حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،مرکزی انجمنِ امامیہ بلتستان کی کابینہ کا اہم اجلاس امامیہ مرکز بلتستان جامع مسجد سکردو میں، انجمنِ امامیہ بلتستان کے صدر آغا سید باقر الحسینی کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں گلگت بلتستان کی موجودہ صورتحال بالخصوص گلگت میں جاری احتجاج، گرفتاریوں اور مسنگ پرسنز کے مسئلے پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ موجودہ حالات سے باخبر رہتے ہوئے بروقت اور مضبوط لائحہ عمل طے کیا جائے، خواہ اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی مخالفت یا دباؤ کا سامنا ہو۔
اجلاس میں گلگت میں ہونے والے پرامن احتجاج کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ گرفتار افراد کو فوری طور پر عدالت میں پیش کیا جائے اور اگر ان پر کوئی الزام ہے تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، بصورتِ دیگر انہیں فوری رہا کیا جائے۔
مرکزی انجمنِ امامیہ بلتستان نے واضح کیا کہ ماورائے عدالت کسی بھی اقدام کو قبول نہیں کیا جائے گا اور گلگت میں جاری پرامن احتجاج کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ گرفتار افراد کو فوری طور پر عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔
اگر ان کے خلاف کوئی مقدمہ یا الزام ہے تو انہیں قانون کے مطابق عدالتی کاروائی کا سامنا کروایا جائے، بصورتِ دیگر تمام گرفتار افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
اجلاس میں واضح کیا گیا کہ گرفتاریوں کا سلسلہ جاری رہا اور بے گناہ افراد کو رہا نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع ہوسکتا ہے۔
مرکزی انجمنِ امامیہ بلتستان، انجمنِ امامیہ گلگت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ بلتستان کے عوام، بالخصوص نوجوانوں سے اپیل کی گئی کہ پرامن رہیں، غیر متعلقہ اور اشتعال انگیز پیغامات پر کان نہ دھریں اور کسی بھی آئندہ لائحہ عمل کے لیے مرکزی انجمنِ امامیہ بلتستان کے باضابطہ اعلان کا انتظار کریں۔
اجلاس میں واضح کیا گیا کہ بلتستان میں فی الحال کوئی سڑک یا شاہراہ بند نہیں کی جائے گی اور عوام نظم و ضبط اور امن و امان کو برقرار رکھیں۔









آپ کا تبصرہ