جمعہ 6 نومبر 2026 - 18:29
معاشرتی بدعنوانیوں کا خاتمہ تقوائے الٰہی کے بغیر ممکن نہیں؛ علماء حق گوئی میں آزاد ہیں، گلگت بلتستان کے وسائل پر عوام کا حق تسلیم کیا جائے: آغا سید باقر الحسینی

حوزہ/ نائب امام جمعہ والجماعت مرکزی جامع مسجد سکردو، حجۃ الاسلام آغا سید باقر الحسینی نے کہا ہے کہ معاشرتی بدعنوانیوں اور بے ایمانی کے خاتمے کے لیے تقوائے الٰہی اور تعلیماتِ اہل بیتؑ کو عملی زندگی میں اپنانا ضروری ہے۔ انہوں نے علماء و خطباء کی حق گوئی کی آزادی، مظلوم اقوام کی حمایت اور گلگت بلتستان کے آئینی و معاشی حقوق کے تحفظ پر بھی زور دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سکردو-بلتستان/ نائب امام جمعہ والجماعت مرکزی جامع مسجد سکردو، حجۃ الاسلام آغا سید باقر الحسینی نے نماز جمعہ کے دونوں خطبوں میں تقوائے الٰہی، سیرتِ علویؑ، اصلاحِ معاشرہ، علماء کی دینی ذمہ داریوں اور عالمی سیاسی صورت حال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ معاشرے سے دھوکہ دہی، فراڈ، بددیانتی اور ناجائز منافع خوری کا خاتمہ تقوائے الٰہی کے بغیر ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی دینی تعلیمات کا اثر انسان کے کردار، معاملات اور معاشرتی رویوں میں ظاہر ہونا چاہیے، جبکہ علماء و خطباء کو حق گوئی اور اپنی شرعی ذمہ داریاں ادا کرنے میں مکمل آزادی حاصل ہونی چاہیے۔

آغا سید باقر الحسینی نے قرآن مجید کی سورۂ حجرات کی آیت 12 اور امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے فرمان «أُوصِيكُمْ عِبَادَ اللهِ وَنَفْسِي بِتَقْوَى اللهِ وَنَظْمِ أَمْرِكُمْ» کا حوالہ دیتے ہوئے تقوائے الٰہی اور نظمِ زندگی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ تقویٰ، محاسبۂ نفس اور اپنی عملی زندگی کی اصلاح سے ہو کر گزرتا ہے۔ انسان کو دوسروں کی خامیاں تلاش کرنے کے بجائے پہلے اپنے کردار اور اعمال کا جائزہ لینا چاہیے۔

انہوں نے معاشرتی اور کاروباری معاملات میں دیانت داری کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ زمینوں، مکانات، گاڑیوں اور دکانوں کی خرید و فروخت میں دھوکہ دہی اور لانجہ گری جیسے رویوں نے معاشرتی اعتماد کو نقصان پہنچایا ہے۔ اسی طرح خاندانی تعلقات میں محبت، اخوت اور باہمی ہمدردی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، کیونکہ دنیاوی لالچ اور دولت کی ہوس نے والدین، اولاد اور دیگر رشتہ داروں کے درمیان خلوص اور باہمی تعلقات کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے قوموں، قبائل اور خاندانوں کے درمیان اختلافات پیدا کرنے والے اقدامات سے اجتناب اور گفتگو میں شائستگی و اخلاقی اقدار کی پابندی پر بھی زور دیا۔

آغا باقر الحسینی نے نماز جمعہ اور دینی مجالس کی حقیقی افادیت کو عملی اصلاح سے وابستہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان اجتماعات میں شرکت اسی وقت نتیجہ خیز ثابت ہوگی جب ان کی تعلیمات انسان کے اخلاق و کردار میں مثبت تبدیلی پیدا کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ فقہ جعفریہ میں علماء و خطباء اپنی شرعی ذمہ داریاں آزادانہ طور پر ادا کرتے ہیں اور کسی حکومت یا ادارے کو انہیں اپنی مرضی کے مطابق خطبہ دینے پر مجبور کرنے کا حق نہیں۔ علماء کے درمیان مشاورت ضروری ہے، لیکن دینی منبر پر کسی قسم کی ڈکٹیشن قبول نہیں کی جا سکتی۔ خطبۂ جمعہ اللہ تعالیٰ کے احکام اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات بیان کرنے کا اہم ذریعہ ہے، اس لیے خطیب کی ذمہ داری ہے کہ وہ حق بات بیان کرے۔

انہوں نے دنیا کے مختلف علاقوں میں نماز جمعہ، مجالس اور دینی اجتماعات پر پابندیوں اور حقائق بیان کرنے والے علماء کو ایف آئی آر، انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے مقدمات اور قید کی دھمکیوں کا سامنا ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دینی اجتماعات معاشرے کی فکری و اخلاقی تربیت اور اصلاح کا اہم ذریعہ ہیں، لہٰذا ان کی آزادی اور اہمیت کا تحفظ ضروری ہے۔

عالمی سیاسی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے آغا سید باقر الحسینی نے امریکہ اور اسرائیل کی استعماری پالیسیوں اور مظلوم اقوام کے خلاف سازشوں کی مذمت کی۔ انہوں نے شہید رہبر انقلاب، ایران اور فلسطین کے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے حکومت پاکستان اور آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے مطالبہ کیا کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی پر نظرثانی کرے اور امریکہ پر انحصار کے بجائے ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ اور باہمی تعاون پر مبنی تعلقات کو فروغ دے۔

سانحۂ سکردو کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے بے گناہ انسانوں، بالخصوص معصوم بچوں کے قتل کو ناقابلِ معافی جرم قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ گرفتار ملزمان کو جلد بلتستان منتقل کرکے شفاف اور مکمل تحقیقات کی جائیں، واقعے میں ملوث دیگر افراد کو بھی گرفتار کیا جائے اور تمام مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ انہوں نے اس سلسلے میں انتظامیہ، پولیس اور چیف جسٹس گلگت بلتستان کی جانب سے فوری اقدامات کو سراہا۔

انہوں نے پاراچنار کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چند افراد کے جرم کی بنیاد پر کسی پوری قوم، علاقے یا مسلک کو موردِ الزام ٹھہرانا ناانصافی ہے۔ سوشل میڈیا پر پاراچنار اور بلتستان کے عوام کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی کوششیں قابلِ مذمت ہیں اور عوام کو ایسی سازشوں سے ہوشیار رہنا چاہیے۔

گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ عوام کو اعتماد میں لیے بغیر صوبائی حیثیت یا کسی دوسرے آئینی انتظام کے نام پر کوئی فیصلہ مسلط نہیں کیا جانا چاہیے۔ اگر صوبائی حیثیت دی جاتی ہے تو اس کے ساتھ مکمل آئینی حقوق، بااختیار نظام اور قدرتی وسائل پر مقامی عوام کی ملکیت و اختیار بھی یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے علاقے کے سونے سمیت قدرتی وسائل کی مبینہ غیر قانونی منتقلی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے شفاف تحقیقات اور ان وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی کو گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی پر خرچ کرنے کا مطالبہ کیا۔

علاقے میں بجلی کے بحران پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ گلگت بلتستان کی بنیادی ضروریات کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کیا جائے، سو میگاواٹ کے سولر منصوبے میں تاخیر ختم کرکے کام شروع کیا جائے اور فوری طور پر کم از کم چالیس سے پچاس میگاواٹ بجلی فراہم کرنے کی کوشش کی جائے۔ انہوں نے سردیوں سے قبل گیس کی فراہمی اور قیمتوں کے مسئلے کے حل کے لیے انتظامیہ اور متعلقہ تاجروں کے درمیان مذاکرات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

مجوزہ نئے ٹیکسوں کی مخالفت کرتے ہوئے آغا باقر الحسینی نے کہا کہ بنیادی آئینی حقوق اور ضروری سہولیات سے محروم عوام پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنا مناسب نہیں۔ اگر ٹیکس عائد کرنا مقصود ہے تو بڑے ہوٹلوں اور وسیع کاروباری مفادات کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے، نہ کہ غریب عوام اور چھوٹے تاجروں کو نشانہ بنایا جائے۔

ایران کے لیے بلتستان کے عوام کی جانب سے جمع کیے گئے عطیات کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ 43 کروڑ روپے سے زائد کی رقم مکمل حساب کتاب اور شفافیت کے ساتھ متعلقہ حکام تک پہنچا دی گئی ہے۔ ایرانی سفیر نے بلتستان کے عوام کے جذبۂ ایمانی، اخلاص اور محبت کو سراہتے ہوئے تمام عطیہ دہندگان کے لیے شکریہ اور سلام کا پیغام دیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ متعلقہ اسپتال میں بلتستان کے نام سے ایک یادگاری بورڈ بھی نصب کیا جائے گا۔

انہوں نے فیالونگ واٹر ڈائیورژن منصوبے کے لیے باقی ماندہ پانچ کروڑ روپے جاری کرنے پر وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین ایڈووکیٹ اور اس سلسلے میں تعاون پر فورس کمانڈر سید مزمل حسین گیلانی کا شکریہ ادا کیا۔

خطبے کے اختتام پر آغا سید باقر الحسینی نے ایامِ فاطمیہ کی مناسبت سے تمام مریضوں اور مریضات کی شفائے کاملہ و عاجلہ کے لیے دعا کی، بالخصوص مجاہد ملت آغا سید علی رضوی کی کامیاب سرجری کے بعد صحت و عافیت اور جلد وطن واپسی کے لیے بارگاہِ الٰہی میں دعا کی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha