حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بلتستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ نہج البلاغہ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں علما، محققین، دانشوروں، اساتذہ اور علمی و دینی اداروں کے نمائندوں نے امیرالمؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی علمی، فکری، ادبی اور عملی تعلیمات پر اظہارِ خیال کیا۔
مقررین نے نہج البلاغہ کو علم، حکمت، عدل، انسانی مساوات اور اصلاحِ معاشرہ کا آفاقی سرچشمہ قرار دیتے ہوئے اس کے پیغام کو نوجوان نسل اور معاشرے کے مختلف طبقات تک پہنچانے کی ضرورت پر زور دیا۔
مرکز افکارِ اسلامی کے زیرِ اہتمام یہ علمی و فکری اجتماع 18 اکتوبر 2026ء کو حجت الاسلام والمسلمین اقبال آڈیٹوریم، جامعۃ النجف سکردو میں منعقد ہوا۔ کانفرنس کو مفسرِ قرآن محسنِ ملت حجت الاسلام والمسلمین شیخ محسن علی نجفی رحمۃ اللہ علیہ کے نام سے منسوب کیا گیا تھا جبکہ انجمنِ امامیہ بلتستان، جامعۃ النجف سکردو، اسوہ ایجوکیشن سسٹم، جامعۃ الکوثر اسلام آباد اور دیگر علمی و دینی شخصیات و اداروں نے بھی اس کے انعقاد میں تعاون کیا۔
پروگرام کی نظامت کے فرائض شیخ اشرف مظہر نے انجام دیے۔ تقریب کا آغاز قاری تقی ذاکر کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ اجمل ذاکری نے نعتِ رسولِ مقبول (ص) پیش کی۔ دارالحفاظ سکردو کے قرآء نے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی شان میں توشیح پیش کی جبکہ حجت الاسلام والمسلمین سید سجاد اطہر موسوی نے اپنے منظوم کلام کے ذریعے امیرالمؤمنین علیہ السلام کی علمی و روحانی عظمت اور نہج البلاغہ کے مقام کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر حجت الاسلام والمسلمین شیخ محسن علی نجفی رحمۃ اللہ علیہ کی ایک یادگار ویڈیو بھی دکھائی گئی، جس میں انہوں نے نہج البلاغہ کی علمی و فکری عظمت کو اجاگر کیا۔
نہج البلاغہ علمِ الٰہی کی جھلک اور معاشرے کے مسائل کا حل ہے: حجت الاسلام والمسلمین لیاقت علی اعوان
حجت الاسلام والمسلمین لیاقت علی اعوان نے خطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا: امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کا کلام فصاحت، بلاغت، معنوی گہرائی اور حکمت کے اعتبار سے منفرد مقام رکھتا ہے۔ نہج البلاغہ توحید، معرفتِ الٰہی، اخلاق، عدل، سیاست، معاشرت اور انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں کے لیے جامع رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے مرکز افکارِ اسلامی کی علمی و تحقیقی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ادارہ گزشتہ کئی دہائیوں سے نہج البلاغہ کے موضوع پر کام کررہا ہے اور اس سلسلے میں چالیس سے زائد کتابیں اور مختلف موضوعات پر تصانیف مرتب کی گئی ہیں۔

حجت الاسلام والمسلمین لیاقت علی اعوان نے نہج البلاغہ کے اردو تراجم اور مطبوعہ نسخوں کی صحت پر توجہ دلاتے ہوئے کہا: بعض نسخوں میں خطبات کے متن، قرآنی آیات اور عربی و اردو عبارتوں میں اغلاط یا کمی بیشی پائی جاتی ہے۔ اس لیے مستند، درست اور تحقیقی نسخوں کی تیاری ضروری ہے، تاکہ نئی نسل تک امیرالمؤمنین علیہ السلام کا کلام صحیح صورت میں پہنچ سکے۔
انہوں نے کہا: کانفرنس کا مقصد محض ایک تقریب منعقد کرنا نہیں بلکہ علمی شخصیات، اداروں اور محققین کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کرکے نہج البلاغہ کی ترویج کے لیے مستقل علمی تحریک پیدا کرنا ہے۔ کانفرنس کو حجت الاسلام والمسلمین شیخ محسن علی نجفی رحمۃ اللہ علیہ کے نام سے منسوب کرنے کے حوالے سے انہوں نے کہا: مرحوم حجت الاسلام والمسلمین نے مرکز افکارِ اسلامی کی علمی و اشاعتی سرگرمیوں کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کی۔ ان کے مطابق، جس طرح امیرالمؤمنین علیہ السلام کی ذات مظلوم رہی، اسی طرح آپؑ کا کلام بھی طویل عرصے تک علمی اور عوامی سطح پر وہ مقام حاصل نہ کرسکا جس کا وہ مستحق تھا۔ اس کانفرنس کا ایک مقصد اس عظیم علمی ورثے کو دوبارہ زندہ کرنا اور نئی نسل تک پہنچانا ہے۔

نہج البلاغہ اور سائنس میں کوئی تضاد نہیں: محمد حسن حسرت
بلتستان کے نامور محقق و ادیب محمد حسن حسرت نے نہج البلاغہ اور سائنس کے باہمی تعلق پر گفتگو کرتے ہوئے کہا: سائنس مشاہدے، تجربے اور تجزیے کے ذریعے مادی کائنات کے حقائق کا مطالعہ کرتی ہے، جبکہ نہج البلاغہ انسان کو کائنات کی تخلیق، خالق کی معرفت، روحانی زندگی، اخلاقی تربیت اور انسانی ذمہ داریوں کی جانب متوجہ کرتی ہے۔
انہوں نے کہا: نہج البلاغہ فزکس، کیمسٹری یا طب کی درسی کتاب نہیں، تاہم اس میں تخلیقِ کائنات، انسان، حیوانات، آسمانی اجرام اور فطرت کے مختلف مظاہر پر ایسی حکیمانہ گفتگو موجود ہے جو انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتی ہے۔ ان کے مطابق، دونوں شعبوں کے دائرۂ کار مختلف ہونے کے باوجود ان میں کوئی حقیقی تضاد نہیں، کیونکہ سائنسی تحقیق انسان کو کائنات کے حقائق سمجھنے میں مدد دیتی ہے، جبکہ نہج البلاغہ اسے اپنی اخلاقی، روحانی اور وجودی ذمہ داریوں سے آگاہ کرتی ہے۔
محمد حسن حسرت نے کہا: محض سائنسی ترقی اور ٹیکنالوجی انسانی معاشرے کو کامل نہیں بنا سکتیں، جب تک ان کے ساتھ اخلاقی تربیت، عدل اور الٰہی ہدایت کو بھی اہمیت نہ دی جائے۔
نہج البلاغہ کو مسلکی دائرے سے نکال کر پوری انسانیت تک پہنچایا جائے: حجت الاسلام والمسلمین شیخ محمد علی توحیدی
محقق، مدرس اور مترجم حجت الاسلام والمسلمین شیخ محمد علی توحیدی نے نہج البلاغہ کی عالمی ترویج پر زور دیتے ہوئے کہا: امیرالمؤمنین علیہ السلام کے کلام کی خوبصورتی، عظمت اور تعلیمات سے دنیا کو روشناس کرانا ضروری ہے۔ افسوس کہ خود اہلِ تشیع کے بہت سے افراد بھی ائمہ اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات سے پوری طرح واقف نہیں؛ اس لیے پہلے خود اس علمی ورثے کا مطالعہ اور فہم ضروری ہے، تاکہ اسے دوسروں تک مؤثر انداز میں پہنچایا جا سکے۔

انہوں نے کہا: نہج البلاغہ کے عالمی تعارف میں ایک بڑی رکاوٹ اسے صرف ایک مسلکی کتاب کے طور پر پیش کرنا ہے، حالانکہ اس کے مضامین پوری انسانیت کے لیے رہنمائی رکھتے ہیں۔ اسی طرح حضرت علی علیہ السلام کی شخصیت کو صرف شجاعت، جنگوں اور تاریخی اختلافات کے تناظر میں دیکھنے کے بجائے آپؑ کے کردار کو ایک عادل حکمران، مربی، مفکر، محنت کش اور انسانی حقوق کے علمبردار کے طور پر بھی اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔
حجت الاسلام والمسلمین شیخ محمد علی توحیدی نے کہا: نہج البلاغہ کی عالمی ترویج کے لیے معیاری تراجم، مستقل تحقیقی منصوبوں، بین الاقوامی جامعات سے روابط، علمی کانفرنسوں اور جدید تعلیمی نصاب میں اس کی شمولیت پر توجہ دینا ہوگی۔ بالخصوص مکتوبِ مالک اشتر کو جدید سیاسی فلسفے، انسانی حقوق، اچھی حکمرانی، عوامی احتساب، کمزور طبقات کے تحفظ اور سرکاری وسائل کی امانت داری کے تناظر میں پڑھایا جانا چاہیے۔
انہوں نے زور دیا کہ نہج البلاغہ کو جدید علمی و فکری مباحث سے مربوط کرکے پیش کیا جائے، تاکہ اس کے آفاقی پیغام کو عالمی سطح پر بہتر طور پر سمجھا جاسکے۔
سربراہی منصب نہیں، امانت اور جواب دہی کا نام ہے: پروفیسر ڈاکٹر عابد حسین
معروف خطیب اور خطیبِ نہج البلاغہ پروفیسر ڈاکٹر عابد حسین نے نہج البلاغہ کی روشنی میں اداروں کے سربراہان، منتظمین اور حکومتی عہدیداران کی ذمہ داریوں پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا: کسی ادارے کی سربراہی محض عہدہ، اختیار یا روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک عظیم امانت ہے، جس کے بارے میں جواب دہ ہونا پڑتا ہے۔

انہوں نے نہج البلاغہ کے مکتوب نمبر 5 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: امیرالمؤمنین علیہ السلام نے اشعث بن قیس کو منصب کی حقیقت سے آگاہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ عہدہ محض ذاتی فائدے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔ اسی طرح مکتوب نمبر 53 کی روشنی میں انہوں نے کہا: سربراہ کو آمریت، خود پسندی اور تکبر سے اجتناب کرنا چاہیے، کیونکہ حقیقی قیادت عاجزی، عدل، مشاورت اور عوامی خدمت سے عبارت ہے۔
پروفیسر عابد حسین نے مکتوب نمبر 45 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: امیرالمؤمنین علیہ السلام نے لوگوں کے دکھوں اور مشکلات سے لاتعلق رہنے کے بجائے ان کے ساتھ شریک ہونے کو حقیقی قیادت کا تقاضا قرار دیا۔ ان کے مطابق، حقیقی سربراہ وہ ہے جو اپنے ماتحتوں، کارکنوں اور عوام کی مشکلات کو محسوس کرے، ان کی ضروریات کا خیال رکھے اور مشکل حالات میں ان کے ساتھ کھڑا ہو۔
انہوں نے مکتوب نمبر 25 کی روشنی میں بیت المال اور زکوٰۃ کے اموال کی وصولی و حفاظت میں دیانت داری کی اہمیت بیان کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امیرالمؤمنین علیہ السلام مالی اموال کی حفاظت کے لیے بھی امانت دار افراد کے انتخاب پر زور دیتے ہیں تو دینی، تعلیمی اور سماجی اداروں میں اہم ذمہ داریاں سونپتے وقت اہلیت اور دیانت کو بنیادی معیار بنانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا: اداروں میں ذمہ داریوں کی واضح تقسیم، کارکردگی کا جائزہ اور مؤثر احتساب ضروری ہے۔ عہدوں کی تقسیم میں دوستی، قرابت داری اور خوشامد کے بجائے میرٹ کو ترجیح دی جانی چاہیے، کیونکہ نااہل افراد کی سرپرستی اور اہل افراد کو نظرانداز کرنا ناانصافی اور بدعنوانی کو فروغ دیتا ہے۔
ڈاکٹر عابد حسین نے کارکنوں کی مناسب تنخواہوں، بنیادی ضروریات کے خیال اور مسلسل نگرانی کو بھی بہتر ادارہ جاتی نظم و نسق کے لیے ضروری قرار دیا۔ انہوں نے کہا: نہج البلاغہ میں شفافیت، جواب دہی، انسانی وسائل کے درست استعمال اور انتظامی ذمہ داریوں سے متعلق ایسے اصول موجود ہیں جو آج بھی عملی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
علمی شخصیات کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا وقت کی ضرورت ہے: حجت الاسلام والمسلمین مقبول حسین علوی
مرکز افکارِ اسلامی کے سرپرست حجت الاسلام والمسلمین مقبول حسین علوی نے کہا: ایسی کانفرنسوں کا بنیادی مقصد مختلف علمی، فکری اور دینی شعبوں میں کام کرنے والی شخصیات کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا ہے، تاکہ ان کی صلاحیتیں اور کاوشیں ایک دوسرے کے لیے تقویت کا باعث بنیں۔ انہوں نے بزرگ علما اور محققین کی نہج البلاغہ کے میدان میں علمی خدمات کو نئی نسل تک منتقل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

انہوں نے کہا: کلامِ علی علیہ السلام کی عظمت میں کوئی کمی نہیں، اصل ضرورت اس کے پیغام کو لوگوں تک پہنچانے کی ہے۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ پہلے خود اس کتاب کا مطالعہ کیا جائے، اس کی تعلیمات کو سمجھا جائے اور پھر انہیں معاشرے تک منتقل کیا جائے۔
حجت الاسلام والمسلمین مقبول حسین علوی نے برطانیہ اور لندن میں منعقد ہونے والی علمی کانفرنسز کے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا: نہج البلاغہ کا پیغام مختلف مذاہب اور فکری پس منظر رکھنے والے افراد کے لیے بھی قابلِ توجہ ہے۔ انہوں نے خواتین اور طالبات میں اس کتاب کے مطالعے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا: نہج البلاغہ کی تعلیمات اور سیرتِ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے ذریعے نئی نسل میں بصیرت، جرأت، حق گوئی، کردار اور استقامت کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے نہج البلاغہ کے مختلف خطبات اور حکمتوں کا حوالہ دیتے ہوئے قرآن مجید سے گہرا تعلق قائم کرنے اور اس کی تعلیمات کو عملی زندگی میں نافذ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق، قرآن کی تلاوت کا حقیقی مقصد صرف الفاظ کی ادائیگی نہیں بلکہ اس کے پیغام کو سمجھنا، اپنے کردار میں ڈھالنا اور عملی زندگی میں نافذ کرنا بھی ہے۔

نہج البلاغہ میں انسانی مساوات اور عالمی عدل کا پیغام موجود ہے: حجت الاسلام والمسلمین شیخ محمد حسن جعفری
امام جمعہ و جماعت، سکردو حجت الاسلام والمسلمین شیخ محمد حسن جعفری نے نہج البلاغہ کی علمی، ادبی اور فکری عظمت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا: اس کتاب کا مقام صرف مسلمان علما کے نزدیک ہی اہم نہیں بلکہ غیر مسلم محققین اور مستشرقین نے بھی اس کی فصاحت و بلاغت اور علمی گہرائی کو تسلیم کیا ہے۔
انہوں نے علی گڑھ یونیورسٹی میں ایک علمی گفتگو کا حوالہ دیا، جس میں قرآن مجید کے اعجازِ بلاغت اور علمی و ادبی پہلوؤں پر تبادلہ خیال کے دوران ایک مستشرق نے نہج البلاغہ کو قرآن مجید کا چھوٹا بھائی قرار دیا۔ حجت الاسلام والمسلمین محمد حسن جعفری نے اس واقعے کو نہج البلاغہ کی ادبی و فکری عظمت کی مثال کے طور پر پیش کیا۔

انہوں نے جارج جرداق کی معروف تصنیف ’’صوت العدالۃ الانسانیۃ‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا: حضرت علی علیہ السلام کی شخصیت، انسانی حقوق، عدل و انصاف اور انسانی معاشرے کی اصلاح سے متعلق تعلیمات کا مطالعہ آج بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
حجت الاسلام والمسلمین محمد حسن جعفری نے مکتوبِ مالک اشتر میں امیرالمؤمنین علیہ السلام کے اس فرمان کو خصوصی طور پر پیش کیا: «فَإِنَّهُمْ صِنْفَانِ: إِمَّا أَخٌ لَكَ فِي الدِّينِ، وَإِمَّا نَظِيرٌ لَكَ فِي الْخَلْقِ» ترجمہ: ’’لوگ دو قسم کے ہیں؛ یا وہ دین میں تمہارے بھائی ہیں یا خلقت میں تمہارے جیسے انسان ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا: یہ فرمان مذہب، نسل اور دیگر امتیازات سے بالاتر ہوکر ہر انسان کے ساتھ عدل، احترام اور رواداری کا درس دیتا ہے۔ مکتوبِ مالک اشتر میں حکمرانی، انسانی مساوات، عوامی حقوق اور معاشرتی انصاف کے ایسے اصول بیان ہوئے ہیں جو آج کے دور میں بھی پوری انسانیت کے لیے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
امام جمعہ سکردو نے اپنے بیانات میں تاکید کی کہ نہج البلاغہ کو صرف تعریفی جملوں اور خطابات تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اس کا باقاعدہ مطالعہ کیا جائے اور اس کی تعلیمات کو انفرادی و اجتماعی زندگی میں نافذ کیا جائے۔

نہج البلاغہ کا مطالعہ، عمل اور عالمی تعارف اجتماعی ذمہ داری ہے
کانفرنس کے مقررین نے اپنے خطابات میں اس امر پر اتفاق کیا کہ نہج البلاغہ محض ایک تاریخی، ادبی یا مذہبی کتاب نہیں بلکہ انسانی زندگی کے اخلاقی، سیاسی، تعلیمی، سماجی اور انتظامی پہلوؤں کے لیے جامع فکری رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ اس میں توحید و معرفت، عدل و انصاف، انسانی مساوات، حکمرانی، ادارہ جاتی شفافیت، معاشرتی ذمہ داری، اخلاقی تربیت، نوجوانوں کی کردار سازی اور عوامی حقوق کے تحفظ سے متعلق گہری تعلیمات موجود ہیں۔
مقررین نے کہا: نہج البلاغہ کی ترویج کے لیے کانفرنسوں اور تقریبات کے انعقاد کے ساتھ اس کے باقاعدہ مطالعے، مستند تراجم، تحقیقی تصانیف، تعلیمی نصاب میں شمولیت، نوجوانوں اور خواتین کے لیے مطالعاتی نشستوں اور عالمی علمی اداروں سے روابط کو فروغ دینا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کتاب میں بیان کردہ اصولوں کو انفرادی و اجتماعی زندگی، اداروں کے نظم و نسق، حکومتی نظام اور معاشرتی تعلقات میں نافذ کرنا بھی ناگزیر ہے۔
انہوں نے نہج البلاغہ کو مسلکی شناخت کے محدود دائرے سے نکال کر پوری انسانیت کے مشترکہ علمی و اخلاقی سرمایہ کے طور پر پیش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق، امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی تعلیمات علم، حکمت، عدل، انسانیت اور احترامِ انسانیت کا آفاقی پیغام رکھتی ہیں، جو ہر دور اور ہر معاشرے کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔
کانفرنس کے اختتام پر شہید رہبر معظم، محسنِ ملت حجت الاسلام والمسلمین شیخ محسن علی نجفی رحمۃ اللہ علیہ، مرحوم مراجعِ عظام اور تمام شہدائے اسلام، بالخصوص شہدائے بلتستان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی گئی۔










آپ کا تبصرہ