حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،کانودر، گجرات/ مسجد امام علیؑ کانودر، گجرات میں نمازِ جمعہ کے خطبے سے خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید یاسین حسین عابدی نے کہا کہ گالی دینا معاشرے میں عام ہوتا جا رہا ہے، حالاں کہ یہ ایک سنگین اخلاقی برائی ہے، جو نہ صرف انسان کی شخصیت کو مجروح کرتی ہے بلکہ خاندانی رشتوں میں نفرت پیدا کرنے، بچوں کی تربیت خراب کرنے اور معاشرتی تعلقات کو تباہ کرنے کا سبب بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام انسان کو اختلاف اور مخالفت کے باوجود شائستگی، احترام اور اخلاق کا دامن تھامے رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔
مولانا سید یاسین حسین عابدی نے تقوائے الٰہی کی نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں بعض ایسے گناہ رائج ہو چکے ہیں جنہیں لوگ گناہ ہی نہیں سمجھتے۔ گالی دینا بھی انہی برائیوں میں سے ایک ہے۔ دوستوں، میاں بیوی، والدین اور اولاد حتیٰ کہ کاروباری معاملات میں بھی لوگ معمولی باتوں پر ایک دوسرے کو گالیاں دے دیتے ہیں۔ بعض افراد کی گفتگو تو گالی کے بغیر شروع ہی نہیں ہوتی، جب کہ وہ زنا اور شراب نوشی جیسے گناہوں کو تو برا سمجھتے ہیں، لیکن اپنی زبان سے دوسروں کی توہین کرنے کو کوئی برائی نہیں سمجھتے۔
انہوں نے قرآن مجید کی آیت «إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ» (سورۂ فجر، آیت 14) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ انسان کے ہر عمل پر نگاہ رکھتا ہے۔ اسی طرح سورۂ ق میں ارشاد ہوتا ہے: «إِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيَانِ عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيدٌ مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ»
یعنی جب دو فرشتے انسان کے اعمال درج کرنے کے لیے مقرر ہیں، ایک دائیں اور دوسرا بائیں جانب بیٹھا ہے، تو انسان زبان سے کوئی لفظ بھی ادا نہیں کرتا مگر اس کے پاس ایک نگہبان فرشتہ اسے لکھنے کے لیے موجود ہوتا ہے۔ (سورۂ ق، آیات 17-18)
انہوں نے کہا کہ انسان کو اپنی زبان سے نکلنے والے ہر لفظ کے بارے میں جواب دہ ہونا ہے۔ کسی کی توہین کرنا، اس کا مذاق اڑانا، اسے حقیر سمجھنا یا ایسی بات کہنا جس سے وہ دوسروں کے سامنے شرمندہ ہو جائے، سب اخلاقی اور شرعی اعتبار سے قابلِ مذمت ہیں۔ ہر مؤمن کی عزت و حرمت ہے اور روایات میں مؤمن کی حرمت کو کعبہ کی حرمت سے بھی زیادہ عظیم قرار دیا گیا ہے۔ لہٰذا کسی کی عزت کو مجروح کرنا کسی صورت درست نہیں۔
مولانا عابدی نے اعمال کے تسلسل اور انسان کی ذمہ داری کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بعض روایات کے مطابق انسان جب نیکی کرتا ہے تو اس کے نامۂ اعمال میں اس کا اجر کئی گنا بڑھا کر لکھا جاتا ہے، جب کہ برائی کے اندراج میں بھی اسے مہلت دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنی غلطی پر نادم ہو کر توبہ کر لے۔ اگر وہ توبہ اور اصلاح نہیں کرتا تو اس کا گناہ درج کر دیا جاتا ہے۔ اس لیے انسان کو ہر وقت اپنے اقوال و اعمال کا جائزہ لیتے رہنا چاہیے۔
انہوں نے رسول اکرمؐ کی ایک روایت کی روشنی میں کہا کہ اگر کوئی شخص بیماری یا سفر کی وجہ سے اپنے معمول کے نیک اعمال انجام نہ دے سکے تو اس کے لیے ان اعمال کا اجر لکھا جاتا ہے جو وہ صحت اور معمول کی حالت میں انجام دیا کرتا تھا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص کسی برائی میں مبتلا تھا اور بیماری یا بے ہوشی کی وجہ سے اسے جاری نہ رکھ سکا تو اس کے سابقہ معمول کے مطابق اس کا معاملہ بھی قابلِ مواخذہ ہو سکتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو اپنی زندگی کے ہر لمحے اور ہر عمل کے بارے میں محتاط رہنا چاہیے۔
مذاق اڑانا بھی قرآن کی نظر میں سنگین برائی ہے
انہوں نے سورۂ توبہ کی آیت 79 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید نے ان لوگوں کی مذمت کی ہے جو صدقات دینے والے مؤمنوں کا مذاق اڑاتے تھے۔ غزوۂ تبوک کے موقع پر رسول اکرمؐ نے مسلمانوں سے لشکر کے اخراجات کے لیے مالی تعاون کی اپیل کی تو بعض صحابہ نے اپنی استطاعت کے مطابق زیادہ مال پیش کیا، جب کہ بعض نے اپنی محدود حیثیت کے باوجود محنت مزدوری کرکے حاصل ہونے والی آمدنی میں سے بھی حصہ دیا۔
انہوں نے ابو عقیل انصاری کا واقعہ بیان کیا کہ انہوں نے رات بھر مزدوری کرکے حاصل ہونے والی کھجوروں میں سے ایک حصہ اپنے اہلِ خانہ کے لیے رکھا اور دوسرا حصہ اللہ کی راہ میں رسول اکرمؐ کی خدمت میں پیش کیا۔ منافقین نے زیادہ مال دینے والوں پر بھی اعتراض کیا اور کم مال دینے والوں کا بھی مذاق اڑایا۔ قرآن مجید نے ایسے لوگوں کے رویے کی مذمت کی ہے۔
مولانا عابدی نے کہا کہ کسی شخص کے پاس مال و دولت کم ہو یا زیادہ، اگر وہ اپنی استطاعت کے مطابق نیکی میں حصہ لے رہا ہے تو اس کا مذاق اڑانا انتہائی غلط ہے۔ اسی طرح کسی کی جسمانی ساخت، رنگ، شکل و صورت یا کسی پیدائشی کمی کا مذاق اڑانا بھی درحقیقت اللہ تعالیٰ کی خلقت پر اعتراض کرنے کے مترادف ہے۔ انسان کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اللہ کے کسی بندے کو اس کی ظاہری شکل و صورت کی بنیاد پر حقیر سمجھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قرآن مجید نے مذاق اڑانے والوں کے لیے سخت عذاب کی وعید سنائی ہے۔ قیامت کے دن اہلِ جنت ان لوگوں کے انجام کو دیکھ کر ان پر ہنسیں گے جو دنیا میں مؤمنوں اور نیک لوگوں کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔
گالی کا آغاز کرنے والا زیادہ ظالم ہے
مولانا سید یاسین حسین عابدی نے کہا کہ بعض اوقات دو افراد کے درمیان جھگڑا ہوتا ہے اور ایک شخص پہلے گالی دیتا ہے، جس کے جواب میں دوسرا بھی گالی دیتا ہے۔ اس سلسلے میں امام موسیٰ کاظمؑ سے منقول روایت کے مطابق گالی دینے میں پہل کرنے والا زیادہ ظالم ہے۔ اگر دوسرا شخص جواب میں اسی حد تک گالی دے تو دونوں کا گناہ ابتدا کرنے والے کے ذمے ہوگا، لیکن اگر جواب دینے والا حد سے تجاوز کرے تو اس کی زیادتی کا گناہ بھی اسی کے ذمے ہوگا۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کو جواب میں گالی دینے کی اجازت ہے، بلکہ مؤمن کو چاہیے کہ وہ بدزبانی سے خود کو محفوظ رکھے اور اپنے اخلاق کا مظاہرہ کرے۔
امام علیؑ نے بھی گالی دینے سے منع فرمایا
انہوں نے جنگِ صفین کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ جب امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کے بعض ساتھی مخالف لشکر کے افراد کو گالیاں دے رہے تھے تو آپؑ نے انہیں اس عمل سے منع فرمایا۔ نہج البلاغہ کے خطبہ 206 میں آپؑ کا ارشاد ہے: «إِنِّي أَكْرَهُ لَكُمْ أَنْ تَكُونُوا سَبَّابِينَ، وَلَكِنَّكُمْ لَوْ وَصَفْتُمْ أَعْمَالَهُمْ، وَذَكَرْتُمْ حَالَهُمْ، كَانَ أَصْوَبَ فِي الْقَوْلِ، وَأَبْلَغَ فِي الْعُذْرِ»
یعنی میں تمہارے لیے اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ تم گالی دینے والے بنو، بلکہ اگر تم ان کے اعمال اور حالات بیان کرو تو یہ بات کہنے میں زیادہ درست اور دلیل کے اعتبار سے زیادہ مؤثر ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس فرمان سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ اگر کسی کے اعمال غلط ہیں تو ان کی نشاندہی کی جائے، اس کے غلط نظریات اور کردار پر تنقید کی جائے، لیکن گالی اور بدزبانی کا سہارا نہ لیا جائے۔ گالی اور لعنت دو الگ چیزیں ہیں؛ اسی طرح کسی کی غلطی بیان کرنا اور اس کی توہین کرنا بھی ایک جیسی باتیں نہیں ہیں۔ کسی کو بے وقوف، کمینہ یا کتا کہنا بھی بدزبانی اور اخلاقی برائی ہے، جب کہ کسی پر زنا یا کسی دوسرے سنگین گناہ کی تہمت لگانا اس سے بھی زیادہ سنگین معاملہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ روایات میں فحش گوئی اور بدزبانی کو سخت ناپسند کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ بدزبان اور فحش گوئی کرنے والے شخص کو پسند نہیں کرتا۔ انسان کی زبان ایسی ہونی چاہیے جس سے دوسروں کو تکلیف پہنچنے کے بجائے خیر اور بھلائی کا اظہار ہو۔
بدزبانی سے رزق کی برکت ختم ہو جاتی ہے
مولانا عابدی نے کہا کہ روایات میں بدزبانی اور گالی گلوچ کے برے اثرات میں رزق سے برکت اٹھ جانے اور انسان کے معاملات میں مشکلات پیدا ہونے کا ذکر بھی ملتا ہے۔ انہوں نے ایک روایت بیان کی کہ بنی اسرائیل کے ایک شخص نے مسلسل تین سال تک اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اس کی حاجت پوری ہو، لیکن اس کی دعا قبول نہ ہوئی۔ ایک فرشتہ اس کے پاس آیا اور اسے بتایا کہ تمہاری زبان گندی ہے اور تم دوسروں کو گالیاں دیتے ہو؛ پہلے اپنی زبان کو پاک کرو، اس کے بعد اللہ تعالیٰ سے دعا کرو۔ اس واقعے سے ہمیں اپنی زبان کی اصلاح اور دعا کے آداب کی اہمیت سمجھ میں آتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ انسان کو یہ جائزہ لینا چاہیے کہ کہیں اس کی اپنی بدزبانی اور اخلاقی کمزوری اس کی روحانی زندگی اور دعاؤں کی قبولیت میں رکاوٹ تو نہیں بن رہی۔
گالی سے رشتے ٹوٹتے اور بچوں کی تربیت خراب ہوتی ہے
مولانا سید یاسین حسین عابدی نے گالی کے معاشرتی نقصانات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ محبت کو نفرت میں بدل دیتی ہے۔ دوستوں کے درمیان بدزبانی ہو یا میاں بیوی کے درمیان گالی گلوچ، اس سے باہمی اعتماد اور محبت ختم ہونے لگتی ہے اور رشتوں میں تلخی پیدا ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ والدین کو بالخصوص اپنے بچوں کے سامنے گالی دینے سے پرہیز کرنا چاہیے، کیونکہ بچے والدین کی نصیحتوں سے زیادہ ان کے عملی کردار سے سیکھتے ہیں۔ اگر گھر میں والدین ایک دوسرے کو گالیاں دیں گے تو بچے بھی اسی زبان کو اپنی گفتگو کا حصہ بنا لیں گے اور ممکن ہے کہ کل یہی بچے اپنے والدین کے ساتھ بھی اسی طرح پیش آئیں۔ اس لیے گھر کا ماحول اخلاقی تربیت اور احترام پر مبنی ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گالی گلوچ معاشرے میں دشمنی اور نفرت کو فروغ دیتی ہے، جب کہ انسان کی شخصیت اور اس کے اخلاقی وقار کو بھی کمزور کرتی ہے۔ ہمیں دوستوں کی محفلوں اور روزمرہ کی گفتگو میں بھی فحش اور غیر ضروری باتوں سے اجتناب کرنا چاہیے۔
غصے کے وقت خاموشی اختیار کرنا اور اپنی زبان پر قابو رکھنا ضروری ہے
خطاب کے اختتام پر مولانا عابدی نے کہا کہ گالی اور بدزبانی سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان غصے کی حالت میں فوراً جواب دینے سے پرہیز کرے۔ بولنے سے پہلے سوچے کہ اس کے الفاظ سامنے والے پر کیا اثر ڈالیں گے اور کہیں اس کی بات کسی کی عزتِ نفس کو مجروح تو نہیں کرے گی۔ اگر کسی سے غلطی ہو جائے تو دلیل اور اچھے انداز میں اس کی اصلاح کی جائے، نہ کہ اسے گالیاں دی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر انسان سے کسی کی توہین یا دل آزاری ہو گئی ہے تو اسے چاہیے کہ اس شخص سے معافی مانگے اور اپنے تعلقات کو بہتر بنائے۔ ہمیں اپنی زبان کو ذکرِ الٰہی، اچھی گفتگو اور خیر کے کاموں میں استعمال کرنا چاہیے، کیونکہ ایک پاکیزہ زبان ہی اچھے کردار اور صالح معاشرے کی بنیاد ہے۔










آپ کا تبصرہ