بدھ 7 اکتوبر 2026 - 13:37
ایک ذمہ دار عالم دین معاشرے میں گہری تبدیلی کا ذریعہ بن سکتا ہے: آیت اللہ مصطفیٰ اشرفی شاہرودی

حوزہ/ آیت اللہ مصطفیٰ اشرفی شاہرودی نے کہا ہے کہ متعہد اور ذمہ دار عالم دین اپنے عملی کردار اور اخلاق کے ذریعے معاشرے میں گہری تبدیلی پیدا کر سکتا ہے۔ انہوں نے خود پسندی اور غرور کو انسان کی روحانی ترقی کی بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسان کو اپنی عبادت، علم اور نیکیوں پر غرور نہیں کرنا چاہیے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ مصطفیٰ اشرفی شاہرودی نے کہا ہے کہ متعہد اور ذمہ دار عالم دین اپنے عملی کردار اور اخلاق کے ذریعے معاشرے میں گہری تبدیلی پیدا کر سکتا ہے۔ انہوں نے خود پسندی اور غرور کو انسان کی روحانی ترقی کی بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسان کو اپنی عبادت، علم اور نیکیوں پر غرور نہیں کرنا چاہیے۔

مشہد کے اس عالم دین نے اپنے درس خارج فقہ میں کہا کہ اگر کوئی ذمہ دار عالم دین کسی شہر، گاؤں یا معاشرے میں موجود ہو اور دوسروں کو نصیحت کرنے سے پہلے خود دینی احکام پر عمل کرے تو اس کا کردار لوگوں کی تربیت اور اصلاح پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ میں فقہاء اور علماء نے اپنے عملی کردار کے ذریعے معاشرے میں اہم تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔

آیت اللہ اشرفی شاہرودی نے خود پسندی کے نقصانات بیان کرتے ہوئے کہا کہ انسان کو معمولی علم یا عبادت کی وجہ سے اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر نہیں سمجھنا چاہیے۔ بعض اوقات انسان زیادہ عبادت اور نیک اعمال کے باعث خود کو اہم سمجھنے لگتا ہے، حالانکہ یہی کیفیت اسے روحانی ترقی سے دور کر سکتی ہے۔

انہوں نے ایک روایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کبھی انسان بہت زیادہ عبادت کی کوشش کرتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ اسے آرام اور نیند دیتا ہے تاکہ وہ اپنے اعمال پر مغرور نہ ہو۔ کیونکہ عبادت پر غرور انسان کو اپنے ہی اعمال کے فتنے میں مبتلا کر سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خود پسندی کا علاج یہ ہے کہ انسان اپنی حقیقت، اپنے آغاز اور انجام پر غور کرے اور یہ سمجھے کہ اس کے پاس موجود علم، شعور اور صلاحیتیں اللہ تعالیٰ کی عطا ہیں۔ جب انسان خدا کی عظمت اور اپنی کمزوری کو سمجھتا ہے تو اس کے اندر غرور کم ہوتا ہے۔

آیت اللہ اشرفی شاہرودی نے کہا کہ حسد اور خود پسندی جیسی کیفیات انسان کے اندر پیدا ہو سکتی ہیں، لیکن روایات میں ان کے علاج کے طریقے بھی بیان ہوئے ہیں۔ انسان کو چاہیے کہ اپنی اصلاح کے لیے مسلسل اپنے نفس کا جائزہ لیتا رہے اور اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرے۔

انہوں نے آخر میں خود پسندی کے شرعی حکم سے متعلق استاد آیت اللہ خوئی کی بحث کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر خود پسندی عمل کے بعد پیدا ہو تو عام طور پر اس سے عمل باطل نہیں ہوتا، جبکہ عمل کے دوران پیدا ہونے والی خود پسندی کے بارے میں علماء کے درمیان مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha