حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، 9 ربیع الاوّل کی مناسبت سے جامع مسجد سکردو میں مولانا شیخ میثم جعفری نے نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 9 ربیع الاول آخری حجتِ خدا حضرت امام مہدی علیہ السلام کی امامت کے آغاز کا دن ہے، جبکہ یہ دشمنانِ اہل بیت علیہم السلام کے عبرتناک انجام سے بھی وابستہ ہے۔ یہ دن اہل ایمان کے لیے تجدیدِ عہد، شکر گزاری اور اپنے دینی و روحانی کردار کو مضبوط بنانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
مولانا شیخ میثم جعفری نے عبادت اور نماز کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ انسان کی حقیقی کامیابی صرف دنیاوی مصروفیات اور مادی ترقی میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق اور عبادت و بندگی میں ہے۔ نماز انسان کو روزمرہ کی غفلتوں سے نکال کر اپنے خالق کی طرف متوجہ کرتی ہے اور اس کے دل میں تقویٰ، اخلاص اور احساسِ جواب دہی پیدا کرتی ہے۔ جو انسان پابندی سے نماز ادا کرتا اور اللہ کی بارگاہ میں مناجات کرتا ہے، اس کے اندر روحانی سکون اور کردار کی پاکیزگی پیدا ہوتی ہے۔

انہوں نے امام حسن عسکری علیہ السلام کی ایک روایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر انسان اپنے سفرِ آخرت کو آسان بنانا چاہتا ہے تو اسے نمازِ شب اور سحر کے وقت اللہ تعالیٰ سے راز و نیاز کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے۔ دن بھر انسان دنیاوی مصروفیات میں گھرا رہتا ہے، جس کی وجہ سے عبادت اور اللہ کی طرف توجہ میں کمی واقع ہو سکتی ہے لیکن رات کا پرسکون وقت انسان کو دنیا کی مشغولیات سے الگ ہو کر اپنے پروردگار کے حضور حاضری کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔
مولانا شیخ میثم جعفری نے کہا کہ نمازِ شب کے لیے چند لمحے نکالنا دنیا و آخرت دونوں کی کامیابی کا ذریعہ ہے۔ یہ عبادت انسان کے دل کو زندہ، ارادے کو مضبوط اور کردار کو پاکیزہ بناتی ہے۔ انسان جب خلوت میں اپنے رب کے سامنے جھکتا ہے تو اس کے اندر عاجزی، اخلاص اور اپنے اعمال کا محاسبہ کرنے کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔
انہوں نے علامہ طباطبائی رحمتہ اللہ علیہ کی ایک نصیحت نقل کرتے ہوئے کہا، جسے رہبر معظم شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای رضوان اللہ علیہ نے بھی نقل فرمایا ہے کہ ''اگر دنیا چاہتے ہو تو نمازِ شب بجا لاؤ اور اگر آخرت چاہتے ہو تو بھی نمازِ شب بجا لاؤ'' یہ مختصر مگر جامع نصیحت نمازِ شب کی روحانی و اخلاقی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نمازِ شب انسان کے باطن سے برائیوں کے اثرات کو ختم کرنے اور اسے اخلاقی و روحانی بلندی کی طرف لے جانے کا ذریعہ بنتی ہے۔ یہ وہ تعلیمات ہیں جو ہمیں اہل بیت علیہم السلام کی سیرت و فرامین سے ملتی ہیں۔ عبادت انسان کے اندر ادب، حلم، بردباری، عاجزی اور دوسروں کے احترام کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔
مولانا شیخ میثم جعفری نے کہا کہ باادب اور بردبار انسان نہ صرف اپنی شخصیت کو سنوارتا ہے بلکہ اس کے اخلاق و کردار سے اس کے اہل خانہ، معاشرہ اور اردگرد کے لوگ بھی فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اس لیے ہمیں نماز، بالخصوص نمازِ شب اور مناجاتِ الٰہی کو محض ایک اضافی عبادت نہیں، بلکہ تزکیۂ نفس، اصلاحِ کردار اور کامیاب زندگی کا ذریعہ سمجھتے ہوئے اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے۔









آپ کا تبصرہ