جمعرات 8 اکتوبر 2026 - 14:14
ماضی کا نام نہیں، اپنا کردار پہچان بنائیں

حوزہ/انسان کو اپنے بزرگوں کا احترام ضرور کرنا چاہیے، لیکن اپنی شناخت ان کے سائے میں نہیں، اپنے کردار کی روشنی میں بنانی چاہیے۔

تحریر:مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ نیوز ایجنسی|

انسان کو اپنے بزرگوں کا احترام ضرور کرنا چاہیے، لیکن اپنی شناخت ان کے سائے میں نہیں، اپنے کردار کی روشنی میں بنانی چاہیے۔

ایران کا آخری بادشاہ محمد رضا شاہ پہلوی 27 جولائی 1980ء کو قاہرہ، مصر میں مر گیا۔ 1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد پہلوی بادشاہت کا خاتمہ ہوگیا اور اس سے پہلے شاہی خاندان ملک سے باہر چلا گیا تھا۔ محمد رضا پہلوی کا بڑا بیٹا رضا پہلوی بھی کئی دہائیوں سے امریکہ میں اپنی زندگی کے دن گزار رہا ہے اور ایرانی سیاست کے بارے میں اپنا سیاسی موقف اور سرگرمیاں جاری رکھے ہے۔ اس کے پاس ایران کی کوئی سرکاری حکومت یا ریاستی اقتدار نہیں، لیکن وہ ایران کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے اپنا کردار بیان کرتا رہتا ہے اور خود کو ایران کا بادشاہ تصور کرتا ہے۔

یہ ایرانی مثال دراصل ایک بڑے انسانی مسئلہ کی طرف اشارہ کرتی ہے: جب ماضی کی حیثیت موجودہ شخصیت کی شناخت پر غالب آجائے تو انسان اپنے آج کو اپنے گزرے ہوئے کل کے ذریعہ دیکھنے لگتا ہے۔

یہ کیفیت صرف شاہی خاندانوں تک محدود نہیں۔ ہمارے معاشرے میں بھی پائی جاتی ہے۔ کوئی اپنے دادا، پردادا یا خاندان کی سابقہ حیثیت کو اپنی موجودہ شناخت کا بنیادی سرمایہ سمجھتا ہے۔ کوئی اپنے بزرگوں کی جاگیر گنواتا ہے، کوئی زمینداری، کوئی تعلقہ داری، کوئی سیاسی اثر و رسوخ، اور کوئی خاندان کی علمی یا سماجی شہرت۔

لیکن ایک بنیادی حقیقت نظر انداز نہیں ہونی چاہیے کہ بزرگوں کی عظمت انسان کے لئے اعزاز ہوسکتی ہے، ذاتی کامیابی نہیں۔

ماضی شناخت ہے، موجودہ کردار نہیں

خاندان انسان کو نام، نسبت اور تاریخ دے سکتا ہے، مگر کردار اسے خود بنانا پڑتا ہے۔

کسی عالم کا بیٹا ہونا علم نہیں؛ کسی سیاست دان کا بیٹا ہونا قیادت نہیں؛ کسی زمیندار کا وارث ہونا صلاحیت نہیں؛ اور کسی بادشاہ کا خاندان سے تعلق موجودہ اقتدار کی ضمانت نہیں۔

ماضی کو یاد رکھنا اچھی بات ہے، مگر ماضی کو اپنی موجودہ حیثیت کا واحد جواز بنا لینا انسان کی ترقی روک سکتا ہے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ "میرے بزرگ کون تھے؟"

اصل سوال یہ ہے کہ "میں خود کون ہوں اور میں نے کیا کیا ہے؟"

ہر نسل کو اپنے حصہ کی تاریخ خود لکھنی پڑتی ہے۔

اگر بزرگوں نے علم چھوڑا ہے تو نئی نسل علم میں اضافہ کرے۔

اگر انہوں نے خدمت کی ہے تو نئی نسل خدمت کو آگے بڑھائے۔

اگر انہوں نے معاشرے میں عزت حاصل کی ہے تو نئی نسل اپنے اخلاق اور کردار سے اس عزت کو برقرار رکھے۔

اور اگر ماضی میں دولت، اقتدار یا شہرت تھی تو اسے صرف فخر کا موضوع بنانے کے بجائے موجودہ نسل اپنی صلاحیت سے نئی کامیابی پیدا کرے۔

بزرگوں کا نام وراثت ہوسکتا ہے، مگر اپنی پہچان بنانا ذمہ داری ہے۔

اپنے ماضی کو سرمایہ بنائیں، سہارا نہیں

اس مسئلہ کا حل صرف یہ کہنا نہیں کہ "ماضی پر فخر نہ کرو"۔ ماضی کو بھلانا بھی درست نہیں۔ بہتر راستہ یہ ہے کہ ماضی کو حوصلہ، سبق اور ذمہ داری بنایا جائے۔

ہر شخص اپنے لئے چند سوال مقرر کر سکتا ہے:

1. خاندانی نسبت کے بجائے میری اپنی سب سے بڑی خوبی کیا ہے؟

2. میں نے گزشتہ میں علم، اخلاق یا خدمت میں کیا اضافہ کیا؟

3. اگر میرے خاندان کا نام میرے ساتھ نہ ہو تو میری اپنی شناخت کیا رہ جائے گی؟

4. میں اپنی اولاد کے لئے صرف جائیداد چھوڑنا چاہتا ہوں یا کوئی مثبت روایت بھی؟

5. کیا لوگ مجھے میرے بزرگوں کے نام سے جانیں گے یا میرے اپنے کردار سے؟

اگر انسان ان سوالات کا باقاعدگی سے جائزہ لیتا رہے تو خاندانی عظمت اس کے لئے غرور نہیں بلکہ ذمہ داری بن سکتی ہے۔

اصل کامیابی

زندگی کا مقصد کسی گزرے ہوئے عہد کا وارث بننا نہیں، اپنے زمانے میں مفید انسان بننا ہے۔

تاج ختم ہوجاتا ہے، محل بدل جاتے ہیں، زمینیں تقسیم ہوجاتی ہیں، حکومتیں آتی جاتی ہیں، مگر علم، کردار، خدمت اور اچھا اثر انسان کے بعد بھی باقی رہ سکتا ہے۔

اس لئے ماضی پر فخر کیجیے، مگر اس کا قیدی نہ بنیے۔

اپنے بزرگوں کا احترام کیجیے، مگر ان کے نام کو اپنی کامیابی کا متبادل نہ بنائیے۔

کیونکہ انسان کی سب سے بڑی پہچان یہ نہیں کہ اس کے دادا کیا تھے؛ بلکہ یہ ہے کہ وہ خود کیا بنا، اس نے دوسروں کے لئے کیا کیا، اور اپنے بعد کیا چھوڑ گیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha