حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اجلاس میں طوفان الاقصیٰ کی چوتھی سالگرہ کے موقع پر فلسطینی عوام کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا گیا اور مسئلہ فلسطین کے حوالے سے کونسل کے اصولی مؤقف کا اعادہ کیا گیا۔
اجلاس میں علامہ عارف حسین واحدی، سید ناصر عباس شیرازی، جناب ضمیر اختر، مفتی گلزار حسین نعیمی، جناب رشید تنولی، ڈاکٹر علی عباس نقوی، علامہ احمد اقبال رضوی، مولانا عرفان حسین سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔

شرکائے اجلاس نے فلسطینی عوام کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ مسئلہ فلسطین کا قابلِ قبول حل ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔
انہوں نے فلسطینی سرزمین پر اسرائیلی قبضے اور غزہ پر مسلسل حملوں کی شدید مذمت کی اور مظلوم فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
اجلاس میں یمن اور سعودی عرب کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگ کے تناظر میں پاکستان اور ایران کی حکومتوں پر زور دیا گیا کہ وہ ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے مسلمان ممالک کے درمیان اختلافات کے خاتمے اور صلح و اتحاد کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔ شرکائے اجلاس نے امریکہ کی جانب سے ایران کو دی جانے والی دھمکیوں کی بھی شدید مذمت کی۔

اجلاس کے شرکاء نے پاکستان کی مجموعی صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو درپیش معاشی مشکلات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی پر قابو پانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ملک سے دہشت گردی کے خاتمے اور امن و امان کی صورتِ حال بہتر بنانے پر بھی زور دیا۔
اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ملی یکجہتی کونسل پاکستان مظلوم فلسطینی عوام کی حمایت، مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل، امت مسلمہ کے اتحاد اور پاکستان میں امن و استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔











آپ کا تبصرہ