حوزہ نیوز ایجنسی کے مطابق، تہران میں حسینیہ آیت اللہ شیخ مرتضیٰ زاہد میں درس اخلاق سے خطاب کرتے ہوئے آیت اللہ جاودان نے کہا کہ آخرت کی مشکلات انسان کے اپنے اعمال، عقائد اور صفات کا نتیجہ ہوں گی۔ کوئی شخص اپنے برے اعمال کی ذمہ داری دوسروں پر نہیں ڈال سکے گا۔
انہوں نے کہا کہ بعض لوگ دنیا میں دولت اور طاقت کے ذریعے دوسروں کو گمراہی کی طرف لے جاتے ہیں۔ قیامت میں ایسے لوگوں اور ان کے پیروکاروں کے درمیان بحث ہوگی اور ہر ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کرے گا، لیکن آخرکار سب کو اپنے اعمال کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
آیت اللہ جاودان نے مزید کہا کہ انسان دنیا میں اپنی طاقت اور دولت پر فخر کرتے ہوئے برے کاموں کو کامیابی سمجھ سکتا ہے، لیکن قیامت میں حقیقت سامنے آنے پر اسے شدید پچھتاوا ہوگا۔ اس وقت اگر وہ زمین بھر کی دولت بھی فدیے میں دینا چاہے تو اسے عذاب سے نجات نہیں مل سکے گی۔
نیکیوں کا کئی گنا اجر
انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نیکیوں کا اجر کئی گنا عطا کرتا ہے، جبکہ برائی کا بدلہ اسی کے مطابق دیا جاتا ہے۔ نیکیوں کی قبولیت میں عمل کے ساتھ نیت اور اخلاص بھی اہمیت رکھتے ہیں۔
آیت اللہ جاودان نے سورۂ انسان کی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ضرورت مندوں، یتیموں اور قیدیوں کو اللہ کی رضا کے لیے کھانا کھلانا، صبر کرنا اور دوسروں کی مدد کرنا آخرت میں کامیابی کا ذریعہ ہے۔ انسان کو واجب مالی حقوق، جیسے خمس اور زکوٰۃ، ادا کرنے کے ساتھ غریبوں اور محتاجوں کی مدد بھی کرنی چاہیے۔
انہوں نے شہادت کو ایثار کی بلند ترین منزل قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہدا اللہ کے نزدیک زندہ ہیں اور اپنے پروردگار کے ہاں رزق پاتے ہیں۔
آخر میں انہوں نے تاکید کی کہ انسان قیامت سے پہلے اپنے عقائد اور اعمال کی اصلاح کرے، ظلم سے بچے، لوگوں کے حقوق ادا کرے اور صبر، سخاوت اور اخلاص کے ساتھ زندگی گزارے، کیونکہ آخرت میں انسان کو اپنے ہی اعمال کا سامنا کرنا ہوگا۔










آپ کا تبصرہ