جمعہ 16 اکتوبر 2026 - 20:59
گلگت بلتستان کے معدنی وسائل میں امریکی دلچسپی پر تشویش، بیرونی مداخلت قبول نہیں: آغا راحت حسین الحسینی

حوزہ/ مرکزی جامع امامیہ مسجد شہید سید ضیاء الدین رضویؒ گلگت کے امام جمعہ و جماعت حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید راحت حسین الحسینی نے گلگت بلتستان کے معدنی وسائل میں امریکی دلچسپی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خطے کے وسائل پر عوام کے حق کے تحفظ پر زور دیا۔ انہوں نے یمن کے خلاف سعودی جارحیت کی مذمت، انصار اللہ کی مزاحمت کو دفاعی قرار دینے اور امتِ اسلامی کو اتحاد و یکجہتی کی دعوت دیتے ہوئے خبردار کیا کہ مسلم دنیا کو گمراہ کن پروپیگنڈے سے ہوشیار رہنا چاہیے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،گلگت/ مرکزی جامع امامیہ مسجد شہید سید ضیاء الدین رضویؒ گلگت کے امام جمعہ و جماعت حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید راحت حسین الحسینی نے خطبۂ جمعہ میں گلگت بلتستان کے معدنی و قدرتی وسائل میں امریکی دلچسپی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خطے کے وسائل پر یہاں کے عوام کا بنیادی حق ہے اور ان سے متعلق کسی بھی فیصلے میں مقامی آبادی کے مفادات، علاقائی سلامتی اور خودمختاری کو مقدم رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے امتِ اسلامی کے اتحاد پر زور دیتے ہوئے یمن کے خلاف سعودی جارحیت کی مذمت کی اور انصار اللہ یمن کی مزاحمت کو دفاعی قرار دیا۔

آغا سید راحت حسین الحسینی نے امریکی ناظم الامور کے حالیہ دورۂ گلگت بلتستان اور خطے کے معدنی وسائل میں امریکی دلچسپی سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان قدرتی وسائل، قیمتی معدنیات اور آبی ذخائر کے اعتبار سے ایک اہم اور حساس خطہ ہے۔ اس کے وسائل سے متعلق کسی بھی ممکنہ سرمایہ کاری، معاہدے یا شراکت داری کا جائزہ عوامی مفادات اور اس کے طویل مدتی اثرات کو سامنے رکھ کر لیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ معدنی وسائل کی تلاش، ان کے استخراج، پراسیسنگ اور ممکنہ برآمدات کے مقاصد کے بارے میں شفافیت ضروری ہے، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ ان سرگرمیوں سے بالآخر کس کو فائدہ پہنچے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتِ پاکستان اور حکومتِ گلگت بلتستان کو چاہیے کہ وہ اس حوالے سے عوام کے خدشات دور کریں اور مقامی آبادی کے حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے کوئی فیصلہ نہ کریں۔ انہوں نے بیرونی طاقتوں کے معاشی اور تزویراتی مفادات کے مقابلے میں عوامی حقوق اور خطے کے قدرتی ورثے کے تحفظ کو اہم قرار دیا۔

یمن کی صورتِ حال، مزاحمت اور امتِ اسلامی کا اتحاد

خطبۂ جمعہ میں یمن کی صورتِ حال کا ذکر کرتے ہوئے سعودی عرب کی جارحیت کی مذمت کی گئی اور انصار اللہ یمن کی مزاحمت کو دفاعی قرار دیا گیا۔ آغا سید راحت حسین الحسینی نے امتِ اسلامی کے درمیان اتحاد و یکجہتی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مسلم دنیا کو اختلافات اور باہمی انتشار سے بچتے ہوئے اپنے مشترکہ مسائل اور مفادات پر توجہ دینی چاہیے۔

انہوں نے موجودہ علاقائی حالات میں اطلاعات اور پروپیگنڈے کے معاملے میں محتاط رہنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ مسلمانوں کو غیر مصدقہ اطلاعات اور گمراہ کن پروپیگنڈے سے متاثر ہونے کے بجائے حقائق کی بنیاد پر رائے قائم کرنی چاہیے۔ امتِ اسلامی کے اتحاد، باہمی اعتماد اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کو خطے میں امن و استحکام کے لیے اہم قرار دیا گیا۔

جلال آباد اور مناور پل کی تعمیر میں رکاوٹوں پر تشویش

گلگت کے مقامی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے آغا سید راحت حسین الحسینی نے جلال آباد اور مناور کے درمیان زیرِ تعمیر آر سی سی پل کی اہمیت اجاگر کی۔ انہوں نے کہا کہ اس پل کی تکمیل سے شہریوں کو آمدورفت میں سہولت ملے گی، سفری مشکلات کم ہوں گی اور جلال آباد کو شاہراہِ قراقرم سے براہِ راست منسلک کرنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے تعمیراتی کام میں مبینہ رکاوٹوں اور منصوبے کو فرقہ وارانہ تعصب کی نذر کرنے کی کوششوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومتِ گلگت بلتستان اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو فرقہ وارانہ اختلافات اور گروہی مفادات سے بالاتر رکھ کر مقررہ مدت میں مکمل کیا جانا چاہیے۔

خطبے میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ گلگت بلتستان کے قدرتی وسائل کا تحفظ، عوامی حقوق کی پاسداری اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل خطے کے پُرامن مستقبل اور عوامی اعتماد کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha