حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، انجمنِ امامیہ بلتستان پاکستان کے صدر حجت الاسلام والمسلمین سید باقر الحسینی نے مرکزی جامع مسجد سکردو میں نمازِ جمعہ کے خطبوں میں، ہفتۂ وحدت اور ولادتِ باسعادت صادقین علیہما السّلام کی مناسبت سے تبریک پیش کرتے ہوئے کہا کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پوری زندگی ہمارے لیے اسوۂ حسنہ ہے۔ آنحضرت کا اٹھنا بیٹھنا، گفتار و کردار، لوگوں سے برتاؤ، مسکراہٹ، صبر، غصے پر قابو اور معافی و درگزر اور زندگی کا ہر پہلو تاریخ میں محفوظ ہے اور قیامت تک انسانیت کے لیے ہدایت و رہنمائی کا سر چشمہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی تعلیمات پر ایمان و اعتقاد رکھتے ہیں، لیکن اس اعتقاد کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے کردار اور رویوں کا محاسبہ بھی کریں۔ ہم اپنے اہلِ خانہ، اولاد، رشتہ داروں، دوستوں اور معاشرے کے دیگر افراد کے ساتھ کس انداز میں پیش آتے ہیں؟ کیا ہمارا اخلاق اور طرزِ عمل محمد و آلِ محمد علیہم السلام کی سیرت و تعلیمات سے مطابقت رکھتا ہے؟
انہوں نے زور دیا کہ محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور محبتِ اہلِ بیت کا حقیقی ثبوت صرف دعوؤں میں نہیں، بلکہ ہمارے اخلاق، برداشت، عفو و درگزر، حسنِ سلوک اور معاشرتی رویوں میں ظاہر ہونا چاہیے۔ ہمیں مسلسل کوشش کرنی چاہیے کہ ہمارا کردار سیرتِ رسولِ اکرم اور تعلیماتِ اہلِ بیت کا آئینہ بن جائے۔
آغا سید باقر الحسینی نے سیرتِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روشن پہلوؤں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ رسولِ خدا نے صبر، تحمل، رحمت اور عفو و درگزر کا ایسا بے مثال نمونہ پیش کیا جس کی نظیر انسانی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ آنحضرت کو شدید اذیتیں دی گئیں، سختیاں برداشت کرنا پڑیں، لیکن آنحضرت نے صبر و تحمل کا دامن کبھی ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔

انجمنِ امامیہ بلتستان کے صدر نے کہا کہ آج ہمارا حال یہ ہے کہ کوئی شخص ذرا سی اونچی آواز میں بات کردے یا معمولی اختلافِ رائے کا اظہار کرے تو ہمارا رویہ فوراً بدل جاتا ہے۔ ہمیں رک کر اپنے آپ سے سوال کرنا چاہیے کہ کیا ہمارا یہ طرزِ عمل سیرتِ رسولِ خدا سے مطابقت رکھتا ہے؟
انہوں نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس عظیم استقامت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آنحضرت نے فرمایا کہ مجھے جتنی اذیتیں دی گئیں، کسی دوسرے نبی کو اتنی اذیتیں نہیں دی گئیں۔ اس کے باوجود آنحضرت نے لوگوں کے ساتھ عفو و درگزر اور رحمت کا معاملہ فرمایا۔
آغا سید باقر الحسینی نے کہا کہ ہمیں بھی سیرتِ رسول سے درس لیتے ہوئے اپنے معاشرے میں محبت، صبر، برداشت، رواداری، عفو و درگزر اور حسنِ اخلاق کو فروغ دینا ہوگا۔ یہی سیرتِ محمدی پر حقیقی عمل اور معاشرتی اصلاح کا راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ عفو و درگزر صرف آخرت کی کامیابی کا ذریعہ نہیں، بلکہ دنیا میں بھی انسان کی عزت، باہمی محبت، دلوں کی قربت اور معاشرتی سکون میں اضافہ کرتا ہے۔
آغا سید باقر الحسینی نے کہا کہ حکومت اور صاحبِ اقتدار افراد کو بھی طاقت کے استعمال کے بجائے، جہاں ممکن ہو، عفو و درگزر اور حکمت سے کام لینا چاہیے۔ طاقت اور اختیار اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ امانت ہیں۔ ہر موقع پر طاقت کا استعمال ہی بہترین راستہ نہیں ہوتا، بلکہ حکمت، رحمت، تحمل اور درگزر بھی اقتدار کی حقیقی خوبیاں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امتِ محمدی ہونے کا حق صرف نسبت سے ادا نہیں ہوتا، بلکہ اس نسبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہمارے اخلاق و کردار میں بھی محمدی رنگ نمایاں ہو۔
حجت الاسلام والمسلمین آغا سید باقر الحسینی نے گلگت بلتستان کے عوام کو درپیش بنیادی مسائل اور حقوق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں سے علاقے کے آئینی، قانونی اور بنیادی حقوق کے حوالے سے مختلف مطالبات سامنے آتے رہے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ ان مطالبات کو محض وقتی احتجاج یا سیاسی مسئلہ سمجھنے کے بجائے سنجیدگی سے لے اور عوام کے جائز حقوق کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔









آپ کا تبصرہ