جمعرات 20 اگست 2026 - 12:33
امام حسن عسکری علیہ السلام نے شیعوں کی دینی رہنمائی کے لیے وکلا کا منظم نظام قائم کیا: مولانا رضا عباس خان

حوزہ/ حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا رضا عباس خان نے 8 ربیع الاول، یومِ شہادت امام حسن عسکری علیہ السلام کے موقع پر کہا ہے کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے بعد 9 ربیع الاول سے حضرت امام مہدی علیہ السلام کی امامت کا آغاز ہوا؛ یہ دن صرف ایک تاریخی واقعے کی یاد نہیں بلکہ اہل ایمان کے لیے امامِ وقت کی معرفت، اطاعت اور عدل کے قیام کے لیے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے کا موقع ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مدیر حوزۃ المہدی العلمیہ حیدرآباد دکن، حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا رضا عباس خان نے 8 ربیع الاول، یومِ شہادت امام حسن عسکری علیہ السلام کے موقع پر کہا ہے کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے بعد 9 ربیع الاول سے حضرت امام مہدی علیہ السلام کی امامت کا آغاز ہوا؛ یہ دن صرف ایک تاریخی واقعے کی یاد نہیں بلکہ اہل ایمان کے لیے امامِ وقت کی معرفت، اطاعت اور عدل کے قیام کے لیے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے کا موقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کی پوری زندگی شدید سیاسی دباؤ، نگرانی اور دشمنی کے ماحول میں گزری، لیکن آپؑ نے ان حالات کو اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ اس سے آج کے مسلمانوں کو یہ پیغام ملتا ہے کہ مشکل حالات، پابندیاں اور سازشیں اہل حق کو اپنے دینی فرائض سے غافل نہیں کرسکتیں؛ بلکہ مومن کو حالات کی سختی میں بھی بصیرت، صبر اور استقامت کے ساتھ اپنے مشن پر قائم رہنا چاہیے۔

مولانا رضا عباس خان نے کہا کہ امام حسن عسکری علیہ السلام نے شیعہ معاشرے کی دینی رہنمائی کے لیے وکلا کا منظم نظام قائم کیا۔ لہذا دینی معاشرے کی مضبوطی کے لیے منظم رابطہ، ذمہ دار قیادت اور باصلاحیت افراد کی تربیت ضروری ہے۔ آج بھی اگر مسلمان اپنی دینی شناخت اور اجتماعی قوت کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں علم، نظم، باہمی تعاون اور ذمہ داری کے جذبے کو فروغ دینا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حجت الہی کی معرفت محض نام اور نسبت جاننے کا نام نہیں، بلکہ انسان کو اپنی زندگی امام کی تعلیمات اور الٰہی اقدار کے مطابق ڈھالنا چاہیے۔ امام کی معرفت انسان کے کردار، سوچ اور عمل میں تبدیلی پیدا کرے، تب ہی یہ معرفت حقیقی معنوں میں مفید ہے۔ امام حسن عسکری علیہ السلام نے حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حفاظت اور لوگوں کی ہدایت و معرفت کے سلسلے میں غیر معمولی احتیاط اختیار فرمائی۔

مدیر حوزۃ المہدی العلمیہ نے کہا کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے بعد امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کا آغاز ہوا اور شیعہ ایک نئے دور میں داخل ہوئے۔ غیبت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنی ذمہ داریوں سے دستبردار ہوجائے؛ بلکہ یہ دور مومن سے زیادہ شعور، تقویٰ اور ثابت قدمی کا تقاضا کرتا ہے۔ جو شخص امام کو دیکھے بغیر بھی ان کی اطاعت اور الٰہی احکام پر ثابت قدم رہتا ہے، اس کا ایمان اور اس کی عبادت خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امام زمانہ علیہ السلام کے انتظار کو صرف ظہور کی دعا تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔ حقیقی منتظر وہ ہے جو اپنے اندر ایسی صلاحیتیں پیدا کرے جو امام کے عالمی مشن سے ہم آہنگ ہوں۔ علم حاصل کرنا، کردار سنوارنا، ظلم سے نفرت کرنا، مظلوم کی حمایت کرنا، معاشرے میں انصاف قائم کرنے کی کوشش کرنا اور برائی کے مقابلے میں خاموش نہ رہنا، انتظار کے عملی تقاضوں میں شامل ہیں۔

مولانا رضا عباس خان نے کہا کہ آج دنیا میں ظلم و ناانصافی، طاقت کے ناجائز استعمال اور مظلوم اقوام کے حقوق کی پامالی کے واقعات ہمارے سامنے ہیں۔ ایسے حالات میں امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی تعلیمات ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ عدل کا انتظار کرنے والا خود بھی اپنے گھر، معاشرے اور اپنے دائرۂ اختیار میں انصاف کا علمبردار بنے۔ اگر ہم ظلم کے خاتمے اور امام کی عالمی حکومت کے خواہش مند ہیں تو ہمیں اپنی زندگی میں بھی عدل، امانت، صداقت اور اخلاق کو اختیار کرنا ہوگا۔

انہوں نے نئی نسل کی تربیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں سب سے اہم ذمہ داری یہ ہے کہ بچوں اور نوجوانوں کو امام زمانہ علیہ السلام کے حقیقی تصورِ انتظار سے روشناس کرایا جائے۔ انہیں صرف ظہور کے واقعات سنانا کافی نہیں، بلکہ یہ سمجھانا ضروری ہے کہ امامؑ کے منتظر کی پہچان علم، تقویٰ، اخلاق، خدمت، ذمہ داری اور حق و باطل میں واضح تمیز ہے۔ ایسی نسل ہی مستقبل میں مہدی موعود کے قیام میں مؤثر کردار ادا کرسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کا غم اور امام زمانہ علیہ السلام کی امامت کی خوشی دراصل ایک ہی پیغام سے جڑی ہوئی ہے: اہل ایمان کو ناامیدی کے بجائے امید، بے عملی کے بجائے جدوجہد اور انتشار کے بجائے وحدت اختیار کرنی چاہیے۔ 8 اور 9 ربیع الاول ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ تاریخ کا یہ مرحلہ ہمارے لیے صرف سوگ یا جشن کا موقع نہیں بلکہ اپنے ایمان اور کردار کا جائزہ لینے کا دن بھی ہے۔

مولانا رضا عباس خان نے آخر میں کہا کہ ہمیں دعا کے ساتھ عمل کو بھی اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا اور ’’اللّٰهم عجل لولیک الفرج‘‘ کے ساتھ یہ عہد بھی کرنا ہوگا کہ ہم اپنے کردار، معاشرے اور نسلوں کو امام زمانہ علیہ السلام کے عالمی مشن کے لیے تیار کریں گے۔ حقیقی انتظار یہی ہے کہ انسان اپنے آپ کو اصلاح، عدل، تقویٰ اور خدمت کے راستے پر گامزن کرے اور ظہورِ منجیِ بشریت کے لیے عملی طور پر آمادہ رہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha