حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے صدر، حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن موسوی الصفوی نے کہا ہے کہ عاشورا کا ابدی پیغام ہر دور میں حق، عدل اور انسانی وقار کے تحفظ اور سربلندی کا درس دیتا ہے، جبکہ حضرت امام حسینؑ کی تحریک آج بھی ظلم، باطل اور اخلاقی انحطاط کے خلاف ایک دائمی مشعل راہ ہے۔

آغا سید حسن موسوی الصفوی نے یہ خیالات بہشتی زہراء (س) پارک، ڈپٹی کمشنر آفس بڈگام میں یوم عاشورا کے موقع پر نماز جمعہ سے قبل اپنے خطبۂ جمعہ میں اظہار کیے۔ جہاں یوم عاشورا کے موقع پر روایتی ذوالجناح جلوس ہر سال نماز باجماعت کے لیے توقف کرتا ہے۔ اس سال عاشورا جمعہ کے دن ہونے کے باعث ہزاروں عزاداروں نے جلوس کی روانگی سے قبل نماز جمعہ میں شرکت کی۔
اپنے خطاب میں آغا سید حسن نے کہا کہ عاشورا محض دس محرم کا ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک ابدی منشور ہے جو ہر دور میں حق و باطل، عدل و ظلم اور الٰہی اقدار و دنیاوی مفادات کے درمیان واضح امتیاز قائم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ واقعۂ کربلا دو لشکروں کے درمیان جنگ نہیں بلکہ دو متضاد نظریات کا ٹکراؤ تھا؛ ایک نظریہ ایمان، عدل، عزت اور اطاعت الٰہی پر قائم تھا جبکہ دوسرا ظلم، اقتدار پرستی، مادہ پرستی اور جبر کا نمائندہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے نہ اقتدار کے حصول اور نہ کسی ذاتی مفاد کے لیے قیام کیا بلکہ امت مسلمہ کی اصلاح اور رسول اکرم حضرت محمد ؐ کی لائی ہوئی حقیقی اسلامی تعلیمات کے احیاء کے لیے اپنی عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ کربلا کا آغاز میدان کربلا سے بہت پہلے ہو چکا تھا، جب معاشرہ حق سے دور ہونے لگا، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ذمہ داریوں کو فراموش کر دیا گیا اور دنیاوی مفادات کو الٰہی اصولوں پر ترجیح دی جانے لگی۔
صدر انجمن نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کا یزید کی بیعت سے انکار دراصل اسلام کی اصل شناخت اور اس کے مستقبل کے تحفظ کے لیے ایک شعوری اور اصولی فیصلہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ظلم کے سامنے خاموشی اختیار کرنا درحقیقت باطل کو جواز فراہم کرنا ہے اور تاریخ میں ایسے مواقع آتے ہیں جب خاموش رہنا خود ایک جرم بن جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کربلا کا بنیادی سبق یہ ہے کہ کامیابی کا معیار دنیاوی مفادات نہیں بلکہ الٰہی ذمہ داریوں کی ادائیگی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حق پر ثابت قدم رہنا کبھی ناکامی نہیں، خواہ بظاہر دنیاوی اعتبار سے شکست ہی کیوں نہ دکھائی دے۔
آغا سید حسن نے حضرت امام حسینؑ کے باوفا اصحاب کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایمان، بصیرت، ایثار اور وفاداری کی بے مثال مثالیں ہیں۔ ان کی عظیم قربانیاں اس حقیقت کو آشکار کرتی ہیں کہ امام برحق کی صحیح معرفت اور حق پر کامل یقین انسان کو موت کے سامنے بھی ثابت قدم رکھتا ہے۔
انہوں نے بصیرت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ محض عبادت انسان کی نجات کے لیے کافی نہیں، بلکہ حق، قیادت اور دینی ذمہ داریوں کی درست پہچان بھی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ واقعۂ کربلا میں بہت سے لوگ حق کو پہچانتے تھے لیکن خوف، دنیا طلبی اور مصلحت پسندی کے باعث اس کا ساتھ نہ دے سکے۔
موجودہ دور سے واقعۂ کربلا کا تقابل کرتے ہوئے آغا سید حسن نے کہا کہ حق و باطل کی کشمکش ہر زمانے میں جاری رہتی ہے، اگرچہ آج ظلم فکری یلغار، ثقافتی جارحیت، گمراہ کن پروپیگنڈے اور اطلاعاتی تحریف کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ انہوں نے اہل ایمان پر زور دیا کہ وہ حق، عدل اور مظلوموں کی حمایت میں ثابت قدم رہیں اور حقیقت کو مسخ کرنے کی ہر کوشش کے خلاف بیدار رہیں۔
انہوں نے حضرت زینبؑ اور حضرت امام علی زین العابدینؑ کے تاریخی کردار کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ واقعۂ کربلا کے بعد انہی عظیم ہستیوں نے صبر، استقامت اور جراتمندانہ خطابات کے ذریعے پیغام عاشورا کو محفوظ رکھا اور اسے شعور، بیداری اور مزاحمت کی ایک دائمی تحریک میں تبدیل کر دیا۔
انہوں نے عزاداروں پر زور دیا کہ وہ عزاداری کے حقیقی مقصد پر غور کریں۔ انہوں نے کہا کہ مجالس، جلوس اور دیگر عزائی اجتماعات ایمان کو مضبوط بنانے، دینی شعور کو فروغ دینے، اخلاقی ذمہ داریوں کا احساس پیدا کرنے اور معاشرے میں عدل کے قیام اور ظلم کے خلاف مزاحمت کا جذبہ بیدار کرنے کا ذریعہ بننے چاہئیں۔ انہوں نے اہل ایمان پر زور دیا کہ وہ حضرت امام حسینؑ کے نظریات کے ساتھ اپنے عہد کی تجدید کریں اور اپنی زندگی کو حق، دیانت اور استقامت کے اصولوں کے مطابق ڈھالیں۔

آغا سید حسن موسوی الصفوی نے کہا کہ کربلا ایک آفاقی انسانی تحریک ہے جس کا پیغام مذہب، نسل اور جغرافیائی حدود سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ صرف مسلمانوں ہی کے نہیں بلکہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے انسانوں کے لیے بھی عدل، آزادی، انسانی وقار اور ظلم کے خلاف مزاحمت کی عظیم علامت ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ واقعۂ کربلا کو محض ایک سیاسی، قبائلی یا تاریخی واقعہ قرار دینا اس کے آفاقی اور الٰہی مقصد کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق کربلا کو اخلاقی اصلاح، سماجی انصاف، انسانی بیداری اور اسلامی اقدار کے تحفظ کی ایک جامع تحریک کے طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر آغا سید حسن نے علماء، دانشوروں، تعلیمی اداروں، دینی تنظیموں اور ذرائع ابلاغ پر زور دیا کہ وہ پیغام کربلا کو اس کے حقیقی آفاقی تناظر میں دنیا کے سامنے پیش کریں۔ انہوں نے کہا کہ کربلا کی حقیقی حفاظت صرف اس کے واقعات بیان کرنے میں نہیں بلکہ اس کے مقاصد، اقدار اور انقلابی پیغام کو آنے والی نسلوں تک منتقل کرنے میں مضمر ہے تاکہ حضرت امام حسینؑ کے افکار انسانیت کو عدل، اتحاد، وقار اور اخلاقی سربلندی کی راہ دکھاتے رہیں۔
اپنے خطبۂ جمعہ کے اختتامی حصے میں آغا سید حسن موسوی الصفوی نے فلسطین، بالخصوص غزہ میں جاری مظالم اور سنگین انسانی المیے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے ظلم و خونریزی کے فوری خاتمے، فلسطینی عوام کی آزادی، امن اور باوقار زندگی کے لیے بارگاہ الٰہی میں خصوصی دعا کی۔

انہوں نے فلسطین، غزہ، لبنان اور ایران کے شہداء کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ عدل، انسانی وقار اور ظلم کے خلاف مزاحمت کے لیے ان کی عظیم قربانیاں ہمیشہ انسانیت کے ضمیر کو بیدار کرتی رہیں گی۔ انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی اور ان کے لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا بھی کی۔
صدر انجمن نے اسلامی جمہوریہ ایران میں پائیدار امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بھی خصوصی دعا کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے التجا کی کہ وہ ایران کی قیادت اور عوام کی حفاظت فرمائے، اس کی خودمختاری کو مضبوط رکھے اور اسے تمام اندرونی و بیرونی سازشوں اور خطرات سے محفوظ رکھے۔









آپ کا تبصرہ