جمعہ 9 اکتوبر 2026 - 19:42
یمن اور سعودی عرب کے معاملے میں پاکستان ظالموں کا ساتھ دینے کے بجائے ثالثی کا کردار ادا کرے: حجۃ الاسلام والمسلمین سید ہاشم موسوی

حوزہ/ امام جمعہ کوئٹہ حجۃ الاسلام والمسلمین سید ہاشم موسوی نے خطبۂ جمعہ میں غفلت کے نقصانات، تغافل و چشم پوشی اور اصلاحِ ذات البین کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان یمن اور سعودی عرب کے معاملے میں کسی فریق کی حمایت کے بجائے ثالثی کا کردار ادا کرے اور تنازعات کے حل کے لیے اپنا مثبت کردار بحال کرے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کوئٹہ/ مرکزی نماز جمعہ کویٹہ مسجد و امام بارگاہ کلان میکانگی روڈ کوئٹہ میں نمازِ جمعہ کے خطبوں کے دوران امام جمعہ حجۃ الاسلام والمسلمین سید ہاشم موسوی نے انسانی زندگی میں غفلت کے نقصانات، لوگوں کے ساتھ برتاؤ میں تغافل و چشم پوشی کی اہمیت اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں باہمی اخوت و اصلاحِ ذات البین کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ پل بھر کی غفلت انسان کو محرومیتوں اور مصیبتوں سے دوچار کر سکتی ہے، جبکہ لوگوں کے ساتھ معاملات میں مناسب تغافل اور چشم پوشی انسان کے لیے دنیا و آخرت میں فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔ خطبۂ دوم میں انہوں نے قرآن کریم کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے یمن اور سعودی عرب کے معاملے میں پاکستان پر زور دیا کہ وہ ظالموں کا ساتھ دینے کے بجائے ثالثی کا کردار ادا کرے اور اس مثبت کردار کی طرف دوبارہ لوٹے۔

یمن اور سعودی عرب کے معاملے میں پاکستان ظالموں کا ساتھ دینے کے بجائے ثالثی کا کردار ادا کرے: حجۃ الاسلام والمسلمین سید ہاشم موسوی

خطبۂ اول: غفلت انسان کو محرومیتوں اور مصیبتوں سے دوچار کر دیتی ہے

حجۃ الاسلام والمسلمین سید ہاشم موسوی نے خطبۂ اول میں غفلت کے نقصانات کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ انسان کی زندگی میں پل بھر کی غفلت بھی اسے محرومیتوں اور مصیبتوں سے دوچار کر سکتی ہے۔ اس لیے انسان کو اپنی زندگی، اعمال اور ذمہ داریوں کے حوالے سے بیدار اور ہوشیار رہنا چاہیے، کیونکہ بعض اوقات معمولی سی بے توجہی بھی ایسے نتائج کا سبب بن جاتی ہے جن کا ازالہ آسان نہیں ہوتا۔

یمن اور سعودی عرب کے معاملے میں پاکستان ظالموں کا ساتھ دینے کے بجائے ثالثی کا کردار ادا کرے: حجۃ الاسلام والمسلمین سید ہاشم موسوی

انہوں نے لوگوں کے ساتھ برتاؤ میں تغافل اور چشم پوشی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دوسروں کی بعض لغزشوں اور کوتاہیوں کو نظرانداز کرنا انسان کے لیے دنیا و آخرت میں فائدہ مند ہے۔ انسانی معاشرت میں ہر غلطی پر سخت ردِعمل ظاہر کرنا یا ہر معاملے کو اختلاف اور تنازعے کا سبب بنا لینا مناسب نہیں، بلکہ بعض مواقع پر درگزر، تحمل اور چشم پوشی سے کام لینا بہتر ہوتا ہے۔

انہوں نے اس جانب توجہ دلائی کہ غفلت اور تغافل کے مفہوم میں فرق ہے۔ غفلت انسان کو اپنی ذمہ داریوں اور فرائض سے بے خبر کر سکتی ہے، جبکہ دوسروں کی بعض کوتاہیوں سے دانستہ چشم پوشی کرنا ایک مثبت اخلاقی رویہ ہے۔ اس طرزِ عمل سے باہمی تعلقات کو بہتر بنانے، اختلافات کو کم کرنے اور معاشرے میں رواداری و حسنِ سلوک کو فروغ دینے میں مدد ملتی ہے۔

یمن اور سعودی عرب کے معاملے میں پاکستان ظالموں کا ساتھ دینے کے بجائے ثالثی کا کردار ادا کرے: حجۃ الاسلام والمسلمین سید ہاشم موسوی

خطبۂ دوم: یمن اور سعودی عرب کے معاملے میں پاکستان ظالموں کا ساتھ دینے کے بجائے ثالثی کرے

امام جمعہ کوئٹہ حجۃ الاسلام والمسلمین سید ہاشم موسوی نے خطبۂ دوم میں قرآن کریم کی آیت «إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ» کا حوالہ دیتے ہوئے مسلمانوں کے درمیان اخوت، اتحاد اور باہمی اختلافات کی اصلاح کی اہمیت پر زور دیا۔ اس آیت کا مفہوم ہے کہ بے شک مؤمنین آپس میں بھائی ہیں، لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان صلح و اصلاح کراؤ۔

انہوں نے اس قرآنی تعلیم کی روشنی میں یمن اور سعودی عرب کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ظالموں کا ساتھ دینے کے بجائے ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق، تنازعات کے حل کے لیے ایسے کردار کی ضرورت ہے جو فریقین کے درمیان مصالحت کی راہ ہموار کرے، نہ کہ اختلافات اور کشیدگی میں مزید اضافہ کرے۔

حجۃ الاسلام والمسلمین سید ہاشم موسوی نے زور دیا کہ پاکستان کو دوبارہ ثالثی کے اسی کردار کی طرف آنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی زیادہ دیر نہیں ہوئی اور پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ مصالحت اور تنازعات کے حل میں اپنا مثبت کردار ادا کرے۔ ان کے مطابق، اسلامی تعلیمات بھی باہمی اختلافات کو بڑھانے کے بجائے انہیں دور کرنے، انصاف کو ملحوظ رکھنے اور اصلاح کی کوشش کرنے کی رہنمائی کرتی ہیں۔

انہوں نے قرآن کریم کی تعلیمات کی روشنی میں اس امر کی اہمیت اجاگر کی کہ مسلمانوں اور مختلف فریقوں کے درمیان اختلافات کے حل کے لیے اخوت، انصاف اور اصلاحِ ذات البین کو بنیاد بنایا جانا چاہیے۔ یمن اور سعودی عرب کے معاملے میں پاکستان کی جانب سے ثالثی کا کردار اسی اصول کے مطابق اہمیت رکھتا ہے کہ تنازعات کو مزید پیچیدہ بنانے کے بجائے مصالحت اور حل کی راہ اختیار کی جائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha