حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آج مورخہ 3 ستمبر 2026ء کو حجت الاسلام والمسلمین علامہ شیخ محمد حسن جعفری کی زیرِ صدارت انجمنِ امامیہ بلتستان کی کابینہ اور مجلسِ نظارت کے اراکین کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں گلگت کے موجودہ حالات سمیت خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ گلگت مرکز، استور مرکز اور بلتستان مرکز کے مابین مسلسل رابطہ اور مشاورت جاری ہے۔ لہٰذا مسقبل میں کسی بھی قسم کے احتجاج، مظاہرے یا آئندہ کی صورتحال کے حوالے سے جب تک مرکز کی جانب سے باقاعدہ فیصلہ اور اعلان نہ ہو، کسی بھی مقام پر کوئی احتجاجی اقدام نہیں کیا جائے گا۔

اجلاس میں گلگت میں انجمنِ امامیہ کی جانب سے اب تک کیے جانے والے احتجاج کی مکمل حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انجمنِ امامیہ بلتستان موجودہ حالات کا بغور جائزہ لے رہی ہے اور متعلقہ مراکز کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ اس تناظر میں انجمنِ امامیہ بلتستان عوام سے اپیل کرتی ہے کہ وہ علاقائی امن، بھائی چارے اور سکون کو برقرار رکھتے ہوئے کسی بھی قسم کی افواہوں یا غیر مصدقہ اطلاعات پر کان نہ دھریں اور مرکز کی جانب سے باقاعدہ ہدایت جاری ہونے تک کسی بھی احتجاجی تحریک یا سرگرمی میں شرکت نہ کریں۔
علماء نے کہا کہ عوام کو یقین دلایا جاتا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور ضرورت پڑنے پر انجمنِ امامیہ بلتستان کی جانب سے باضابطہ اعلامیہ اور آئندہ کا لائحۂ عمل جاری کیا جائے گا۔
واضح رہے مسنگ پرسنز کے حوالے سے گلگت میں احتجاجی مظاہرہ جاری تھا؛ تاہم علماء کی اجتماعی گرفتاری کے اقدام کے بعد حکومت نے یقین دلایا تھا کہ گرفتار جوانوں کو بہت جلد رہا کردیا جائے گا۔









آپ کا تبصرہ