جمعہ 25 ستمبر 2026 - 21:44
عصرِ غیبت میں جامع الشرائط فقہاء کی رہنمائی سے استفادہ ضروری ہے، علامہ حسن سروری

حوزہ/ نائب امام جمعہ مرکزی امامیہ جامع مسجد سکردو حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ حسن سروری نے خطبۂ جمعہ میں شکرِ نعمت، والدین کے احترام و حسنِ سلوک، نمازِ جماعت کی اجتماعی اہمیت اور عصرِ غیبت میں دینی رہنمائی کے لیے جامع الشرائط فقہاء و مراجع کی طرف رجوع کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مومن کو اپنی زندگی، صلاحیتوں اور وسائل کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق استعمال کرنا اور اپنے دین و نفس کی حفاظت کو اولین ترجیح دینا چاہیے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سکردو/ نائب امام جمعہ مرکزی امامیہ جامع مسجد سکردو حجۃ الاسلام والمسلمین عشیخ حسن سروری نے خطبۂ جمعہ میں شکرِ نعمت، والدین کے احترام و حسنِ سلوک، نمازِ جماعت کی اجتماعی اہمیت اور عصرِ غیبت میں دینی رہنمائی کے لیے جامع الشرائط فقہاء و مراجع کی طرف رجوع کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مومن کو اپنی زندگی، صلاحیتوں اور وسائل کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق استعمال کرنا اور اپنے دین و نفس کی حفاظت کو اولین ترجیح دینا چاہیے۔

علامہ حسن سروری نے خطبۂ اول میں تقوائے الٰہی کی تاکید کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر ادا کرنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ انسان کی زندگی، صحت، عقل، بینائی، سماعت، جسمانی صلاحیتیں اور ایمان و ولایت سمیت بے شمار نعمتیں اللہ تعالیٰ کی عطا ہیں، جن کا شکر ادا کرنا ہر مومن کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے قرآن کریم کی آیت «أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ» کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کے شکر کے ساتھ والدین کے شکر اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کی بھی تاکید فرمائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حقیقی شکر محض زبان سے ’’الحمدللہ‘‘ کہنے کا نام نہیں بلکہ نعمت کو پہچاننا، نعمت دینے والے اللہ کو یاد رکھنا اور اس نعمت کو اس کی رضا کے مطابق استعمال کرنا ہے۔

علامہ حسن سروری نے واضح کیا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے انسان کو صحت عطا کی ہے تو اسے نیکی کے کاموں میں استعمال کرنا چاہیے، عقل دی ہے تو حق کی معرفت کے لیے بروئے کار لانا چاہیے، مال عطا کیا ہے تو ضرورت مندوں کی مدد کرنی چاہیے اور ایمان و ولایت کی نعمت ملی ہے تو اس کی حفاظت اور اس کے تقاضوں پر عمل کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مومن کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے وابستہ رہنا چاہیے؛ نعمت ملے تو شکر کرے، آزمائش آئے تو صبر و استقامت اختیار کرے اور کسی نعمت سے محرومی کی صورت میں بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت پر اعتماد رکھے۔ انہوں نے اولاد کی نعمت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اولاد کا عطا ہونا بھی اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے؛ کسی کو بیٹے، کسی کو بیٹیاں، کسی کو دونوں عطا ہوتے ہیں جبکہ بعض افراد کو اولاد سے محروم رکھا جاتا ہے، لہٰذا مومن کو ہر حال میں خداوندِ عالم کی حکمت پر اعتماد رکھنا چاہیے۔

نائب امام جمعہ سکردو نے امام حسن عسکری علیہ السلام کی حدیث «الْمُؤْمِنُ بَرَكَةٌ عَلَى الْمُؤْمِنِ، وَحُجَّةٌ عَلَى الْكَافِرِ» کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک مومن کو دوسرے مومن کے لیے خیر، تعاون، نصیحت اور برکت کا ذریعہ بننا چاہیے۔ اس کا اخلاق و کردار ایسا ہو کہ وہ اسلام کی حقانیت کی عملی دلیل بن جائے۔

انہوں نے نمازِ جماعت کی اجتماعی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ جماعت صرف چند افراد کا ایک جگہ نماز ادا کرنا نہیں بلکہ مسلمانوں کے اتحاد، نظم، اخوت اور اجتماعی وابستگی کا عملی اظہار ہے۔ جب اہلِ ایمان ایک صف میں کھڑے ہوتے ہیں تو معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان مساوات اور وحدت کا مظاہرہ ہوتا ہے۔

علامہ حسن سروری نے والدین کے احترام پر زور دیتے ہوئے قرآن کریم کی آیت «فَلَا تَقُلْ لَّهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا» کا حوالہ دیا اور کہا کہ والدین کے ساتھ معمولی سی ناگواری کا اظہار بھی اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔ مومن کو چاہیے کہ وہ والدین کے ساتھ نرمی، ادب اور محبت سے پیش آئے، ان کی جائز ضروریات پوری کرے اور ان کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرے۔

انہوں نے واضح کیا کہ والدین کی اطاعت بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں نہیں کی جا سکتی، تاہم کسی ایسے معاملے میں اختلاف کی صورت میں بھی ان کے ساتھ حسنِ سلوک، احترام اور ادب کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔

خطبۂ دوم میں امام حسن عسکری علیہ السلام کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے امام زمانہ حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف اور علمائے کرام کی خدمت میں تبریک پیش کرتے ہوئے علامہ حسن سروری نے عصرِ غیبت میں دینی رہنمائی کے حوالے سے امام حسن عسکری علیہ السلام کی روایت بیان کی۔

انہوں نے فرمایا کہ امام حسن عسکری علیہ السلام نے ایسے فقیہ کی پیروی کی اجازت دی ہے جو اپنے نفس کی حفاظت کرنے والا، اپنے دین کی حفاظت کرنے والا، اپنی خواہشات کی مخالفت کرنے والا اور اپنے مولا کے احکام کی اطاعت کرنے والا ہو۔

علامہ حسن سروری نے کہا کہ اس روایت میں صرف فقیہ کی پیروی کا حکم نہیں بلکہ ایک دینی رہنما کی بنیادی خصوصیات بھی بیان کی گئی ہیں۔ عصرِ غیبت میں مومنین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شرعی مسائل اور دینی احکام کو سمجھنے کے لیے اہلِ علم، جامع الشرائط فقہاء اور مراجعِ تقلید کی طرف رجوع کریں اور دین کو صحیح طریقے سے سیکھ کر اس پر عمل کریں۔

انہوں نے والدین سے کہا کہ وہ اپنی اولاد کی دینی تربیت پر خصوصی توجہ دیں اور بچوں کو قرآن کریم، احادیث اور تعلیماتِ اہل بیت علیہم السلام سے آشنا کریں۔ انہوں نے نوجوان نسل کو درپیش جدید چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ موبائل فون، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا بذاتِ خود مسئلہ نہیں، اصل مسئلہ ان کا غلط اور بے مقصد استعمال ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر موبائل اور جدید ذرائع کو علم، قرآن، دینی تعلیم اور مفید معلومات کے حصول کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ ایک مفید وسیلہ بن سکتے ہیں، لیکن اگر انسان انہیں اپنی نفسانی خواہشات کے تابع کر دے تو یہی ذرائع نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے وقت کا ایک حصہ قرآن، دینی مطالعے اور معرفتِ اہل بیت علیہم السلام کے حصول کے لیے ضرور مختص کریں۔

علامہ حسن سروری نے کہا کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کی ہدایت کی روشنی میں مومن کو اپنے نفس اور دین کی حفاظت، نفسانی خواہشات کی مخالفت اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کو اپنی زندگی کا بنیادی اصول بنانا چاہیے۔

خطبے کے آخری حصے میں انہوں نے گلگت بلتستان خصوصاً سکردو کے عوامی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے عوام کے بنیادی مسائل کے حل پر توجہ دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے گلگت بلتستان کے آئینی حقوق اور ٹیکس کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے بنیادی حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی سازی کی ضرورت ہے۔

انہوں نے بلدیاتی انتخابات کے بروقت انعقاد پر بھی زور دیا اور کہا کہ عوام کو اپنے مقامی نمائندے منتخب کرنے کے جمہوری حق سے محروم نہیں رکھا جانا چاہیے۔ سکردو میں بجلی کے بحران کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کا مستقل اور عملی حل تلاش کیا جائے، جبکہ اعلان کردہ سولر منصوبے پر بھی جلد عملی پیش رفت ہونی چاہیے۔

انہوں نے سکردو کی سیاحتی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں بنیادی سہولیات کی بہتری نہ صرف مقامی آبادی کے لیے ضروری ہے بلکہ سیاحت اور بین الاقوامی سطح پر گلگت بلتستان کے مثبت تعارف کے لیے بھی اہم ہے۔ بجلی، سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولیات کے مسائل کو حل کرنے سے اس خطے کی علمی، ثقافتی، مذہبی اور سیاحتی صلاحیتوں کو مزید اجاگر کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

خطاب کے دوران علامہ حسن سروری نے کوہاٹ میں پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعے کی بھی مذمت کرتے ہوئے شہداء کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبر کی دعا کی۔

انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی اقوام متحدہ میں فلسطین اور عالمِ اسلام سے متعلق گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے فلسطینی عوام کے حقوق اور ان کے دفاع کے لیے اٹھنے والی آوازوں کی حمایت کا اظہار کیا۔

خطاب کے اختتام پر انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران اور تمام مسلم ممالک کی سربلندی و کامیابی، فلسطین کے مظلوم عوام کی نصرت، پاکستان میں امن و استحکام، گلگت بلتستان کے عوام کی مشکلات کے خاتمے اور تمام شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha