تحریر: حجت الاسلام شیخ مظفری
حوزہ نیوز ایجنسی|
تمہید
گلگت بلتستان کی دینی، ملی، سیاسی اور سماجی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں، جن کی زندگی کسی ایک شعبے تک محدود نہیں رہتی، بلکہ ان کی خدمات اور جدوجہد کئی میدانوں میں اپنا اثر چھوڑتی ہیں۔ حجۃ الاسلام والمسلمین علامہ آغا سید محمد عباس رضویؒ بھی ایسی ہی باوقار، درویش صفت، علمی و ملی شخصیت تھے، جنہوں نے اپنی زندگی دین ومکتبِ اہل بیتؑ، قوم و ملت، عوامی حقوق، اتحاد و وحدت اور اجتماعی خدمت کے لیے وقف کر دی۔
آپ کا تعلق سکردو کے علاقے آستانہ سے تھا۔ آپ ایک عالمِ دین، خطیب، دینی و ملی رہنما، تنظیمی کارکن، سیاسی شخصیت، سابق رکن گلگت بلتستان کونسل اور عوامی مسائل کے ترجمان کے طور پر طویل عرصے تک قومی و اجتماعی زندگی میں فعال رہے۔
آپ کی شخصیت کا امتیاز یہ تھا کہ علمی و دینی پس منظر رکھنے کے باوجود آپ عوام سے دور نہیں ہوئے۔ منبر و محراب سے لے کر عوامی اجتماعات، تنظیمی پلیٹ فارم اور سیاسی ایوانوں تک آپ نے اپنے انداز میں دین و ملت اور عوامی حقوق کی آواز بلند کی۔
1۔ نجفِ اشرف سے علمی و دینی سفر
علامہ سید محمد عباس رضویؒ کی شخصیت کی تشکیل میں حوزۂ علمیہ نجفِ اشرف کے علمی و روحانی ماحول کو بنیادی اہمیت حاصل رہی۔ نجفِ اشرف صدیوں سے علومِ قرآن، فقہ، اصول، حدیث، اخلاق اور معارفِ اہل بیتؑ کا عالمی مرکز چلا آ رہا ہے۔
آپ نے نجفِ اشرف میں دینی علوم و معارف حاصل کیے اور علمی و روحانی تربیت کے بعد اپنے وطن واپس آ کر اپنی علمی صلاحیتوں کو قوم و ملت کی دینی رہنمائی کے لیے بروئے کار لایا۔
نجف کی علمی روایت سے وابستگی نے آپ کی شخصیت میں دینی بصیرت، اصول پسندی، خودداری، حق گوئی اور اجتماعی ذمہ داری کے احساس کو مزید مضبوط کیا۔ وطن واپسی کے بعد آپ نے اپنی زندگی کو محض ذاتی علمی ترقی تک محدود رکھنے کے بجائے عوامی و ملی خدمت کا راستہ اختیار کیا۔
2۔ عالمِ دین اور مبلغِ مکتبِ اہل بیتؑ
علامہ آغا سید عباس رضویؒ ایک باعمل عالمِ دین اور دینی رہنما کے طور پر معروف تھے۔ منبر و محراب ان کی زندگی کا اہم میدان تھا، جہاں وہ قرآن، سنت اور تعلیماتِ اہل بیتؑ کی روشنی میں عوام کی دینی و اخلاقی تربیت کرتے رہے۔
ان کے خطابات میں دینی شعور، حق گوئی، اصلاحِ معاشرہ، اتحاد، ذمہ داری اور ظلم کے خلاف آواز جیسے موضوعات نمایاں رہے۔ وہ دین کو محض فرد کی عبادت تک محدود نہیں سمجھتے تھے بلکہ اجتماعی زندگی میں عدل، اخلاق، حقوق العباد اور ذمہ داری کو بھی دینی فریضہ قرار دیتے تھے۔
ان کی شخصیت میں علم کے ساتھ عمل، گفتار کے ساتھ کردار اور مذہبی وابستگی کے ساتھ اجتماعی شعور نمایاں تھا۔
3۔ قوم و ملت کی خدمت — زندگی کا بنیادی مقصد
علامہ سید عباس رضویؒ کی زندگی کا ایک نمایاں پہلو قوم و ملت کے مسائل کے ساتھ ان کی گہری وابستگی تھی۔
انہوں نے دینی تعلیم و تبلیغ کے ساتھ ساتھ عوامی مشکلات، بنیادی سہولیات، معاشی مسائل، تعلیم، صحت، سڑکوں، بجلی اور دیگر اجتماعی ضروریات کے حوالے سے بھی اپنا کردار ادا کیا۔
ان کے لیے عوامی خدمت کسی عہدے یا منصب تک محدود نہیں تھی۔ وہ عام آدمی سے براہِ راست رابطہ رکھتے، لوگوں کے مسائل سنتے اور ان کے حل کے لیے متعلقہ فورمز پر آواز اٹھانے کی کوشش کرتے تھے۔
4۔ گندم سبسڈی اور عوامی حقوق کی جدوجہد
گلگت بلتستان میں گندم سبسڈی کا مسئلہ عوام کی معاشی زندگی سے براہِ راست وابستہ ایک اہم معاملہ رہا ہے۔ اس حوالے سے علامہ آغا سید عباس رضویؒ کے کردار کو ان کی عوامی جدوجہد کا ایک اہم باب قرار دیا جاتا ہے۔
وہ عوام کے معاشی حقوق اور بنیادی ضروریات کے تحفظ کے لیے آواز اٹھانے والوں میں شامل رہے۔ گندم سبسڈی کے مسئلے پر ان کی فعالیت نے انہیں عام لوگوں کے مزید قریب کیا۔
ان کی نظر میں عوام کے بنیادی حقوق کے لیے آواز بلند کرنا محض سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ ایک اجتماعی ذمہ داری تھی، خصوصاً ایسے علاقے میں جہاں جغرافیائی مشکلات اور معاشی مسائل عوام کی زندگی کو براہِ راست متاثر کرتے ہیں۔
5۔ محکمۂ شرعیہ سکردو میں بطورِ قاضی خدمات
علامہ سید عباس رضویؒ کی زندگی کا ایک اہم پہلو محکمۂ شرعیہ سکردو میں بطور قاضی خدمات سے متعلق ہے۔
قضاوت ایک نہایت حساس دینی و سماجی ذمہ داری ہے، جس میں لوگوں کے باہمی معاملات، حقوق اور تنازعات کے حوالے سے شرعی اصولوں کے مطابق فیصلہ سازی کی ضرورت ہوتی ہے۔
آپ نے اس ذمہ داری کو بھی عوامی خدمت کے ایک ذریعے کے طور پر انجام دیا۔ لوگوں کے مسائل سننا، ان کے معاملات کو سمجھنا اور شرعی اصولوں کی روشنی میں انصاف فراہم کرنے کی کوشش آپ کے کردار کا اہم حصہ رہی۔
یہ ذمہ داری اس بات کی عکاس تھی کہ آپ کی دینی شناخت صرف خطابت تک محدود نہیں تھی بلکہ عملی سماجی و شرعی میدان میں بھی آپ نے ذمہ داریاں انجام دیں۔
6۔ انجمنِ امامیہ بلتستان میں قیادت
بلتستان کی مذہبی و ملی تاریخ میں انجمنِ امامیہ بلتستان کا ایک اہم مقام رہا ہے۔ علامہ آغا سید عباس رضویؒ نے اس پلیٹ فارم کی قیادت کرتے ہوئے صدر کی ذمہ داری بھی انجام دی اور مختلف ادوار میں تنظیمی معاملات میں فعال کردار ادا کیا۔
ان کی قیادت کا مرکز دینی و ملی شعور، تنظیم، اتحاد اور اجتماعی مسائل پر ذمہ دارانہ موقف اختیار کرنا تھا۔
انجمنِ امامیہ کے پلیٹ فارم سے ان کی وابستگی نے انہیں بلتستان کے مذہبی و اجتماعی حلقوں میں ایک نمایاں مقام عطا کیا اور عوامی و ملی معاملات میں ان کی ذمہ داریوں کو مزید وسعت دی۔
7۔ شیعہ علماء کونسل پاکستان میں قومی سطح کا کردار
علامہ آغا سید عباس رضویؒ نے شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر کی حیثیت سے بھی ذمہ داری انجام دی۔
اس منصب کے باعث ان کی دینی و ملی سرگرمیوں کا دائرہ گلگت بلتستان سے نکل کر قومی سطح تک وسیع ہوا۔ وہ ملکی سطح پر مذہبی و ملی مسائل کے حوالے سے سرگرم شخصیات میں شمار ہوئے۔
بعد ازاں اسلامی تحریک پاکستان گلگت بلتستان کے صوبائی صدر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔ مختلف ادوار میں انہیں اسلامی تحریک گلگت بلتستان کے سابق صوبائی صدر کے طور پر یاد کیا گیا۔
یہ ذمہ داری ان کے قومی سیاسی و دینی تجربے اور تنظیمی صلاحیتوں پر اعتماد کی بھی عکاس تھی۔
8۔ گلگت بلتستان اسمبلی اور کونسل میں عوامی نمائندگی
علامہ سید عباس رضویؒ نے سیاسی میدان میں بھی طویل عرصہ خدمات انجام دیں۔ دستیاب روایات و بیانات کے مطابق وہ گلگت بلتستان اسمبلی اور گلگت بلتستان کونسل سے وابستہ رہے اور عوامی نمائندگی کا فریضہ انجام دیا۔
سیاسی ایوانوں میں ان کی موجودگی کا بنیادی مقصد اپنے علاقے اور عوام کے مسائل کو متعلقہ فورمز تک پہنچانا تھا۔
وہ ان شخصیات میں شمار ہوتے تھے جنہوں نے دینی پس منظر کے ساتھ سیاسی و عوامی نمائندگی کی ذمہ داری بھی قبول کی۔ اس طرح ان کی شخصیت میں عالمِ دین، ملی رہنما اور عوامی نمائندے کے کردار یکجا ہوئے۔
9۔ ایوانوں میں درویشی اور سادہ طرزِ زندگی
علامہ سید عباس رضویؒ کے بارے میں سب سے زیادہ بیان کیے جانے والے اوصاف میں سادگی، خودداری اور درویشی نمایاں ہیں۔
مختلف اہم ذمہ داریوں اور سیاسی مناصب پر رہنے کے باوجود ان کی زندگی میں نمود و نمائش نمایاں نہیں تھی۔ ان کے بارے میں رفقا اور عقیدت مندوں کے تاثرات میں یہ بات بارہا سامنے آتی ہے کہ انہوں نے عہدے کو ذاتی مفادات کے حصول کا ذریعہ نہیں بنایا۔
ان کی شخصیت کے حوالے سے یہ تاثر بھی بیان کیا جاتا ہے کہ طویل عوامی و سیاسی زندگی کے باوجود انہوں نے ذاتی آسائشوں اور نمود و نمائش کے بجائے سادہ طرزِ زندگی کو ترجیح دی۔
ان کے لیے عہدہ ایک امانت تھا اور عوامی منصب کو ذاتی مفاد سے بالاتر رکھنا ان کے کردار کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔
10۔ عوامی ترقی اور بنیادی سہولیات کے لیے کردار
علامہ سید عباس رضویؒ صرف مذہبی اور سیاسی خطابات تک محدود نہیں رہے بلکہ اپنے علاقے کی عملی ترقی کے مسائل میں بھی دلچسپی لیتے رہے۔
تعلیم، صحت، سڑکوں، پلوں، بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات سے متعلق عوامی مسائل کو حکومتی سطح پر اجاگر کرنا ان کی عوامی سرگرمیوں کا حصہ رہا۔
خصوصاً دور دراز اور دشوار گزار علاقوں کے عوام کے لیے بنیادی سہولیات کی فراہمی ہمیشہ گلگت بلتستان کا ایک اہم مسئلہ رہی ہے۔ اس تناظر میں ان کی سیاسی و عوامی جدوجہد کو مقامی ترقی کے مطالبات سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
11۔ اتحادِ بین المسلمین اور امن و رواداری
گلگت بلتستان مختلف مذہبی، مسلکی اور ثقافتی روایات کا حسین امتزاج ہے۔ ایسے خطے میں مذہبی قیادت کے لیے اتحاد، امن اور رواداری بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
علامہ سید عباس رضویؒ نے مختلف مکاتبِ فکر کے درمیان اتحاد، باہمی احترام اور امن کے فروغ کی کوششوں میں بھی کردار ادا کیا۔
ان کی اجتماعی سوچ کا اہم پہلو یہ تھا کہ مذہبی وابستگی کے ساتھ معاشرتی امن اور قومی یکجہتی کو بھی اہمیت دی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شخصیت کو صرف ایک مخصوص تنظیم یا حلقے تک محدود کرنے کے بجائے وسیع تر عوامی و سماجی تناظر میں بھی دیکھا جاتا ہے۔
12۔ غریبوں، یتیموں اور بے کسوں سے تعلق
علامہ سید عباس رضویؒ کی عوامی شخصیت کا ایک اہم پہلو کمزور اور ضرورت مند طبقات کے ساتھ ان کا تعلق تھا۔
وہ عام آدمی کے مسائل سنتے اور حتی المقدور ان کی مدد اور داد رسی کی کوشش کرتے تھے۔ غریب، یتیم، بیوہ، محتاج اور مظلوم طبقے کے مسائل کو اجتماعی ذمہ داری سمجھنا ان کی دینی و عوامی سوچ کا حصہ تھا۔
ان کی سادگی اور عوام سے بے تکلفی نے انہیں مختلف طبقات میں قابلِ رسائی شخصیت بنایا۔
13۔ حق گوئی، اصول پسندی اور بے باکی
علامہ آغا سید عباس رضویؒ کی شخصیت کے حوالے سے حق گوئی، خودداری، اصول پسندی اور بے باکی کا ذکر خصوصی طور پر کیا جاتا ہے۔
وہ اپنے موقف کے اظہار میں مصلحت سے زیادہ اصول کو ترجیح دینے کے لیے معروف تھے۔ ان کی گفتگو میں دینی حمیت، عوامی مسائل کا احساس اور اپنے مؤقف پر ثابت قدمی نمایاں تھی۔
مختلف عہدوں پر فائز رہنے کے باوجود ان کی شخصیت میں درویشی اور خودداری کا پہلو نمایاں رہا، جو ان کے چاہنے والوں کے نزدیک ان کے کردار کی سب سے بڑی خصوصیات میں سے تھا۔
14۔ تنظیمی و قیادت کی صلاحیت
انجمنِ امامیہ اور مختلف پلیٹ فارمز پر ذمہ داریاں انجام دینا ان کی تنظیمی صلاحیتوں کی علامت ہے۔
انہوں نے طویل عرصے تک مختلف دینی و ملی اداروں کے ساتھ کام کیا اور اجتماعی معاملات میں قیادت کی ذمہ داریاں نبھائیں۔
ان کی قیادت کا انداز عوامی رابطے، تنظیمی وابستگی، دینی شعور اور اجتماعی مفادات کے گرد گھومتا تھا۔
15۔ عوام کے ساتھ بے تکلف اور قریبی تعلق
اہم سیاسی اور مذہبی عہدوں کے باوجود علامہ سید عباس رضویؒ عام لوگوں سے دور نہیں ہوئے۔
ان کے بارے میں تعزیتی تاثرات میں سادگی، خلوص، محبت، دیانت داری اور عوام دوستی کا بار بار ذکر سامنے آیا۔ ان کی مجلس میں عام آدمی بھی اپنے آپ کو اجنبی محسوس نہیں کرتا تھا۔
یہی عوامی قربت ان کی مقبولیت کا ایک اہم سبب تھی۔ ان کے لیے عوام صرف ووٹر یا پیروکار نہیں بلکہ قوم و ملت کا وہ حصہ تھے جس کی خدمت کو وہ اپنی ذمہ داری سمجھتے تھے۔
علامہ سید عباس رضویؒ کی شخصیت کے نمایاں اوصاف
ان کی پوری زندگی کا جائزہ لیا جائے تو ان کی شخصیت کے چند نمایاں پہلو یہ سامنے آتے ہیں:
علم و تقویٰ
1۔نجفِ اشرف کی علمی تربیت
2۔سادگی اور درویشی
3۔خودداری اور عزتِ نفس
4۔حق گوئی اور بے باکی
5۔اصول پسندی
6۔عوام دوستی
7۔قوم و ملت سے وابستگی
8۔تنظیمی و قیادی صلاحیت
9۔غریبوں اور مظلوموں کی حمایت
10۔عوامی حقوق کے لیے جدوجہد
11۔اتحاد و وحدت کا شعور
12۔دینی و سیاسی میدانوں میں فعال کردار
13۔عوامی مسائل کو حکومتی ایوانوں تک پہنچانے کی کوشش
14۔عہدے کو امانت سمجھنے کا جذبہ
ایک عہد کا اختتام
علامہ آغا سید محمد عباس رضویؒ کی وفات گلگت بلتستان خصوصاً بلتستان کے دینی، ملی، سیاسی اور سماجی حلقوں کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔
ایک ایسی شخصیت کا دنیا سے رخصت ہونا جو طویل عرصے تک مختلف میدانوں میں فعال رہی ہو، صرف ایک فرد کی جدائی نہیں بلکہ ایک پورے عہد کے اختتام کے مترادف محسوس ہوتا ہے۔
ان کی زندگی نئی نسل کے لیے اس اعتبار سے قابلِ مطالعہ ہے کہ علم، دین، سیاست، تنظیم، عوامی خدمت اور اصول پسندی کو کس طرح ایک ساتھ لے کر چلا جا سکتا ہے۔
ان کا اصل سرمایہ عہدے، منصب یا سیاسی حیثیت نہیں بلکہ وہ کردار، سادگی، خودداری، دینی وابستگی اور عوامی خدمت ہے جس کے باعث ان کا نام ان کے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ رہے گا۔
وفات، نمازِ جنازہ اور تدفین
حجۃ الاسلام والمسلمین علامہ آغا سید محمد عباس رضویؒ 14اگست 2026ء میں اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے۔ ان کی وفات کی خبر نے سکردو، بلتستان اور گلگت بلتستان کے دینی، ملی، سیاسی اور عوامی حلقوں کو سوگوار کر دیا۔
ان کی نمازِ جنازہ مرکزی جامع مسجد سکردو میں حجتہ السلام والمسلمین علامہ شیخ محمد حسن جعفری دام عزہ کی اقتدامیں ادا کی گئی، جس میں گلگت بلتستان سے بڑی تعداد میں عوام، علماء، سیاسی و سماجی شخصیات، تنظیمی کارکنان، رفقا اور عقیدت مندوں نے شرکت کی۔
بعد ازاں ان کے جسدِ خاکی کو ان کے آبائی علاقے آستانہ میں سپردِ خاک کیا گیا۔
نمازِ جنازہ اور تدفین میں عوام کی بڑی شرکت اس گہرے تعلق کی عکاس تھی جو مرحوم نے اپنی طویل زندگی میں عوام کے ساتھ قائم کیا تھا۔
خراجِ عقیدت
علامہ آغا سید محمد عباس رضویؒ کے بارے میں تعزیتی تاثرات میں انہیں سادگی، متانت، خودداری، حق گوئی، اصول پسندی اور عوامی خدمت کا پیکر قرار دیا گیا۔
ان کے رفقا اور عقیدت مندوں کے نزدیک وہ ایسے رہنما تھے جنہوں نے عہدوں کو اپنی ذات کی ترقی کے بجائے قوم و ملت کی خدمت کا ذریعہ بنایا۔
نجفِ اشرف کی علمی فضا سے نکلنے والا یہ درویش عالم، منبر سے عوامی شعور بیدار کرتا رہا، تنظیمی پلیٹ فارم پر قوم کی رہنمائی کرتا رہا، سیاسی ایوانوں میں عوامی مسائل کی آواز بنتا رہا اور زندگی کے آخری سفر تک اپنے اصولوں سے وابستہ رہا۔
اختتامی کلمات
حجۃ الاسلام والمسلمین علامہ آغا سید محمد عباس رضویؒ کی زندگی گلگت بلتستان کی دینی، ملی اور عوامی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔
انہوں نے اپنی زندگی کے مختلف ادوار میں علم و دین، تبلیغ، قضاوت، تنظیم، سیاست، عوامی نمائندگی اور سماجی خدمت کے میدانوں میں اپنی ذمہ داریاں ادا کیں۔ ان کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو یہ تھا کہ وہ عہدے سے زیادہ کردار، اقتدار سے زیادہ خدمت اور نمود سے زیادہ سادگی کو اہمیت دیتے تھے۔
وہ نجفِ اشرف کی علمی روایت سے وابستہ عالم تھے، قوم و ملت کے لیے آواز بلند کرنے والے رہنما تھے، عوامی مسائل کے ترجمان تھے اور اپنے سادہ و درویشانہ طرزِ زندگی کے باعث لوگوں کے دلوں میں جگہ بنانے والی شخصیت تھے۔
ان کی رحلت سے پیدا ہونے والا خلا بلاشبہ آسانی سے پُر نہیں ہوگا، تاہم ان کی سب سے بڑی یاد ان کی وہ جدوجہد ہے جو علم، دین، ملت، عوامی حقوق، اتحاد اور خدمت کے عنوان سے آنے والی نسلوں تک منتقل ہوتی رہے گی۔
اللہ تعالیٰ بحقِ محمد و آلِ محمدؐ حجۃ الاسلام والمسلمین علامہ آغا سید محمد عباس رضویؒ کو جوارِ رحمتِ الٰہی میں اعلیٰ مقام، بلندیٔ درجات اور مغفرت عطا فرمائے، ان کی دینی و ملی خدمات کو شرفِ قبولیت بخشے، ان کے اہلِ خانہ، متعلقین، رفقا، شاگردوں اور تمام محبان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
علامہ آغا سید محمد عباس رضویؒ ایک شخصیت نہیں، ایک عہد، ایک کردار اور ایک جدوجہد کا نام تھے؛ ان کی یاد ان کی دینی بصیرت، سادگی، اصول پسندی اور قوم و ملت کی خدمت کی صورت میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔









آپ کا تبصرہ