پیر 12 اکتوبر 2026 - 16:31
میرزائے شیرازیؒ کا تاریخی فتویٰ؛ برطانوی اجارہ داری کا خاتمہ

حوزہ/تاریخ میں بعض فتوے اپنے فوری شرعی یا معاشرتی دائرے سے آگے بڑھ کر اجتماعی بیداری، سیاسی مزاحمت اور معاشی خودمختاری کی علامت بن جاتے ہیں۔ عالم تشیع کے عظیم الشان مرجع تقلید آیۃ اللہ العظمیٰ میرزا محمد حسن شیرازی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کا تمباکو کی حرمت کا تاریخی فتویٰ انیسویں صدی کے ایران کا ایسا ہی واقعہ ہے، جس نے غیر ملکی تجارتی اجارہ داری کو چیلنج کرنے کے ساتھ دینی قیادت، عوامی اعتماد اور اجتماعی عمل کی قوت بھی نمایاں کی۔

تحریر: مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ نیوز ایجنسی| تاریخ میں بعض فتوے اپنے فوری شرعی یا معاشرتی دائرے سے آگے بڑھ کر اجتماعی بیداری، سیاسی مزاحمت اور معاشی خودمختاری کی علامت بن جاتے ہیں۔ عالم تشیع کے عظیم الشان مرجع تقلید آیۃ اللہ العظمیٰ میرزا محمد حسن شیرازی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کا تمباکو کی حرمت کا تاریخی فتویٰ انیسویں صدی کے ایران کا ایسا ہی واقعہ ہے، جس نے غیر ملکی تجارتی اجارہ داری کو چیلنج کرنے کے ساتھ دینی قیادت، عوامی اعتماد اور اجتماعی عمل کی قوت بھی نمایاں کی۔

1890ء میں قاجار حکومت نے برطانوی تاجر میجر جیرالڈ ٹالبوٹ سے وابستہ کمپنی کو تمباکو کی تجارت میں وسیع حقوق دیے۔ اس رعایت، جسے تاریخ میں ’’امتیازِ تنباکو‘‘ یا ’’ریجی کنسیشن‘‘ کہا جاتا ہے، کے تحت تمباکو کی پیداوار، خرید و فروخت اور برآمدات پر غیر ملکی کمپنی کو غیر معمولی اختیار حاصل ہونا تھا۔ اس معاہدے نے ایرانی کسانوں اور تاجروں کے مفادات کو متاثر کیا اور ملکی معاشی خودمختاری کے بارے میں تشویش پیدا کردی۔ علماء، تاجروں اور عوام کی مخالفت بتدریج ایک وسیع تحریک میں تبدیل ہونے لگی۔

سامرا میں مقیم آیۃ اللہ العظمیٰ میرزا محمد حسن شیرازی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے اس صورتِ حال میں اجارہ داری کی مخالفت کی اور یکم جمادی الاول 1309 ہجری مطابق 3 دسمبر 1891 ء کو مندرجہ ذیل مندرجہ ذیل فتویٰ دیا۔

بسم الله الرحمن الرحیم، الیوم استعمال تنباکو و توتون بأی نحو کان در حکم محاربه با امام زمان علیه السلام است۔ یعنی ’’آج سے تمباکو اور توتون کا کسی بھی صورت میں استعمال امامِ زمانہ علیہ السلام سے جنگ کرنے کے حکم میں ہے۔‘‘

اس فتویٰ نے احتجاج کو ایک واضح اور قابلِ عمل اجتماعی صورت دے دی۔ ایران کے مختلف علاقوں میں لوگوں نے تمباکو کا استعمال ترک کیا اور اس کی خرید و فروخت سے گریز کیا۔ یوں ایک عام تجارتی شے غیر ملکی اجارہ داری کے خلاف مزاحمت کی علامت بن گئی۔ اس تحریک کی اصل قوت محض فتویٰ کے الفاظ میں نہیں، بلکہ مقلدین و مومنین کا اس پر عمل درآمد تھا جو اجتماعی فیصلہ قرار پایا۔

فتویٰ کے تاریخی اثرات اس کے فوری نتیجے سے کہیں زیادہ وسیع تھے۔ آیۃ اللہ العظمیٰ میرزا شیرازی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ ایران سے باہر سامرا عراق میں مقیم تھے، لیکن ان کی آواز نے جغرافیائی فاصلے کو بے معنی کردیا۔ علماء، تاجر اور عام شہری ایک مشترکہ مقصد کے گرد جمع ہوئے۔ اس واقعہ نے واضح کیا کہ عوامی اعتماد رکھنے والی دینی قیادت معاشی اور سیاسی معاملات میں بھی مؤثر کردار ادا کرسکتی ہے۔ اس نے قاجار حکومت کی پالیسیوں کے مقابلے میں عوامی دباؤ کی قوت کو نمایاں کیا اور غیر ملکی مراعات کے خلاف منظم اجتماعی اقدام کی ایک تاریخی مثال قائم کی۔

عوامی احتجاج اور مسلسل بائیکاٹ کے نتیجے میں حکومت پر دباؤ بڑھا اور دسمبر 1891ء میں تمباکو کی اجارہ داری منسوخ کردی گئی۔ اس کامیابی نے غیر ملکی معاشی اثرورسوخ کے خلاف مزاحمت کو نئی معنویت دی۔ تحریکِ تنباکو کو جدید ایران میں سیاسی شعور کے ارتقا اور 1905ء تا 1911ء کے آئینی انقلاب سے پہلے اجتماعی بیداری کے اہم مراحل میں شمار کیا جاتا ہے۔ اگرچہ آئینی انقلاب کے اپنے مخصوص اسباب اور مطالبات تھے، تاہم تحریکِ تنباکو نے علماء، تاجروں اور عوام کے باہمی تعاون کی قوت کو نمایاں کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

اس واقعہ کا ایک گہرا پہلو یہ بھی ہے کہ اس نے مذہبی رہنمائی اور اجتماعی ذمہ داری کے تعلق کو عملی طور پر ظاہر کیا۔ ایک فتویٰ اسی وقت تاریخی قوت اختیار کرتا ہے جب معاشرہ اسے سمجھ کر اجتماعی عمل میں ڈھالتا ہے۔ آیۃ اللہ العظمیٰ میرزا شیرازی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے فتویٰ نے عوام کو یہ احساس دلایا کہ معاشی فیصلے محض تجارت یا منافع کا معاملہ نہیں ہوتے؛ ان کے اثرات قومی خودمختاری، معاشرتی حقوق اور عوامی وقار تک پہنچ سکتے ہیں۔

عصرِ حاضر میں مرجع اعلیٰ دینی آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی دام ظلہ کا داعش کے خلاف دفاعی فتویٰ دینی قیادت اور اجتماعی ذمہ داری کی ایک الگ مگر اہم مثال ہے۔ جون 2014ء میں عراق میں داعش کے حملوں اور تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتِ حال کے دوران جاری فتویٰ نے شہریوں کو ملک کے دفاع کے لئے آمادہ کیا۔ اس فتویٰ کے بعد بڑی تعداد میں رضاکار دفاعی کوششوں میں شامل ہوئے اور داعش کے خلاف مزاحمت کو تقویت ملی۔

تاہم، دونوں فتووں کے تاریخی حالات اور مقاصد میں بنیادی فرق ہے۔ آیۃ اللہ العظمیٰ میرزا شیرازی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کا فتویٰ غیر ملکی تجارتی اجارہ داری کے خلاف بائیکاٹ سے متعلق تھا، جب کہ مرجع اعلیٰ دینی آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی دام ظلہ کا فتویٰ مسلح دہشت گردی کے خطرے کے مقابلے میں عراق اور اس کے شہریوں کے دفاع کے تناظر میں سامنے آیا۔ ایک نے معاشی تسلط کے خلاف عوامی مزاحمت کو قوت دی، جب کہ دوسرے نے دفاعی ذمہ داری اور شہریوں کے تحفظ کو نمایاں کیا۔ ان دونوں واقعات کا تقابل ان کے طریقۂ کار کو یکساں قرار دینے کے لئے نہیں، بلکہ یہ سمجھنے کے لئے مفید ہے کہ مختلف حالات میں دینی قیادت کس طرح اجتماعی ذمہ داری کی طرف توجہ دلا سکتی ہے۔

آج مشرقِ وسطیٰ کو ایران اور امریکہ کے درمیان جنگی کشیدگی، اقتصادی پابندیوں اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت سے وابستہ خطرات جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان کے اثرات صرف متعلقہ ممالک تک محدود نہیں رہتے، بلکہ عالمی توانائی کی رسد، تیل کی قیمتوں، تجارت اور عام شہریوں کی معاشی زندگی پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے اہم ترین بحری راستوں میں شامل ہے؛ اس میں طویل رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی پر انحصار کرنے والے ممالک کے لئے سنگین نتائج پیدا کرسکتی ہے۔ ایسے حالات میں معاشی دباؤ اور جنگی تنازعات کا جائزہ لیتے ہوئے انسانی جانوں کے تحفظ، شہریوں کے مفادات اور پُرامن حل کی ضرورت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

آیۃ اللہ العظمیٰ میرزائے شیرازی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے تاریخی فتویٰ کی معنویت آج بھی اس سوال میں پوشیدہ ہے کہ معاشرے اپنے اجتماعی مفادات کے تحفظ کے لئے کس طرح متحد ہوسکتے ہیں۔ اس واقعہ نے ثابت کیا کہ عوامی اعتماد، واضح مقصد اور منظم اجتماعی عمل کسی طاقت ور معاشی مفاد کو بھی چیلنج کرسکتے ہیں۔ اس کا سبق ماضی کی نقل کرنا نہیں، بلکہ ہر عہد کے حالات کو سمجھتے ہوئے بصیرت، ذمہ داری اور انصاف کے اصولوں پر عمل کرنا ہے۔

آیۃ اللہ العظمیٰ میرزائے شیرازی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے فتویٰ نے ایک تجارتی اجارہ داری کے خلاف بائیکاٹ کو تاریخ ساز عوامی تحریک میں بدل دیا۔ اس کی اصل میراث صرف ایک معاہدے کی منسوخی نہیں، بلکہ یہ شعور ہے کہ اجتماعی حقوق کا تحفظ محض حکمرانوں کے فیصلوں پر منحصر نہیں؛ بیدار معاشرہ بھی تاریخ کی سمت بدل سکتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha