جمعہ 25 ستمبر 2026 - 23:32
ایمان کے ساتھ عمل اور اچھے اخلاق کو زندگی کا حصہ بنائیں: مولانا محمد حسن دانش قمی

حوزہ/ ناگپور، مہاراشٹرا میں خطبۂ جمعہ کے دوران مولانا محمد حسن دانش قمی نے ایمان اور عمل کے باہمی تعلق پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایمان صرف زبان سے اقرار کا نام نہیں، بلکہ دل کے یقین اور عملی زندگی میں اس کے تقاضوں پر عمل کرنے کا نام ہے۔ انسان جب ایمان کے تقاضوں کو اپنی زندگی میں نافذ کرتا ہے تو اس کا ایمان کمال کی طرف بڑھتا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مولانا محمد حسن دانش قمی نے کہا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایمان اور عمل کے باہمی تعلق کو واضح کیا ہے۔ قرآن مجید میں بھی اہل ایمان کو تقویٰ اختیار کرنے اور اپنے ایمان کے تقاضوں کو پورا کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ایمان کے ساتھ عمل انسان کو صحیح اور غلط میں فرق کرنے کی صلاحیت عطا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایمان میں زبان سے اقرار کے ساتھ دل کا یقین اور عملی زندگی میں اس کے اثرات بھی ضروری ہیں۔ اللہ کی وحدانیت، اس کی ربوبیت، انبیاء کی نبوت، اولیائے الٰہی کی ولایت، قیامت اور عدل پر ایمان کا تقاضا ہے کہ انسان ان عقائد کو اپنی زندگی میں بھی ظاہر کرے۔

قرآن کی تعلیمات: عقائد، احکام اور اخلاق

مولانا نے کہا کہ قرآن مجید کی تعلیمات کو عقائد، احکام اور اخلاق کے تین اہم حصوں میں سمجھا جا سکتا ہے۔ صرف عقیدے کا دعویٰ کافی نہیں، بلکہ انسان کو اللہ کے احکام پر عمل کرنے کے ساتھ اپنے اخلاق کو بھی بہتر بنانا چاہیے۔ اگر کوئی شخص احکام پر عمل کرے لیکن اس کے اخلاق اچھے نہ ہوں تو اس کی شخصیت میں ابھی کمال پیدا نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ بعثت سے پہلے بھی اہل مکہ آپ کو صادق اور امین کے نام سے جانتے تھے۔ آپ کی سچائی اور امانت داری اعلیٰ اخلاق کی روشن مثال تھی۔

مومن کی پہچان اچھا کردار اور عمل ہے

مولانا دانش قمی نے امام جعفر صادق علیہ السلام کی تعلیمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مومن لوگوں کا مددگار، کم خرچ، دین کے معاملے میں مضبوط اور یقین میں پختہ ہوتا ہے۔ اسے واجبات کی ادائیگی کے ساتھ مستحبات اور عبادت میں بھی پابندی اختیار کرنی چاہیے۔

انہوں نے حضرت علی علیہ السلام کے اقوال کی روشنی میں کہا کہ انسان کی فضیلت مال کی کثرت میں نہیں بلکہ اچھے اور پاکیزہ اعمال میں ہے۔ انسان کو ہمیشہ اپنے آپ کو ناقص سمجھتے ہوئے اصلاح کی کوشش کرتے رہنا چاہیے۔ حکمت، عفت، قوت اور عدالت انسان کے کردار کو سنوارنے والی اہم صفات ہیں۔

غیبت سے بچیں اور نیکیوں کی حفاظت کریں

مولانا نے غیبت سے بچنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ انسان کو اپنی زبان کی حفاظت کرنی چاہیے، کیونکہ غیبت انسان کی نیکیوں کو ضائع کر سکتی ہے۔ مومن بردبار ہوتا ہے، ظلم نہیں کرتا اور دوسروں کی زیادتی پر بھی صبر و معافی کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ اس کا کاروبار پاکیزہ، اخلاق اچھے اور باطن صاف ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صرف زیادہ یا اچھی باتیں کرنا کمال نہیں، بلکہ اصل کمال یہ ہے کہ انسان ایسی بات کرے جس سے اللہ تعالیٰ راضی ہو۔ ہر مومن کو اپنے ایمان کے تقاضوں کو سمجھ کر انہیں عملی زندگی میں نافذ کرنا چاہیے۔ ایمان، عبادت، احکام اور اچھے اخلاق ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں۔ آخر میں انہوں نے مؤمنین اور امام زمانہ حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے جلد ظہور کے لیے دعا کی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha