بدھ 7 اکتوبر 2026 - 14:13
اختلاف اور انتشار سے معاشرے کو بچانا ہماری ذمہ داری ہے؛ آیت اللہ جوادی آملی

حوزہ/ آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی نے کہا ہے کہ جس ملک نے بے شمار شہداء اور بزرگ شخصیات کی قربانیاں پیش کی ہیں، اسے اختلاف اور انتشار کا شکار نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہمیں ایسا اندازِ گفتگو اختیار کرنا چاہیے جس سے کسی کی دل آزاری نہ ہو۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ جوادی آملی نے قم کی مسجد اعظم میں اپنے ہفتہ وار درس اخلاق سے خطاب کرتے ہوئے علم اور تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح جاہل کے لیے علم حاصل کرنا ضروری ہے، اسی طرح عالم کی ذمہ داری ہے کہ وہ دوسروں کو علم سکھائے، تاکہ معاشرے سے جہالت ختم ہو اور علم کا نظام قائم رہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر شخص علم کے اعلیٰ درجات تک نہیں پہنچ سکتا، تاہم دین کے بنیادی اصولوں اور ضروری احکام سے آگاہی ہر مسلمان کے لیے لازم ہے۔

خواتین اور مردوں کی انسانی حقیقت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حقیقتِ انسان روح ہے اور روح نہ مرد ہے نہ عورت؛ اس لیے انسانی حقیقت کے اعتبار سے دونوں برابر ہیں۔ قرآن کریم میں بعض احکام خواتین، بعض مردوں اور بعض دونوں کے لیے مشترک ہیں۔ حضرت مریمؑ کو بھی قرآن نے اہل ایمان کے لیے نمونہ قرار دیا ہے۔

آیت اللہ جوادی آملی نے نوجوان نسل سے گفتگو میں نرمی، اخلاق اور علمی انداز اختیار کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ محض دباؤ اور زبردستی سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ مدارس اور جامعات کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کو انسان کی ابدی حقیقت اور اس کی روحانی صلاحیتوں سے آگاہ کریں۔

انہوں نے ’’برگ توت اور اطلس‘‘ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر ریشم کا کیڑا معمولی پتے کو قیمتی ریشم میں تبدیل کرسکتا ہے تو انسان بھی علم، تربیت اور کوشش کے ذریعے فرشتوں جیسی صفات حاصل کرسکتا ہے۔

انہوں نے قرآن کی ہدایت «وَیَدْرَءُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ» کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ برائی کا جواب اچھائی سے دینا چاہیے۔ ایسے ملک میں، جس نے بے شمار شہداء پیش کیے ہیں، ہمیں اختلاف اور دل آزاری سے بچنا چاہیے اور باہمی احترام و اخلاق کے ذریعے معاشرے کو آگے بڑھانا چاہیے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha