حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، علامہ عارف حسین واحدی نے کہا: تہران میں ہونے والی یہ اہم نشست امتِ مسلمہ کے اتحاد اور یکجہتی کے خواہاں حلقوں کے لیے خوشی اور امید کا پیغام ہے۔ مسلم ممالک کے درمیان اتحاد، باہمی اعتماد اور مشترکہ حکمتِ عملی کے فروغ کے لیے ایسی کوششیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔
انہوں نے کہا: ایران کی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ جناب محسن رضائی کی جانب سے اس اجلاس کے حوالے سے مثبت خیالات اور خطے میں امن و سلامتی کے لیے پیش رفت کی امید قابلِ تحسین ہے۔ امید ہے کہ چاروں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد، تعاون اور اتحاد کو مزید تقویت ملے گی اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے جاری کوششیں کامیابی سے ہم کنار ہوں گی۔
علامہ عارف حسین واحدی نے کہا کہ مسلم ممالک کو چاہیے کہ وہ باہمی اختلافات سے بالاتر ہوکر مشترکہ مسائل کے حل، امتِ مسلمہ کے مفادات کے تحفظ اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مشترکہ لائحۂ عمل اختیار کریں۔
انہوں نے مزید کہا: امتِ مسلمہ کو درپیش چیلنجز کا تقاضا ہے کہ اسلامی ممالک باہمی مشاورت، اعتماد اور تعاون کو فروغ دیں اور اپنے اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں۔ مسلم ممالک کے درمیان اتحاد و یکجہتی نہ صرف خطے میں امن و استحکام کے لیے ضروری ہے بلکہ اس سے عالمِ اسلام کے مشترکہ مفادات کے تحفظ میں بھی مدد ملے گی۔
علامہ عارف حسین واحدی نے امید ظاہر کی کہ یہ مثبت پیش رفت، ان شاء اللہ، مکہ معاہدے کو آگے بڑھانے اور مسلم دنیا میں اتحاد و یکجہتی کی مضبوط بنیاد فراہم کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ امتِ مسلمہ کے روشن مستقبل کے لیے اسلامی ممالک کو مشترکہ اہداف کے حصول اور پائیدار امن کے قیام کے لیے سنجیدہ اور مسلسل کوششیں جاری رکھنی چاہئیں۔










آپ کا تبصرہ