ہفتہ 10 اکتوبر 2026 - 15:47
مسلم ممالک مظلوم مسلمانوں کے حقوق اور تحفظ کے لیے متحد ہو کر آواز بلند کریں، علامہ آغا سید باقر الحسینی

حوزہ / علامہ آغا سید باقر الحسینی نے خطبۂ جمعہ میں امریکی ناظم الامور کے دورۂ بلتستان پر تحفظات، فلسطین و غزہ کے مظلوم عوام سے اظہار یکجہتی، سیاسی گرفتار شدگان کی رہائی، برطرف پولیس اہلکاروں کی بحالی اور بجلی کے بحران کے حل کا مطالبہ کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مرکزی امامیہ جامع مسجد سکردو، بلتستان میں جمعۃ المبارک 9 اکتوبر 2026ء کو امام جمعہ والجماعت علامہ آغا سید باقر الحسینی نے خطبۂ جمعہ میں تقویٰ، امر بالمعروف و نہی عن المنکر، گناہوں سے اجتناب، سچی توبہ اور مؤمنین کی عزت و آبرو کے تحفظ پر زور دیا، جبکہ خطبۂ دوم میں اتحاد و وحدت کی اہمیت، ملتِ تشیع کی اجتماعی قوت، بلتستان کے امن و امان، قومی و ملی حقوق اور عوامی مسائل پر تفصیلی گفتگو کی۔

انہوں نے بلتستان میں امریکی ناظم الامور کے حالیہ دورے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خطے کے امن و امان اور اجتماعی مفادات کے تحفظ کو ضروری قرار دیا۔ انہوں نے فلسطین، غزہ، ایران اور یمن کے مظلوم عوام سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے مسلم ممالک پر زور دیا کہ وہ مظلوم مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔ اس کے علاوہ انہوں نے سیاسی بنیادوں پر گرفتار افراد کی رہائی، برطرف پولیس اہلکاروں کی بحالی اور گلگت بلتستان میں بجلی کے بحران کے فوری حل کا مطالبہ کیا۔

خطبۂ اول: تقویٰ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے

علامہ آغا سید باقر الحسینی نے خطبۂ اول میں تقویٰ اور پرہیزگاری کی اہمیت بیان کرتے ہوئے مؤمنین و مؤمنات کو مولائے متقیان حضرت علی علیہ السلام کی تعلیمات کی روشنی میں اپنی زندگیوں کو اسلامی اصولوں کے مطابق ڈھالنے کی تلقین کی۔

انہوں نے کہا: نیکی کی تلقین اور برائی سے روکنا صرف علماء کرام کی ذمہ داری نہیں، بلکہ ہر باشعور مسلمان کا دینی و اخلاقی فریضہ ہے۔ معاشرے میں نظم و ضبط اور قانون کی پابندی اسی وقت مؤثر ثابت ہوتی ہے جب قوانین وضع کرنے کے ساتھ ان پر عملی طور پر عمل درآمد بھی یقینی بنایا جائے۔ یہی اصول انفرادی زندگی میں بھی اپنانا ضروری ہے۔

مسلم ممالک مظلوم مسلمانوں کے حقوق اور تحفظ کے لیے متحد ہو کر آواز بلند کریں

گناہوں سے اجتناب اور سچی توبہ کی ضرورت

علامہ آغا باقر الحسینی نے کہا: گناہوں کو گناہ سمجھنا، ان پر نادم ہونا اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرنا ایمان و اخلاق کی بنیادی ضرورت ہے۔ گناہِ صغیرہ پر مسلسل اصرار انسان کو بڑے گناہوں کی طرف لے جا سکتا ہے، جبکہ بعض معاشرتی برائیوں کو معمولی سمجھنے کا رویہ اخلاقی زوال کا سبب بنتا ہے۔

انہوں نے جھوٹ، بے حیائی اور نامحرم کو بری نگاہ سے دیکھنے جیسے اعمال سے اجتناب کی تاکید کرتے ہوئے کہا: اسلامی معاشرے کی پاکیزگی کے لیے حیا، سچائی اور حسنِ اخلاق کو فروغ دینا ضروری ہے۔ اگر کسی شخص سے کسی دوسرے کا حق تلف ہوا ہو تو توبہ کے ساتھ اس حق کی ادائیگی اور ممکنہ تلافی بھی ضروری ہے۔

غیبت، تہمت اور کردار کشی سنگین اخلاقی برائیاں ہیں

انہوں نے غیبت، بہتان تراشی اور بے بنیاد الزامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا: کسی مؤمن مرد یا عورت کی عزت و آبرو کو نقصان پہنچانا سنگین اخلاقی گناہ ہے۔ افسوس کہ بعض اوقات معاشرے میں دوسروں کی کردار کشی کو معمولی بات یا تفریح سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ اس سے باہمی اعتماد اور معاشرتی تعلقات تباہ ہوتے ہیں۔

انہوں نے قرآن مجید کی تعلیمات کی روشنی میں واضح کیا کہ کسی پر ایسا الزام لگانا جو اس نے کیا ہی نہ ہو، انتہائی قابلِ مذمت عمل ہے۔ اگر کسی شخص پر تہمت لگائی گئی ہو تو صرف زبانی توبہ کافی نہیں، بلکہ جہاں ممکن ہو، الزام کی تردید، متاثرہ فرد کی عزت کی بحالی اور اس کے حقوق کی تلافی بھی کی جانی چاہیے۔

علامہ آغا باقر الحسینی نے کہا: انسان کی اخلاقی تباہی اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ گناہ کو گناہ سمجھنا چھوڑ دیتا ہے۔ لہٰذا ہر شخص کو اپنے اعمال کا محاسبہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کرنا چاہیے۔

گناہانِ کبیرہ اور دینی ذمہ داریوں کی پاسداری

انہوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول روایت کی روشنی میں گناہانِ کبیرہ کا ذکر کرتے ہوئے مؤمن کو جان بوجھ کر قتل کرنے، پاک دامن عورت پر تہمت لگانے، میدانِ جنگ سے فرار ہونے، یتیم کا مال ظلم سے کھانے اور واضح حکم کے بعد سود کھانے جیسے اعمال کی سنگینی بیان کی۔

انہوں نے روایت میں مذکور اصطلاح «التَّعَرُّبُ بَعْدَ الْهِجْرَةِ» کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: اس سے مراد محض اپنے وطن واپس آنا نہیں، بلکہ ایسے ماحول یا طرزِ زندگی کی طرف لوٹنا ہے جہاں انسان کے لیے دینی فرائض کی ادائیگی دشوار یا ناممکن ہو جائے، جبکہ متعلقہ شرعی شرائط بھی پائی جائیں۔ اس لیے اس حکم کو ہر قسم کی نقل مکانی یا وطن واپسی پر منطبق کرنا درست نہیں۔ انسانی جان، عزت، مال اور دینی ذمہ داریوں کا تحفظ اسلامی تعلیمات کا بنیادی تقاضا ہے۔

خطبۂ اول کے اختتام پر انہوں نے مؤمنین و مؤمنات کو زبان، نگاہ اور کردار کی حفاظت، جھوٹ، غیبت اور تہمت سے اجتناب اور معاشرے میں باہمی احترام و پاکیزگی کو فروغ دینے کی نصیحت کی۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ سب کو گناہوں کی پہچان، ان سے اجتناب اور سچی توبہ کی توفیق عطا فرمائے۔

خطبۂ دوم: اختلاف و انتشار سے اجتناب اور اتحاد و وحدت کا فروغ ضروری ہے

علامہ آغا سید باقر الحسینی نے خطبۂ دوم میں اتحاد و وحدت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: قرآن مجید انسانوں کو تفرقے اور انتشار سے بچنے کی تعلیم دیتا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ جو قومیں باہمی اختلافات اور گروہ بندی کا شکار ہوئیں، وہ کمزور پڑ گئیں، جبکہ اتحاد و اتفاق نے قوموں کو قوت اور کامیابی عطا کی۔

انہوں نے کہا: ملتِ تشیع کو بھی اپنے حالات کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ جب ہم متحد تھے تو اپنے اجتماعی مطالبات مؤثر انداز میں پیش کرنے اور اپنے حقوق کے حصول میں کامیاب رہے، لیکن باہمی اختلافات اور گروہی تقسیم نے ہماری اجتماعی آواز کو کمزور کیا ہے۔

انہوں نے کہا: ذاتی، جماعتی اور گروہی اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ مفادات کے لیے متحد ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ایک دوسرے کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھنا، دکھ درد میں شریک ہونا اور باہمی احترام کے ساتھ آگے بڑھنا ہی اجتماعی قوت کو مضبوط بنا سکتا ہے۔

شہادت، توحید اور ولایت کی تعلیمات اتحاد کا درس دیتی ہیں

انہوں نے کہا: ہماری تربیت شہادت، توحید اور ولایت کی مقدس تعلیمات کے سائے میں ہوئی ہے، اس لیے ہمیں اپنے عقائد اور عملی رویوں کے درمیان مطابقت پیدا کرنی چاہیے۔ جب ہماری بنیاد مشترکہ دینی اقدار پر ہے تو باہمی اختلافات کو اجتماعی قوت پر غالب نہیں آنا چاہیے۔

انہوں نے یکم محرم کے واقعات سمیت مختلف مواقع پر اتحاد کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیوں کا ذکر کیا اور حالیہ علمائے بلتستان کانفرنس کو بھی اہم قرار دیا، جس میں مختلف علاقوں سے علماء کرام اور جماعتی نمائندوں نے شرکت کرتے ہوئے اتحاد برقرار رکھنے اور مشترکہ مفادات کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

بلتستان میں امریکی ناظم الامور کے دورے پر تحفظات

علامہ آغا باقر الحسینی نے بلتستان میں امریکی ناظم الامور کے حالیہ دورے پر تشویش اور تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خطے کے امن و امان اور عوامی مفادات کے تحفظ پر زور دیا۔ انہوں نے بلتستان میں امریکی اور اسرائیلی شہریوں کی آمد سے متعلق بھی اپنے تحفظات بیان کیے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ان کا اعتراض عام امریکی شہریوں پر نہیں، بلکہ امریکی حکومت کی پالیسیوں اور خطے میں اس کے کردار پر ہے۔ انہوں نے فلسطین سمیت مختلف خطوں میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کا ذکر کرتے ہوئے عالمی طاقتوں اور مسلم ممالک کے طرزِ عمل پر تنقید کی اور مظلوم اقوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت اجاگر کی۔

مسلم ممالک مظلوم مسلمانوں کے حقوق اور تحفظ کے لیے متحد ہو کر آواز بلند کریں

فلسطین، غزہ، ایران اور یمن کے مظلوم عوام سے اظہار یکجہتی

انہوں نے فلسطین اور غزہ میں جاری انسانی بحران، محاصرے اور مظلوم عوام کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا: مسلم دنیا کو مظلوموں کی حمایت میں عملی کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے یمن کے عوام کو درپیش مشکلات اور طویل محاصرے کی طرف بھی توجہ دلائی اور مطالبہ کیا کہ مسلم ممالک مظلوم مسلمانوں کے حقوق اور تحفظ کے لیے متحد ہو کر آواز بلند کریں۔

انہوں نے ایران اور فلسطین سمیت خطے کے مظلوم عوام کے مسائل پر بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا: امتِ مسلمہ کو باہمی اختلافات سے بالاتر ہو کر مظلوموں کی حمایت اور انصاف کے قیام کے لیے کوششیں کرنی چاہئیں۔

مقدس مقامات کے دفاع کے نام پر مسلم ممالک کے خلاف محاذ آرائی سے گریز کیا جائے

علامہ آغا باقر الحسینی نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کے تناظر میں کہا: مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کا تحفظ تمام مسلمانوں کے لیے انتہائی مقدس اہمیت رکھتا ہے۔ اگر ان مقدس مقامات کے دفاع کے لیے پاکستان سے تعاون طلب کیا جائے تو وہ اس مقصد کے لیے جان و مال کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ مقدس مقامات کے دفاع کے نام پر پاکستانی شہریوں یا افواج کو کسی دوسرے مسلمان ملک کے خلاف استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ دفاعی معاہدوں کے دائرۂ کار کو واضح کیا جائے اور ان پر عمل درآمد میں مقدس مقامات کے تحفظ اور حقیقی دفاعی ضروریات کو بنیادی اہمیت دی جائے۔

انہوں نے کہا: مسلمان ممالک کو باہمی تنازعات میں شدت پیدا کرنے کے بجائے مکالمے، سفارت کاری اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کو فروغ دینا چاہیے، تاکہ مقدس مقامات کا تحفظ بھی یقینی بنایا جا سکے اور مسلمانوں کے درمیان مزید تصادم سے بھی بچا جا سکے۔

سید امتیاز حسین گیلانی، فورس کمانڈر گلگت بلتستان کی خدمات قابلِ قدر ہیں

علامہ آغا باقر الحسینی نے فورس کمانڈر گلگت بلتستان سید امتیاز حسین گیلانی کے ساتھ گزشتہ دو برس کے روابط اور باہمی تعاون کا ذکر کرتے ہوئے ان کی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے کہا: مختلف معاملات میں مقامی عوام، علماء کرام اور عمائدین سے مشاورت کو اہمیت دینا قابلِ تحسین طرزِ عمل ہے۔

انہوں نے کہا: باہمی مشاورت اور عوامی تعاون کے ذریعے علاقے کے متعدد معاملات کو بہتر انداز میں آگے بڑھانے میں مدد ملی۔ انہوں نے سید امتیاز حسین گیلانی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انہیں آئندہ ذمہ داریوں میں کامیابی اور عزت عطا فرمائے۔

انہوں نے بتایا کہ فورس کمانڈر نے یقین دہانی کرائی ہے کہ راولپنڈی میں جی ایچ کیو میں اپنی آئندہ ذمہ داریوں کے دوران گلگت بلتستان کی نمائندگی اور علاقے کے مسائل کو اجاگر کرنے کی کوشش کریں گے۔

علامہ آغا باقر الحسینی نے امید ظاہر کی کہ نئے فورس کمانڈر گلگت بلتستان میجر جنرل تجدید ممتاز بھی علماء کرام، عمائدین اور مقامی قیادت سے مشاورت کا سلسلہ جاری رکھیں گے، تاکہ باہمی اعتماد برقرار رہے اور عوامی مسائل کے حل میں پیش رفت ہو۔

سیاسی گرفتار شدگان کی فوری رہائی کا مطالبہ

علامہ آغا باقر الحسینی نے گلگت بلتستان میں سیاسی گرفتاریوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سیاسی بنیادوں پر گرفتار کیے گئے افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔

انہوں نے کہا: اگر کسی شخص کے حوالے سے امن و امان یا سکیورٹی کا کوئی مسئلہ ہو تو اسے قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق حل کیا جائے۔ لوگوں کو گرفتار کرکے جیلوں میں بند کرنے اور ان کے اہلِ خانہ، بالخصوص خواتین اور بچوں کو پریشانی سے دوچار کرنے کے بجائے ایسے معاملات کو حکمت، انصاف اور باہمی افہام و تفہیم سے حل کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسی ایک طبقے کو بلاجواز نشانہ بنایا جائے تو اس کے منفی اثرات دوسرے طبقات تک بھی پہنچ سکتے ہیں، اس لیے تمام معاملات میں قانون کی بالادستی اور انصاف کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

بجلی کے بحران کے فوری حل اور منصوبوں پر عمل درآمد کا مطالبہ

انہوں نے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان سے ہونے والی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا: اس دوران علاقے کے متعدد اہم مسائل پر گفتگو ہوئی اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

انہوں نے بجلی کے بحران کو عوام کے لیے ایک سنگین مسئلہ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ متعلقہ منصوبوں پر کام تیز کیا جائے، ٹینڈرز اور دیگر ضروری مراحل جلد مکمل کیے جائیں اور عملی کام کا آغاز کیا جائے، تاکہ سردیوں کی شدت میں اضافے سے قبل عوام کو ممکنہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

برطرف پولیس اہلکاروں کی بحالی اور شفاف بھرتیوں کا مطالبہ

علامہ آغا باقر الحسینی نے یکم مارچ کے واقعات کے تناظر میں برطرف کیے گئے پولیس اہلکاروں کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا: تقریباً 120 اہلکار تاحال ملازمت سے برطرف ہیں۔

انہوں نے کہا: بڑے عوامی اجتماعات کے دوران امن و امان برقرار رکھنا پولیس اہلکاروں کے لیے مشکل ذمہ داری ہوتی ہے، اس لیے متعلقہ اہلکاروں کے معاملات کا ہمدردانہ، منصفانہ اور حقائق کی روشنی میں جائزہ لیا جانا چاہیے۔

انہوں نے متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ اپنی ذمہ داریوں کی تکمیل سے قبل ان اہلکاروں کی بحالی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ اس کے ساتھ انہوں نے پولیس میں آئندہ بھرتیوں کے عمل کو شفاف بنانے اور اہل امیدواروں کو میرٹ کے مطابق مواقع فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

قومی و ملی حقوق کے تحفظ کے لیے مشترکہ جدوجہد ناگزیر ہے

علامہ آغا سید باقر الحسینی نے خطاب کے اختتام پر عوام پر زور دیا کہ وہ باہمی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر متحد رہیں اور قومی و ملی حقوق کے تحفظ کے لیے مشترکہ جدوجہد کریں۔

انہوں نے کہا: اتحاد، باہمی اعتماد، مشاورت اور یکجہتی کے ذریعے ہی اجتماعی مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔ ملتِ تشیع اور گلگت بلتستان کے عوام کو اپنے مشترکہ مفادات کے لیے مل کر آگے بڑھنا ہوگا، تاکہ عوامی حقوق کا تحفظ، علاقے کے مسائل کا حل اور معاشرتی اصلاح ممکن ہو سکے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha