جمعہ 30 اکتوبر 2026 - 18:58
اہلِ بیتؑ کی تعلیمات سے دوری امتِ مسلمہ کے انتشار اور حقیقی اسلامی شناخت سے محرومی کا بنیادی سبب ہے: آغا سید لیاقت حسین موسوی

حوزہ/ جامع مسجد امام رضا گنڈ حسی بٹ میں نمازِ جمعہ کے خطاب کے دوران حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید لیاقت حسین موسوی نے کہا کہ امتِ مسلمہ کی نجات، اتحاد اور حقیقی اسلامی شناخت کا انحصار قرآن و عترت سے مضبوط وابستگی اور اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے میں ہے؛ کیونکہ ان سے دوری نے مسلمانوں کو فکری انتشار اور تہذیبی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،گنڈ حسی بٹ/ ایامِ فاطمیہ کے سلسلے میں جامع مسجد امام رضا گنڈ حسی بٹ، سرینگر میں نمازِ جمعہ کا انعقاد ہوا، جس میں خطابت و امامت کے فرائض حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید لیاقت حسین موسوی نے انجام دیے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت، مقام و منزلت اور خانۂ نبوت و امامت کی مرکزی حیثیت پر روشنی ڈالتے ہوئے امتِ مسلمہ کو قرآن و عترت سے متمسک رہنے کی تلقین کی۔

انبیائے الٰہی کی بعثت؛ انسان کی ہدایت و تربیت

آغا سید لیاقت حسین موسوی نے کہا کہ خداوندِ متعال نے انبیائے کرام علیہم السلام کو انسانوں کی ہدایت و تربیت، عہدِ ازل کی یاد دہانی اور زمین پر عدل و انصاف کے قیام کے لیے مبعوث فرمایا۔ پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انسانیت کے عظیم ترین معلم اور مربی ہیں، اور آپؐ کے حقیقی پیروکار وہ ہیں جو آپؐ کے اخلاق، صفات اور کمالات کو اپنی زندگی میں اپنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

انہوں نے مختلف اصحابِ رسولؐ کی مثالیں پیش کرتے ہوئے کہا کہ ابوذر غفاری اور سلمان فارسی رضوان اللہ تعالیٰ علیہما نے ایمان و معرفت کے بلند مراتب حاصل کیے۔ تاہم، پیغمبرِ اکرمؐ کے کامل ترین تربیت یافتگان وہ ہستیاں ہیں جنہوں نے خانۂ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا میں پرورش پائی۔ ان میں حضرت فاطمہ زہرا، امیرالمؤمنین حضرت علی، امام حسن اور امام حسین علیہم السلام شامل ہیں، جنہوں نے کمالاتِ نبوی سے بھرپور فیض حاصل کیا، البتہ آپؐ کے بعد نبوت کا کوئی منصب انہیں حاصل نہیں تھا۔

خانۂ زہرا سلام اللہ علیہا؛ اسوۂ نبوی کا کامل مظہر

آغا سید لیاقت حسین موسوی نے آیتِ کریمہ «قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَىٰ» کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خانۂ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سیرتِ پیغمبرؐ کا عملی مظہر اور امت کے لیے ہدایت و تربیت کا عظیم مرکز ہے۔ اس گھرانے کی ہستیاں امت کے لیے اسوۂ حسنہ ہیں، جن کی سیرت میں علم، طہارت، عصمت، عبادت، اخلاق اور بندگیِ خدا کے اعلیٰ نمونے جلوہ گر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مختلف مواقع پر اہلِ بیت علیہم السلام کی عظمت اور ان کے مقام و مرتبے کو امت کے سامنے واضح فرمایا۔ میدانِ مباہلہ، غزوۂ خندق اور واقعۂ غدیر سمیت مختلف مواقع پر آپؐ نے اہلِ بیتؑ کی فضیلت اور اہمیت کو نمایاں کیا۔ اسی طرح روایت کے مطابق، آپؐ چھ ماہ تک ہر صبح حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے گھر کے دروازے پر تشریف لے جاتے اور اہلِ بیتؑ کو آیتِ تطہیر کے ذریعے یاد دلاتے کہ یہ گھر مرکزِ طہارت و پاکیزگی ہے۔

مزید کہا کہ خانۂ زہرا سلام اللہ علیہا ایسا دروازہ ہے جہاں سے انسان کو دین، معرفت، معنویت اور حقیقی رہنمائی حاصل ہوتی ہے۔ مومن کو چاہیے کہ وہ اس گھرانے کی تعلیمات سے وابستہ رہے اور اپنی زندگی کو ان کی سیرت کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے۔

اہلِ بیتؑ سے دوری؛ امت کے انتشار کا سبب

آغا سید لیاقت حسین موسوی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امتِ مسلمہ نے رفتہ رفتہ اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات سے دوری اختیار کی، جس کے نتیجے میں امت کا اتحاد کمزور ہوا اور مسلمان مختلف فکری و عملی راستوں میں بٹ گئے۔ انہوں نے کہا کہ جب امت نے ہدایت کے اس سرچشمے کو نظرانداز کیا تو وہ اپنی حقیقی دینی شناخت سے بھی دور ہوتی چلی گئی۔

انہوں نے امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف سے منسوب اس تعلیم کا حوالہ دیا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا آپؑ کے لیے بہترین اسوہ ہیں۔ آغا صاحب کے مطابق، یہ حقیقت حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے عظیم مقام اور ہدایتِ انسانی میں آپؑ کی مرکزی حیثیت کو واضح کرتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج دنیا بے چینی، بے قراری اور مختلف بحرانوں سے دوچار ہے، اور اس کی بنیادی وجوہ میں الٰہی ہدایت اور اہلِ بیتؑ کی تعلیمات سے دوری بھی شامل ہے۔ مسلمانوں نے اسلامی تعلیمات کے حصول میں ایسے فکری رجحانات کی پیروی کی جو اسلامی اقدار سے ہم آہنگ نہیں، جس کے باعث وہ مشرقی یا مغربی شناخت تو اختیار کرگئے، لیکن حقیقی اسلامی تعلیمات سے دور ہوتے چلے گئے۔

نہ مشرقی، نہ مغربی؛ بلکہ اسلامی شناخت

آغا سید لیاقت حسین موسوی نے انقلابِ اسلامی ایران اور حضرت امام خمینی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے نظریے کا حوالہ دیتے ہوئے «لَا شَرْقِيَّةَ وَلَا غَرْبِيَّةَ، إِسْلَامِيَّةَ إِسْلَامِيَّةَ» کے پیغام کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی اصل شناخت اسلامی ہونی چاہیے، نہ کہ مشرق و مغرب کے فکری و تہذیبی رجحانات کی اندھی پیروی۔

انہوں نے کہا کہ خانۂ نبوت و امامت امت کے لیے محورِ اتحاد اور مرکزِ ہدایت ہے، لیکن جب مسلمان اس گھرانے کی تعلیمات کو چھوڑ کر دوسرے راستوں پر چلنے لگتے ہیں تو ان کی اجتماعی قوت اور دینی بصیرت متاثر ہوتی ہے۔

مسلم ممالک میں اسلامی احکام سے دوری پر تشویش

آغا سید لیاقت حسین موسوی نے موجودہ مسلم معاشروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بعض ممالک میں حکمران اسلامی نام تو استعمال کرتے ہیں، لیکن عملی طور پر بنیادی اسلامی احکام سے دوری اختیار کی جا رہی ہے۔ انہوں نے آذربائیجان کی مثال پیش کرتے ہوئے پردے کے معاملے اور سیکولر رجحانات پر تنقید کی۔ اسی طرح بعض عرب ممالک میں مغربی تہذیب کے بڑھتے ہوئے اثرات اور اسلامی قوانین و اقدار سے فاصلے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

ان کے مطابق، یہ صورتِ حال اہلِ بیتؑ کی تعلیمات اور امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی رہنمائی سے دوری کے نتائج میں سے ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مسلمانوں کو اپنی دینی شناخت، اسلامی اقدار اور قرآن و عترت سے وابستگی کی حفاظت کرنی چاہیے۔

نجات کا راستہ؛ قرآن و عترت سے تمسک

خطاب کے اختتام پر آغا سید لیاقت حسین موسوی نے کہا کہ دنیا و آخرت میں نجات کا بنیادی راستہ قرآنِ مجید اور عترتِ رسولؐ سے مضبوط وابستگی اور امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی تعلیمات سے دین حاصل کرنا ہے۔ انہوں نے امتِ مسلمہ کو دعوت دی کہ وہ اہلِ بیتؑ کی سیرت کو اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کا حصہ بنائیں، تاکہ اتحاد، بصیرت اور حقیقی اسلامی شناخت کو فروغ دیا جاسکے۔

آخر میں انہوں نے امتِ اسلامیہ کی سربلندی، مسلمانوں کے اتحاد اور انقلابِ اسلامی ایران کی کامیابی و سربلندی کے لیے دعا فرمائی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha