ہفتہ 26 ستمبر 2026 - 17:04
ایمان دل کے یقین، زبان کے اقرار اور عمل کی سچائی کا نام ہے: حجۃ الاسلام مولانا عمران احمد

حوزہ/ امام جمعہ کوشل گاؤں، اعظم گڑھ نے خطبۂ جمعہ میں ایمان کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ حقیقی ایمان صرف زبان سے اقرار کا نام نہیں، بلکہ دل کے یقین، زبان کے اظہار اور اعضا و جوارح سے نیک عمل کا نام ہے۔ انہوں نے کہا کہ توکل، تفویض، رضا اور تسلیم ایمان کے اہم ارکان ہیں، جو انسان کو مشکلات میں بھی اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور ثابت قدمی عطا کرتے ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجۃ الاسلام مولانا عمران احمد نے خطبۂ جمعہ میں قرآن کریم کی آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالْكِتَابِ...» کی تلاوت کرتے ہوئے کہا کہ ایمان صرف ایک نام یا زبان سے کیا جانے والا دعویٰ نہیں، بلکہ انسان کے دل، کردار اور پوری زندگی سے تعلق رکھتا ہے۔ جس دل میں اللہ تعالیٰ کی معرفت اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و اہل بیت علیہم السلام کی محبت ہو، اس کے اثرات انسان کے کردار اور اعمال میں بھی نمایاں ہونے چاہئیں۔

انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث «الایمان عقد بالقلب و نطق باللسان و عمل بالاركان» بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایمان دل کے یقین، زبان سے اقرار اور اعضا سے عمل کا نام ہے۔ حقیقی ایمان انسان کے گھر، کاروبار، رشتوں اور معاشرتی رویے کو بھی بہتر بناتا ہے۔ اگر کوئی شخص زبان سے ایمان کا دعویٰ کرے لیکن اس کے کردار میں جھوٹ، دھوکا، ظلم، بد اخلاقی اور حرام کام موجود ہوں تو اسے اپنے ایمان کا جائزہ لینا چاہیے۔

مولانا عمران احمد نے کہا کہ تمام مومنین کے ایمان کا درجہ یکساں نہیں ہوتا۔ بعض افراد کا ایمان کمزور جبکہ بعض کا اتنا مضبوط ہوتا ہے کہ وہ سخت ترین حالات میں بھی اللہ تعالیٰ پر بھروسہ برقرار رکھتے ہیں۔ توکل کا مطلب اپنی پوری کوشش کے بعد اللہ پر اعتماد کرنا، تفویض اپنے معاملات اللہ کے سپرد کرنا، رضا اللہ کے فیصلے پر دل سے راضی رہنا اور تسلیم اس کے حکم کے سامنے سر جھکا دینا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایمان کی اصل آزمائش آرام کے دنوں میں نہیں بلکہ مشکلات کے وقت ہوتی ہے۔ بیماری، مالی پریشانی، گھریلو مسائل اور دیگر آزمائشوں میں انسان کے ایمان اور اللہ پر اس کے اعتماد کا اندازہ ہوتا ہے۔ سچا مومن مصیبت میں صبر کرتا، اللہ سے امید رکھتا اور اس کی حکمت پر یقین برقرار رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں دنیا کی دولت، شہرت اور عہدے کو ایمان کی علامت نہیں سمجھنا چاہیے۔ حقیقی کامیابی یہ ہے کہ دل میں اللہ کا یقین، زبان پر سچائی اور اعمال میں نیکی ہو۔ ہمیں یہ بھی جائزہ لینا چاہیے کہ ہماری نماز ہمارے اخلاق کو کتنا بہتر بنا رہی ہے اور روزہ ہمیں گناہوں سے کس حد تک روک رہا ہے۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ ایمان کو صرف زبان کا دعویٰ نہیں رہنے دیں گے، بلکہ توکل، رضا، تسلیم اور صبر کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں گے، زبان کو جھوٹ اور غیبت سے اور اپنے اعضا کو حرام کاموں سے محفوظ رکھیں گے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسا مضبوط ایمان عطا فرمائے جو آزمائش میں ڈگمگائے نہیں اور ہر حال میں حق و انصاف کا ساتھ دینے کی توفیق دے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha