تحریر: سیدہ ناظمہ حسینی
سیرتِ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی روشنی میں خواتین کی علمی و فکری ترقی
علم انسان کی زندگی کو روشنی عطا کرتا ہے، شعور کو بیدار کرتا ہے اور شخصیت کو نکھارتا ہے۔ خصوصاً ایک عورت کی زندگی میں علم کی اہمیت بہت زیادہ ہے، کیونکہ وہ نہ صرف اپنی شخصیت کی تعمیر کرتی ہے بلکہ خاندان اور معاشرے کی فکری و اخلاقی تربیت میں بھی بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ اسی لیے علم کا حصول عورت کے لیے محض ذاتی ضرورت نہیں، بلکہ ایک اہم ذمہ داری بھی ہے۔
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی مبارک زندگی خواتین کے لیے ایک عظیم نمونۂ عمل ہے۔ آپؑ عبادت، اخلاق، علم، بصیرت اور حق شناسی میں بلند مقام رکھتی تھیں۔ آپؑ کے خطبات، بالخصوص خطبۂ فدکیہ، آپ کے گہرے علمی شعور، قرآنی بصیرت اور حق و باطل میں امتیاز کرنے کی صلاحیت کی روشن دلیل ہیں۔ آپؑ کی سیرت ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ ایک خاتون علم و معرفت کے ذریعے اپنی شخصیت کو بلند کرنے کے ساتھ معاشرے کی فکری رہنمائی بھی کر سکتی ہے۔
علم کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا
زندگی میں شادی، ماں بننا، گھر کی ذمہ داریاں اور ملازمت جیسے مختلف مراحل آتے ہیں۔ ان ذمہ داریوں کے ساتھ عورت کا وقت اور توانائی تقسیم ہو جاتی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ علم حاصل کرنے کا سلسلہ ترک کر دے۔
یاد رکھیے! شادی علم کے دروازے بند نہیں کرتی، ماں بننا سیکھنے کے عمل کو ختم نہیں کرتا اور گھریلو ذمہ داریاں فکری ترقی کی راہ میں لازمی رکاوٹ نہیں بنتیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عورت اپنی مصروفیات کے درمیان علم کے لیے بھی وقت نکالے۔
علم حاصل کرنے کے لیے ضروری نہیں کہ ہر روز کئی گھنٹے مطالعہ کیا جائے۔ روزانہ چند صفحات پڑھنا، قرآن مجید کے ترجمے اور تفسیر کا مطالعہ کرنا، دینی مسائل سیکھنا یا کسی مستند عالم کی علمی گفتگو سننا بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ انسان سیکھنے کا جذبہ برقرار رکھے اور اپنے علم کو عمل میں تبدیل کرنے کی کوشش کرے۔
باشعور ماں، باشعور نسل
ایک ماں کی علمی ترقی کے اثرات صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہتے، بلکہ اس کی اولاد اور پورے خاندان پر مرتب ہوتے ہیں۔ ایک باشعور ماں اپنے بچوں کو صرف معلومات نہیں دیتی، بلکہ ان میں سوچنے، سوال کرنے، صحیح اور غلط میں فرق کرنے اور ذمہ داری کے ساتھ فیصلے کرنے کی صلاحیت بھی پیدا کرتی ہے۔
بچے صرف نصیحتوں سے نہیں سیکھتے، بلکہ اپنے والدین کے طرزِ عمل سے بھی بہت کچھ حاصل کرتے ہیں۔ جب وہ اپنی ماں کو کتاب پڑھتے، نئی باتیں سیکھتے اور اپنی اصلاح کرتے دیکھتے ہیں تو ان کے اندر بھی علم سے محبت پیدا ہوتی ہے۔
اسی لیے ماؤں کو چاہیے کہ وہ اپنی علمی ترقی کو بچوں کی تربیت کا اہم حصہ سمجھیں۔ کیونکہ ایک باشعور ماں اپنی اولاد کو صرف اپنا علم منتقل نہیں کرتی، بلکہ ان میں علم حاصل کرنے کا شوق، اچھے انتخاب کی صلاحیت اور حقیقت کو سمجھنے کی بصیرت بھی پیدا کرتی ہے۔
دینی علم اور عصرِ حاضر کے تقاضے
آج کا دور معلومات کی فراوانی اور تیز رفتار تبدیلیوں کا دور ہے۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے معلومات تک رسائی آسان بنا دی ہے، لیکن ہر دستیاب بات درست نہیں ہوتی۔ ایسے حالات میں خواتین کے لیے ضروری ہے کہ وہ دینی تعلیم کے ساتھ تحقیق، غور و فکر اور صحیح و غلط میں امتیاز کرنے کی صلاحیت بھی پیدا کریں۔
قرآن مجید کی پہلی وحی میں لفظ «اِقْرَأْ» یعنی ’’پڑھیے‘‘ علم و مطالعے کی اہمیت کو نمایاں کرتا ہے۔ خواتین کو چاہیے کہ وہ قرآن و اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات سے وابستہ رہتے ہوئے اپنی علمی صلاحیتوں میں اضافہ کریں۔ دینی علم انہیں اپنے عقائد، عبادات اور اخلاق کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیتا ہے، جبکہ دیگر مفید علوم انہیں بچوں کی تعلیم، معاشرتی مسائل اور زندگی کے مختلف چیلنجز سے حکمت کے ساتھ نمٹنے کے قابل بناتے ہیں۔
روزانہ علم کے لیے وقت نکالیے
اے میری عزیز بہنو اور ماؤں! جس طرح آپ اپنے گھر والوں کی ضروریات کا خیال رکھتی ہیں، اسی طرح اپنی فکری اور روحانی نشوونما کا بھی اہتمام کیجیے۔ روزانہ اپنے لیے علم کا ایک مختصر حصہ مخصوص کر لیجیے۔ کبھی قرآن مجید کا ترجمہ پڑھیے، کبھی سیرتِ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا مطالعہ کیجیے اور کبھی اپنی بیٹیوں کے ساتھ کسی مفید علمی موضوع پر گفتگو کیجیے۔
علم حاصل کرنے کے لیے بہترین حالات کا انتظار نہ کیجیے، بلکہ دستیاب وقت اور وسائل سے آغاز کیجیے۔ مسلسل چھوٹی چھوٹی کوششیں وقت کے ساتھ بڑی تبدیلی کا سبب بن سکتی ہیں۔
اختتامیہ
پھول اپنی خوشبو سے ماحول کو معطر کرتا ہے، اسی طرح ایک علم دوست عورت اپنے علم، اخلاق، حکمت اور کردار سے اپنے گھر اور معاشرے کو روشن کر سکتی ہے۔ جس طرح پھول کو کھلنے کے لیے روشنی، پانی اور نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح عورت کی علمی نشوونما کے لیے مطالعہ، رہنمائی اور حوصلہ افزائی ضروری ہے۔
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت سے روشنی حاصل کرتے ہوئے ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم علم حاصل کرنے کو زندگی کے کسی ایک مرحلے تک محدود نہیں رکھیں گے۔ ہم خود بھی سیکھیں گے، اپنی بیٹیوں کو بھی علم کی طرف راغب کریں گے اور اپنی آنے والی نسلوں میں شعور، اخلاق اور معرفت کی بنیاد مضبوط کریں گے۔
لہٰذا، پھول جیسی بنو، اور علم حاصل کرو!
اپنی ذمہ داریوں کے درمیان علم کے لیے وقت نکالو، اپنے شعور کو روشن رکھو اور اپنی شخصیت کو علم و عمل سے سنوارو؛ کیونکہ ایک باشعور عورت صرف اپنی زندگی کو روشن نہیں کرتی، بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی روشنی کا چراغ بن جاتی ہے۔
علم حاصل کرو، خود کو پہچانو، اپنی نسلوں کو سنوارو اور اپنے علم کو خدمتِ دین و انسانیت کا وسیلہ بناؤ۔










آپ کا تبصرہ