حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،جیکب آباد/ جامعہ المصطفیٰ خاتم النبیین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم جیکب آباد میں علمائے کرام، ائمہ جمعہ و جماعت اور مبلغین کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ سرزمینِ انبیاء فلسطین پر غاصب اسرائیل کی جانب سے جاری ظلم و بربریت اور فلسطینی عوام کے خلاف جارحیت ناقابلِ قبول ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطین اور غزہ کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ کھڑا ہونا اور ان کی بھرپور حمایت کرنا ہر غیرت مند مسلمان کی دینی و انسانی ذمہ داری ہے۔ عالمی برادری کو فلسطینی عوام کے خلاف جاری مظالم کا نوٹس لینا چاہیے اور بے گناہ شہریوں کے تحفظ، انسانی امداد کی فراہمی اور فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بعض مسلم اور عرب حکمرانوں کی جانب سے امتِ مسلمہ کے اجتماعی مفادات اور فلسطین کے مظلوم عوام کے ساتھ یکجہتی کے بجائے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینا افسوسناک اور قابلِ مذمت طرزِ عمل ہے۔ فلسطین کے مسئلے پر مسلم دنیا کو باہمی اتحاد، مشترکہ موقف اور عملی حمایت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
انہوں نے لبنان میں اسرائیلی جارحیت اور بمباری کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ لبنان کے عوام کے خلاف جارحانہ کارروائیاں اور شہری آبادیوں کو نشانہ بنانا ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے لبنانی عوام اور اسرائیلی جارحیت کے مقابلے میں مزاحمت کرنے والوں کی استقامت، جرأت اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ پاکستان ہمارے بزرگوں کی عظیم قربانیوں کے نتیجے میں معرضِ وجود میں آیا اور اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا۔ ہمیں قائداعظم محمد علی جناحؒ اور حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ کے افکار و تعلیمات کی روشنی میں وطنِ عزیز کی تعمیر و ترقی، استحکام اور خوشحالی کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تمام شہری بالخصوص علماء، دینی مراکز اور مذہبی طبقات ملک میں امن، اتحاد، اخوت، برداشت آئین و قانون کی بالادستی اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے اہلِ سنت برادران کو وحدت و اتحاد کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اہلِ سنت ہمارے بھائی ہیں اور ہمیں ان سے قلبی محبت و اخوت ہے۔ شیعہ اور سنی صدیوں سے اس خطے میں مل جل کر زندگی گزار رہے ہیں اور اسلام، پاکستان اور امتِ مسلمہ کے مشترکہ مفادات کے لیے متحد ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جو عناصر شیعہ سنی کے درمیان نفرتیں پیدا کرنا چاہتے ہیں، وہ امتِ مسلمہ کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شیعہ سنی اتحاد، اخوت اور باہمی احترام کے ذریعے اسلام دشمن اور سامراجی قوتوں کے عزائم کو ناکام بنایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے علماء کرام پر زور دیا کہ وہ اپنے خطباتِ جمعہ اور مجالس میں اتحادِ امت، اخوتِ اسلامی، احترامِ مذاہب اور قومی یکجہتی کو فروغ دیں اور عوام کو فرقہ وارانہ نفرتوں سے دور رہنے کی تلقین کریں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے رہبرِ انقلاب اسلامی آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کے حالیہ پیغام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں یہ پیغام ظلمت و تاریکی میں روشنی کی کرن کی مانند ہے، جس نے ملتِ مظلوم میں نیا جوش، ولولہ، عزم اور حوصلہ پیدا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم رہبرِ انقلاب کی رہنمائی اور پیغام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور حق، عدل، مظلومین کی حمایت اور اسلامی وحدت کے راستے پر ثابت قدم رہنے کے عزم کا اظہار کرتے ہیں۔ رہبرِ شہید سے کیے گئے عہدِ وفا کو نبھاتے ہوئے ہم رہبر معظم کی اطاعت مظلومین کی حمایت اور اسلامی وحدت کے لیے اپنا کردار جاری رکھیں گے۔
پریس کانفرنس میں ایم ڈبلیو ایم عزاداری ونگ بلوچستان کے صوبائی صدر علامہ سید ظفر عباس شمسی شیعہ علماء کونسل بلوچستان کے صوبائی صدر علامہ مشتاق حسین عمرانی مجلس علماء مکتب اہل بیت بلوچستان کے صوبائی صدر علامہ ذوالفقار علی سعیدی علامہ برکت علی مطہری علامہ تجمل عباس جعفری علامہ سیف علی ڈومکی علامہ علی نواز عرفانی و سمیت چالیس علماء کرام شریک ہوئے۔










آپ کا تبصرہ