اتوار 11 اکتوبر 2026 - 18:58
ممبئی میں مولانا سید ابوالقاسم رضوی کی والدۂ مرحومہ کی مجلسِ چہلم، علماء و خطباء اور مومنین کی بڑی تعداد میں شرکت

حوزہ/ مولانا سید ابوالقاسم رضوی کی والدۂ مرحومہ کی مجلسِ چہلم سے خطاب کرتے ہوئے مولانا سید حسین مہدی حسینی نے ماں کی عظمت، بے مثال محبت، تربیت اور قربانیوں کو اجاگر کرتے ہوئے والدین کے احترام اور ان کی خدمات کو یاد رکھنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ممبئی/ حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید ابوالقاسم رضوی کی والدۂ مرحومہ کی مجلسِ چہلم اتوار، 11 اکتوبر کو صبح 10:30 بجے مسجدِ ایرانیان (مغل مسجد)، بھنڈی بازار، ممبئی میں نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد ہوئی۔ مجلس میں ممبئی اور اطراف کے علاقوں سے علماء و خطباء، شعرائے کرام، دینی و سماجی شخصیات اور مومنین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ہندوستان کے مختلف شہروں اور بیرونِ ملک سے آئے ہوئے اعزہ و احباب نے بھی شرکت کرکے مرحومہ کے ایصالِ ثواب اور اہلِ خانہ سے اظہارِ تعزیت کیا۔

ممبئی میں مولانا سید ابوالقاسم رضوی کی والدۂ مرحومہ کی مجلسِ چہلم، علماء و خطباء اور مومنین کی بڑی تعداد میں شرکت

تلاوتِ قرآن مجید سے مجلس کا آغاز

مجلس کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کی سعادت مرحومہ کے سب سے چھوٹے فرزند سید محمد باقر نے حاصل کی۔ ان کے بعد معروف قاریِ قرآن مولانا یونس ماہلی نے اپنے مخصوص انداز میں تلاوتِ قرآن مجید کی۔ مجلس کی نظامت کے فرائض معروف شاعرِ اہلِ بیت جناب نصیر اعظمی نے انجام دیے۔

منظوم خراجِ عقیدت کے سلسلے کا آغاز مولانا شجر اعظمی نے کیا۔ بعد ازاں مولانا یونس ماہلی نے ماں کی عظمت، محبت اور قربانیوں کے موضوع پر ایک پُراثر نظم پیش کی، جس نے حاضرین کے دلوں کو متاثر کیا اور مجلس میں جذباتی فضا قائم کردی۔

استاد الشعراء جناب مشہود داناپوری نے عزاداریِ امام حسین علیہ السلام کے موضوع پر اپنی خوب صورت نظم پیش کرکے اہلِ بیت علیہم السلام سے عقیدت کا اظہار کیا۔ اس کے بعد مہمانِ سوزخواں سید شبیہ الحسن نے اپنے مخصوص انداز میں سوزخوانی کی، جس سے مجلس میں رقت و گریہ کی کیفیت پیدا ہوئی۔

ممبئی میں مولانا سید ابوالقاسم رضوی کی والدۂ مرحومہ کی مجلسِ چہلم، علماء و خطباء اور مومنین کی بڑی تعداد میں شرکت

مولانا سید حسین مہدی حسینی کا بصیرت افروز خطاب

مجلس کے مرکزی خطاب سے حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید حسین مہدی حسینی نے حاضرین کو مستفید کیا۔ انہوں نے سورۂ یٰسین کی آیت نمبر 13 کو موضوعِ گفتگو بناتے ہوئے حیات و آثار کے حوالے سے ایک جامع، علمی اور بصیرت افروز خطاب پیش کیا۔

مولانا نے اپنے خطاب میں والدین کی عظمت، اولاد کے ساتھ ان کے گہرے تعلق اور بالخصوص ماں کی بے مثال محبت، شفقت، تربیت اور قربانیوں کو موضوعِ سخن بنایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ماں کی محبت اور اس کی بے لوث خدمات کا کوئی نعم البدل نہیں۔ اولاد کی زندگی میں ماں کی تربیت، دعاؤں، شفقت اور ایثار کے اثرات عمر بھر باقی رہتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ والدین کا احترام، ان کی خدمت اور ان کے احسانات کو یاد رکھنا محض ایک معاشرتی روایت نہیں بلکہ دینی، اخلاقی اور انسانی ذمہ داری ہے۔ ایک صالح ماں اپنی تربیت اور کردار کے ذریعے ایسی نسل تیار کرتی ہے جس کے اثرات خاندان اور معاشرے تک پہنچتے ہیں۔

مولانا سید حسین مہدی حسینی نے مرحومہ کے حسنِ اخلاق، مہمان نوازی، خلوص اور بہترین تربیت کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے ان کی شخصیت کے نمایاں پہلوؤں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے ماں کی عظمت کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اس حقیقت کی جانب توجہ دلائی کہ والدہ کی خدمات اور قربانیوں کو یاد رکھنا اور ان کے لیے دعا و ایصالِ ثواب کا اہتمام کرنا اولاد کی اہم ذمہ داریوں میں شامل ہے۔

مجلس میں نوحہ خوانی کے فرائض جناب وسیم رضوی نے انجام دیے۔

ممبئی میں مولانا سید ابوالقاسم رضوی کی والدۂ مرحومہ کی مجلسِ چہلم، علماء و خطباء اور مومنین کی بڑی تعداد میں شرکت

سرکار شمیم الملت کی شرکت، علماء و خطباء کا اجتماع

مجلسِ چہلم کی ایک نمایاں خصوصیت بزرگ عالمِ دین سرکار شمیم الملت آیت اللہ مولانا سید شمیم الحسن، عمید جامعہ جوادیہ، کی شرکت تھی۔ آپ نے علالت اور پیرانہ سالی کے باوجود مجلس میں شرکت فرما کر اہلِ خانہ سے اظہارِ ہمدردی و تعزیت کیا۔ ان کی شرکت حاضرین کے لیے باعثِ احترام اور اہلِ خاندان کے لیے حوصلہ افزا تھی۔

مجلس میں شرکت کرنے والے علماء و خطباء میں مولانا سید ضمیر الحسن بنارس، مولانا سید ظہیر عباس، مولانا سید کلب حسن، مولانا سید محمد ذکی حسن نوری، مولانا سید محمد قیصر، مولانا سید حسن امام، مولانا ڈاکٹر سید محمد علی عون نقوی، مولانا دعبل خان، مولانا شیخ محمد یوسف، مولانا سید علی عباس، مولانا سید نذیر عابدی، مولانا حسن رضا موسوی، مولانا عادل حسین، مولانا روح ظفر رضوی، مولانا نجیب الحسن زیدی، مولانا اصغر عباس، مولانا نیاز حسین، مولانا اکبر حسین جعفری، مولانا سید عابد رضا رضوی ، مولانا شیخ محسن ناصری، مولانا محمد عباس شمسی، مولانا فرمان موسوی، مولانا عزیز حیدر، مولانا شوکت عباس، مولانا افسر حسین، مولانا صابر حسین، مولانا یونس حیدر ماہلی، مولانا عاشق علی، مولانا جوہر عباس خاں اور مولانا علی اصغر حیدری شامل تھے۔

علماء و خطباء، شعرائے کرام اور مومنین کی بڑی تعداد میں شرکت نے مجلس کی دینی و روحانی اہمیت کو نمایاں کیا۔ شرکاء نے مرحومہ کے لیے دعائے مغفرت اور ایصالِ ثواب کے ساتھ مولانا سید ابوالقاسم رضوی اور دیگر اہلِ خانہ سے تعزیت و ہمدردی کا اظہار کیا۔

ممبئی میں مولانا سید ابوالقاسم رضوی کی والدۂ مرحومہ کی مجلسِ چہلم، علماء و خطباء اور مومنین کی بڑی تعداد میں شرکت

مولانا سید ابوالقاسم رضوی کا اظہارِ تشکر

مجلس کے اختتام پر حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید ابوالقاسم رضوی نے تمام علماء، خطباء، شعرائے کرام، معزز شخصیات، مومنین، اعزہ و احباب اور ان تمام افراد کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے مجلس میں شرکت کرکے یا دیگر ذرائع سے تعزیت و ہمدردی کا اظہار کیا۔ ہندوستان کے مختلف شہروں اور بیرونِ ملک سے احباب کی شرکت اہلِ خاندان کے ساتھ ان کی محبت اور تعلق کا مظہر تھی۔

آخر میں مرحومہ کے ایصالِ ثواب کے لیے دعا کی گئی اور بارگاہِ خداوندی میں ان کی مغفرت، بلندیِ درجات اور جوارِ رحمتِ اہلِ بیت علیہم السلام میں اعلیٰ مقام کی التجا کی گئی۔ پسماندگان کے لیے صبرِ جمیل، اجرِ عظیم اور سکونِ قلب کی دعا کے ساتھ مجلس اختتام پذیر ہوئی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha