جمعرات 17 ستمبر 2026 - 18:47
راولپنڈی و اسلام آباد میں درسِ نہج البلاغہ کی علمی و فکری نشستوں کا انعقاد

حوزہ / مرکز افکار اسلامی کے زیرِ اہتمام ماہِ ستمبر 2026ء کے دوران راولپنڈی اور اسلام آباد کے مختلف مقامات پر ’’درسِ نہج البلاغہ‘‘ کے عنوان سے علمی و فکری نشستوں کا انعقاد کیا گیا، جن میں نہج البلاغہ کے معارف و تعلیمات اور امیرالمؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے فکری و اخلاقی پیغام کو اجاگر کیا گیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ’’درسِ نہج البلاغہ کی ان نشستوں کا مقصد مولائے کائنات امیرالمؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے عظیم علمی کلام نہج البلاغہ کو عام افراد تک پہنچانا، اس کی تعلیمات کو اجاگر کرنا اور معاشرے میں آپ علیہ السلام کے علمی، فکری اور اخلاقی پیغام کو عام کرنا ہے۔

اسی سلسلے میں مسجد فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، راولپنڈی میں بھی درسِ نہج البلاغہ کی نشست منعقد ہوئی، جس میں حجۃ الاسلام والمسلمین لیاقت علی اعوان نے خطاب کیا۔

راولپنڈی و اسلام آباد میں درسِ نہج البلاغہ کی علمی و فکری نشستوں کا انعقاد

مولانا لیاقت علی اعوان نے نہج البلاغہ کی روشنی میں قرآن کریم کے فضائل، امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی زبانی سیرتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اسلامی تعلیمات کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی۔

انہوں نے نہج البلاغہ کے مختلف اقتباسات کی روشنی میں قرآن کریم کی عظمت اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کے اہم پہلو بیان کرتے ہوئے حاضرین کو کلامِ امیرالمؤمنین علیہ السلام سے استفادہ کرنے کی دعوت دی۔

راولپنڈی و اسلام آباد میں درسِ نہج البلاغہ کی علمی و فکری نشستوں کا انعقاد

مرکز افکار اسلامی کے مطابق، درسِ نہج البلاغہ کا یہ علمی و فکری سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا تاکہ امیرالمؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے حکمت و معرفت سے بھرپور کلام کے معارف و تعلیمات کو زیادہ سے زیادہ افراد تک پہنچایا جا سکے۔

درس نہج البلاغہ کے سلسلہ میں حجۃ الاسلام والمسلمین فرحت حسین نے مسجد محمدی، بارہ کہو، محلہ مہدی آباد میں منعقدہ نشست سے خطاب کیا۔

انہوں نے نہج البلاغہ کے خطبہ نمبر 218 کی تشریح و توضیح بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ خطبہ سورۃ التکاثر کی ابتدائی آیات کی تفسیر و توضیح کے حوالے سے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔

راولپنڈی و اسلام آباد میں درسِ نہج البلاغہ کی علمی و فکری نشستوں کا انعقاد

مولانا فرحت حسین نے کہا: مولاے کائنات حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام صرف مبلغ نہیں بلکہ عظیم مفسر بھی تھے اور آپ علیہ السلام کی علمی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو قرآن کریم کی گہری تشریح اور اس کے معانی و حقائق کو واضح کرنا ہے۔

انہوں نے نہج البلاغہ کے خطبہ 218 کی روشنی میں انسان کو دنیا کی حقیقت، موت کی یاد اور آخرت کی تیاری کی طرف متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ قبرستان انسان کے لیے فخر کا مقام نہیں بلکہ عبرت اور نصیحت کا مقام ہے۔

مولانا فرحت حسین نے انسان کی زندگی کے مختلف مراحل، بیماری، کمزوری اور موت کے قریب آنے کے وقت پیش آنے والی کیفیات کا ذکر کرتے ہوئے نہج البلاغہ کے کلام کی روشنی میں واضح کیا کہ دنیاوی طاقتیں اور سہولتیں ایک مرحلے کے بعد انسان کا ساتھ چھوڑ دیتی ہیں اور بالآخر انسان کو اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے۔

راولپنڈی و اسلام آباد میں درسِ نہج البلاغہ کی علمی و فکری نشستوں کا انعقاد

راولپنڈی و اسلام آباد میں درسِ نہج البلاغہ کی علمی و فکری نشستوں کا انعقاد

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha