حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی نے اپنے درس اخلاق میں قبر اور عالم برزخ میں پیش آنے والے واقعات کے بارے میں ایک اہم نکتہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ انسان کے دنیاوی اعمال ہی عالم برزخ میں اس کے سامنے ظاہر ہوتے ہیں۔ زبان سے دوسروں کو اذیت دینا، گالی دینا، لوگوں کے درمیان اختلاف پیدا کرنا، طعنہ زنی، جھوٹ بولنا اور دوسروں کی عزت خراب کرنا ایسے اعمال ہیں جن کے نتائج انسان کو آخرت میں بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔
آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی نے اس سلسلے میں ایک بزرگ کا واقعہ نقل کیا جو وادی السلام کے قبرستان کی زیارت سے واپس آ رہے تھے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے قبروں میں کیا دیکھا تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے نئی اور پرانی قبروں کا بغور جائزہ لیا، لیکن کہیں سانپ یا بچھو نظر نہیں آیا۔
اس پر انہوں نے قبروں سے سوال کیا کہ بعض علماء قبر میں سانپ اور بچھو ہونے کا ذکر کرتے ہیں، لیکن یہاں تو ایسا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ کہتے ہیں کہ قبروں کی طرف سے جواب ملا کہ ہمارے اندر یہ چیزیں نہیں ہیں، بلکہ ہر شخص اپنے ساتھ انہیں لے کر آتا ہے۔
آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی نے اس واقعے کے ذریعے واضح کیا کہ بدزبانی، گالی گلوچ، دوسروں کو طعنے دینا، جھوٹ بولنا، لوگوں کے درمیان اختلاف پیدا کرنا اور ان کی عزت کو نقصان پہنچانا ایسے اعمال ہیں جن کی حقیقت عالم برزخ میں ظاہر ہو سکتی ہے۔
انہوں نے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ انسان کو دنیا ہی میں اپنی زبان اور کردار کی اصلاح کرنی چاہیے اور دوسروں کے حقوق، عزت اور آبرو کا خیال رکھنا چاہیے۔
ماخذ: درس اخلاق، 7 اسفند 1393 ہجری شمسی۔










آپ کا تبصرہ