پر انہوں نے اپنا پہلا ناول فلسطین کے موضوع پر تحریر کرنے کا فیصلہ کیا اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے یہ کتاب شائع ہوئی۔
سیدہ منساء نے کہا کہ ان کی کتاب فلسطین میں ہونے والے تمام مظالم اور واقعات کی مکمل عکاسی نہیں کر سکتی، کیونکہ فلسطینی عوام جن حالات سے گزر رہے ہیں، ان کا حقیقی تصور کرنا بھی مشکل ہے۔ ان کی کوشش صرف یہ ہے کہ دنیا کو فلسطینی عوام کی مشکلات سے آگاہ کیا جائے اور مظلوموں کی آواز عالمی برادری تک پہنچائی جائے۔

انہوں نے ایران اور فلسطین کے حوالے سے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مظلوموں کی حمایت اور اصولی مؤقف کے لیے قربانیاں دینے والوں کی جدوجہد کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔
تقریب سے امتیاز صادقی، معروف شاعر احسان علی دانش، سابق چیئرمین بلدیہ تقی اخونزادہ، معروف صحافی قاسم بٹ، رکن گلگت بلتستان اسمبلی ڈاکٹر شریف استوری اور مصنفہ کے قرآن ٹیچر استاد قاری عسکری نے بھی خطاب کیا اور کم عمر مصنفہ کی ادبی کاوش کو سراہتے ہوئے ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔










آپ کا تبصرہ