تحریر: فاطمہ نساء
حوزہ نیوز ایجنسی|
وحدت کی تعریف
وحدت، یعنی اتحاد و یکجہتی، انسانی معاشرے کی بقا و ترقی کے لیے ناگزیر عنصر ہے۔ جب قومیں متحد ہوتی ہیں تو وہ ہر مشکل کو آسانی سے عبور کر لیتی ہیں، اور جب وہ بکھری ہوتی ہیں تو معمولی چیلنج بھی انہیں شکست دے دیتا ہے۔ امت مسلمہ کے لیے وحدت کا تصور محض ایک سیاسی یا سماجی ضرورت نہیں، بلکہ یہ ایک قرآنی حکم، نبوی تعلیم اور تاریخی ضرورت ہے۔ یہ مضمون وحدت کی اہمیت، اس کے چیلنجز، اور عملی اقدامات کا جائزہ پیش کرتا ہے۔ تعلیم اور تاریخی ضرورت ہے۔ یہ محض ایک تقویم کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسی نایاب حکمت عملی کا مظہر ہے جس کا مقصد امت مسلمہ کو درپیش سب سے بڑے چیلنج – تفرقہ – کا سد باب کرنا ہے۔ یہ تصور 12 سے 17 ربیع الاول تک محیط ہے، جس میں پیغمبر اسلامؐ کی ولادت سے متعلق شیعہ اور سنی روایات کے درمیان اختلاف کو وحدت کے پل میں بدل دیا گیا ہے۔ امام خمینیؒ نے اس ہفتے کو اس لیے متعین کیا، تاکہ امت کی اجتماعی توانائی کو بیرونی دشمنوں کے بجائے مشترکہ اہداف کے لیے متحرک کیا جا سکے۔
یہ مضمون وحدت کی اہمیت، اس کے چیلنجز، اور عملی اقدامات کا جائزہ پیش کرتا ہے۔
قرآن مجید میں خدا کا ارشاد ہے:وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا"(اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو)
یہ آیت امت مسلمہ کے لیے ایک واضح راہنما اصول ہے۔ وحدت صرف ایک سیاسی یا سماجی ضرورت نہیں، بلکہ یہ ایک دینی فریضہ ہے، ایک قرآنی حکم ہے اور امت کی بقا و عظمت کی ضمانت ہے۔
پہلا نکتہ: تفرقہ، دشمن کا سب سے بڑا ہتھیار
ہماری تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی امت مسلمہ متحد رہی، اس نے ترقی کی اور جب بھی اس میں تفرقہ آیا، وہ زوال کا شکار ہوئی۔ آج ہمارے دشمن ہمیں آپس میں لڑواتے ہیں، شیعہ سنی، دیوبندی بریلوی، سلفی اشعری کے نام پر ہمارے درمیان دیواریں کھڑی کرتے ہیں۔
کیا یہ سب ہمارے اپنے بنائے ہوئے نام نہیں؟ کیا ہم سب ایک ہی کلمہ پڑھنے والے، ایک ہی قبلے کی طرف رخ کرنے والے، ایک ہی قرآن پڑھنے والے نہیں؟ پھر یہ تفرقہ کیوں؟
دشمن جانتا ہے کہ متحد امت کو شکست نہیں دی جا سکتی، اس لیے وہ ہمیں تفرقہ کی آگ میں جھونک دیتا ہے۔
دوسرا نکتہ: وحدت کے لیے ہمیں کیا کرنا ہے؟
وحدت محض نعرے لگانے کا نام نہیں، اس کے لیے عملی اقدامات درکار ہیں:
1. اختلافات کو گہرائی نہ دیں: ہمارے درمیان فقہی اور مسلکی اختلافات ہیں، یہ فطری ہیں، لیکن یہ ہمیں بھائیوں سے باغی نہیں بنا سکتے۔
2. مشترکات کو اجاگر کریں: ہم سب اللہ کے بندے ہیں، محمدؐ کے امتی ہیں، قرآن ہمارا دستور ہے، قبلہ ہمارا ایک ہے۔ پانچ وقت کی نماز، روزہ، زکاۃ، حج — یہ سب ہمارے مشترکہ ستون ہیں۔
3. دشمن کی شناخت کریں: ہمارا اصل دشمن وہ ہے جو فلسطین، کشمیر، عراق، شام، یمن اور افغانستان میں مسلمانوں کا خون بہا رہا ہے، نہ کہ وہ مسلمان جو ہم سے رائے میں مختلف ہے۔
4. باہمی احترام: ہمیں ایک دوسرے کے علماء اور مراجع کا احترام کرنا چاہیے، خواہ ہم ان سے متفق نہ ہوں۔
تیسرا نکتہ: ہفتہ وحدت کی حکمت
امام خمینیؒ نے 12 سے 17 ربیع الاول کو ہفتہ وحدت قرار دے کر ایک انقلابی کام کیا۔ انہوں نے اس اختلاف کو — کہ نبی کریمؐ کی ولادت 12 ربیع الاول کو ہے یا 17 کو — اتحاد کا ذریعہ بنایا۔
یہ ایک نہایت بصیرت افروز اقدام تھا کہ جس چیز پر ہمارا اختلاف ہے، اسے ہم جشن کا ہفتہ بنا دیں۔ یہی وحدت کی اصل روح ہے۔
چوتھا نکتہ: وحدت کے ثمرات
اگر ہم متحد ہو جائیں تو ہماری معاشی طاقت دوگنی ہو جائے گی، جو آج تیل، گیس، معدنیات اور انسانی وسائل کی صورت میں موجود ہے لیکن بکھری ہوئی ہے۔
ہمارا سیاسی وزن عالمی سطح پر بڑھ جائے گا، کوئی ہمیں نظر انداز نہیں کر سکے گا۔
ہمارے فلسطینی، کشمیری اور دیگر مظلوم بھائیوں کو عملی مدد مل سکے گی۔
ہم سائنس، ٹیکنالوجی، طب اور دیگر شعبوں میں ترقی کر سکیں گے-
رسول اللہ نے فرمایا:مثل المؤمنين في توادهم وتراحمهم وتعاطفهم كمثل الجسد الواحد، إذا اشتكى منه عضو تداعى له سائر الجسد بالسهر والحمى.(مؤمنین آپس میں ایک دوسرے سے محبت، رحمت اور شفقت میں ایک جسم کی مانند ہیں، جب اس کے کسی عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو پورا جسم بے خوابی اور بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے)
ہفتہ وحدت: دشمن کو مایوس کرنے کا ایک نایاب نظریہ
ایک حکمت عملی کا آغاز
"ہفتہ وحدت" محض ایک تقویم کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسی نایاب حکمت عملی کا مظہر ہے جس کا مقصد امت مسلمہ کو درپیش سب سے بڑے چیلنج – تفرقہ – کا سد باب کرنا ہے۔ یہ تصور 12 سے 17 ربیع الاول تک محیط ہے، جس میں پیغمبر اسلامؐ کی ولادت سے متعلق شیعہ اور سنی روایات کے درمیان اختلاف کو وحدت کے پل میں بدل دیا گیا ہے۔ امام خمینیؒ نے اس ہفتے کو اس لیے متعین کیا تاکہ امت کی اجتماعی توانائی کو بیرونی دشمنوں کی بجائے مشترکہ اہداف کے لیے متحرک کیا جا سکے۔
دشمن کی حکمت عملی: تفرقہ ڈالو اور حکومت کرو!
ہفتہ وحدت کی اشد ضرورت اس حقیقت سے ابھرتی ہے کہ استکبار اور صیہونی قوتیں امت مسلمہ کو کمزور کرنے کے لیے تفرقہ کو بنیادی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔ یہ کوئی نیا حربہ نہیں؛ یہ پرانی چال "تفرقہ ڈالو اور حکومت کرو" ہے، جسے آج جدید ٹیکنالوجی اور میڈیا کے ذریعے موثر بنایا گیا ہے ۔
دشمن کے اس اہم مقصد کو سمجھیں:
نظریاتی بحران: دشمن کا اصل نشانہ شیعہ یا سنی نہیں بلکہ مجموعی طور پر اسلام ہے۔ آیت اللہ علم الہدیٰ نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ صیہونی حکومت کا بم فلسطینی سنی اور ایرانی شیعہ دونوں پر گِرتا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مشترکہ خطرہ ایک ہے ۔
جنگِ نرم: دورِ جدید میں، دشمن جذبات کو بھڑکانے اور اختلافات کو اجاگر کرنے کے لیے ڈیجیٹل میڈیا کا استعمال کرتا ہے، جس کے نتیجے میں بات چیت کی جگہ نفرت پیدا ہوتی ہے۔ یہ طریقہ کار سیاسی اور فوجی دباؤ سے کہیں زیادہ مؤثر ہے۔
تکفیری رجحانات: دشمن تکفیری گروہوں کا استعمال کرتے ہیں تاکہ مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خلاف بھڑکایا جا سکے، جس سے امت کی اجتماعی طاقت مفلوج ہو جاتی ہے ۔
ہفتہ وحدت: ایک نایاب انسدادِ حکمت عملی
اس تاریک صورتحال میں ہفتہ وحدت دشمن کے ایجنڈے کو ناکام بنانے کا ایک نایاب اور موثر طریقہ کار ہے۔ اس کی نایابیت درج ذیل پہلوؤں میں ہے:
اختلافات کو طاقت میں بدلنا: جہاں دشمن اختلافات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں، وہیں ہفتہ وحدت پیدائش کی تاریخ کے اختلاف کو جشنِ ولادت کی ایک ہفتہ طویل تقریب میں بدل دیتا ہے۔ یہ اقدام اختلافی نقطہ کو اجتماعی اتحاد کا ذریعہ بناتا ہے، جو کہ ایک نادر اور بصیرت افروز اقدام ہے ۔
مشترکہ دشمن کے خلاف یکجہتی: یہ ہفتہ مسلمانوں کو یاد دلاتا ہے کہ ان کا اصل دشمن امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادی ہیں، نہ کہ آپس میں ایک دوسرے ۔ جب مسلمان اپنی صفوں میں متحد ہوتے ہیں، تو وہ ایک "ٹھوس دیوار" کی صورت اختیار کر لیتے ہیں جسے دشمن عبور نہیں کر سکتا ۔
چیلنجز: وعدہ اور حقیقت کے درمیان خلیج
اپنی اہمیت کے باوجود، ہفتہ وحدت کو اپنے نظریاتی مقاصد کو حقیقت میں ڈھالنے میں اہم چیلنجز کا سامنا ہے۔ ڈوئچے ویلے کے مطابق، چار دہائیوں کے باوجود، بعض اہل سنت رہنما اسے محض ایک "نمائشی" مشق سمجھتے ہیں اور حقیقی مساوات یا کردار میں کوئی پیشرفت محسوس نہیں کرتے۔
قانونی چیلنجز: بعض سنی علماء کا کہنا ہے کہ مذہبِ رسمی کے طور پر شیعہ مذہب کا تعین (جس میں سنی اقلیت کو شامل کیا گیا ہے) قانونی سطح پر بنیادی طور پر تفریق کا باعث ہے اور اسے ازالے کی ضرورت ہے ۔
سماجی چیلنجز: اگرچہ عوامی سطح پر اکثر مسلمان امن کے ساتھ رہتے ہیں، لیکن بعض انتہا پسند عناصر اور بعض پالیسیاں (جیسے تعمیرِ مساجد پر پابندیاں) اعتماد کی فضا کو نقصان پہنچاتی ہیں۔
ہفتہ وحدت کا تصور دشمن کو مایوس کرنے کا ایک نایاب اور گہرا نظریہ ہے۔ یہ اسلامی تاریخ میں ایک بصیرت افروز منصوبہ ہے کہ کس طرح داخلی اختلافات کو خارجی چیلنجز کے خلاف طاقت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
تاہم، اس نظریے کی کامیابی کا انحصار صرف سرکاری تقریبات پر نہیں بلکہ اس کی حقیقی روح کو فروغ دینے پر ہے، جس میں شامل ہیں:
قانونی اور سماجی اصلاحات کے ذریعے تمام مسلمانوں کے ساتھ مساوی سلوک۔
میڈیا اور اداروں کا کردار تاکہ وہ اس نظریے کو سطحی جشن سے گہری اجتماعی اقدار میں تبدیل کر سکیں۔
اگر امت مسلمہ اس نظریے کی حقیقی روح کو سمجھ کر اس پر عمل کرے، تو نہ صرف ہفتہ وحدت اپنے مقصد میں کامیاب ہو گا بلکہ تاریخ کا سب سے بڑا ثبوت بنے گا کہ اتحاد کی قوت کسی بھی بیرونی سازش کو ناکام بنا سکتی ہے۔
قائدین اور مفکرین کے اقتباسات (محرک کلام)
علامہ اقبال:
"تو ہے ابراہیم کا فرزند، بت شکن ہے تیری آنکھ
وحدتِ ملتِ بیضا سے ہے رسوائی کو ننگ"
(یعنی تیری آنکھ بت شکن ہے، تیری رسوائی اس امت کی وحدت کو نقصان پہنچاتی ہے، سو وحدت کو اپنا۔)
قائد اعظم محمد علی جناح:
"اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط" — یہ تین الفاظ قوم کی بقا کی ضمانت ہیں۔
مہاتما گاندھی:
"میرا ماننا ہے کہ مختلف مذاہب ایک ہی درخت کی شاخیں ہیں، جس کی جڑ ایک ہے۔"
نتیجہ
وحدت کوئی نرمی یا مجبوری نہیں، بلکہ یہ زندہ رہنے کی سائنس ہے۔ جس طرح جسم کے مختلف اعضاء مل کر ایک جاندار وجود بناتے ہیں، اسی طرح معاشرے کے مختلف طبقے، نسلیں اور خیالات مل کر ایک زندہ قوم کا وجود بناتے ہیں۔









آپ کا تبصرہ